61

ضمنی انتخابات، حکمران جماعت قومی اسمبلی کے 11حلقوں میں سے صرف3نشستیں جیت سکی ،پنجاب اسمبلی کے 11میں سے8حلقوں میں مسلم لیگ (ن)3،پاکستان تحریک انصاف3اور 2آزاد امیدوار کامیاب، خیبر پختونخوا اسمبلی کے9حلقوں میں 6نشستیں تحریک انصاف جیت گئی

اسلام آباد/لاہور/کراچی/ پشاور/مستونگ (آئی این پی)ضمنی انتخابات2018میں حکمران جماعت تحریک انصاف قومی اسمبلی کے 11حلقوں میں سے صرف3نشستیں جیت سکی ۔ مسلم لیگ (ن)4،پاکستان مسلم لیگ (ق)2 اور ایم ایم اے1 سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ شاہد خاقان عباسی ،خواجہ سعد رفیق جیت گئے،تحریک انصاف عمران خان کی چھوڑی ہوئی 4میں سے 2نشستیں ہار گئی۔آخری اطلاعات آنے تک قومی اسمبلی کے حلقے این اے60راولپنڈی میں تحریک انصاف کے شیخ راشد شفیق اور مسلم لیگ (ن)کے سجاد خان میں سخت مقابلہ ہے۔پنجاب اسمبلی کے 11میں سے8حلقوں کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن)3،پاکستان تحریک انصاف3اور 2آزاد امیدوار کامیاب

ہوئے ،جبکہ3حلقوں میں ن لیگ اور تحریک انصاف میں سخت مقابلہ ہے۔ غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کے9حلقوں میں سے 6نشستیں حکمران جماعت تحریک انصاف جیتنے میں کامیاب ہو گئی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی2اور پاکستان مسلم لیگ (ن)ایک نشست جیت سکیں۔غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق سند ھ اسمبلی کے2حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی۔بلوچستان اسمبلی کی ایک نشست بلوچستان نیشنل پارٹی نے جیتنی جبکہ پی بی 35مستونگ میں آزاد امیدوار نواب اسلم رئیسانی کو برتری حاصل ہے ۔ملکی تاریخ میں پہلی بار سمندر پار پاکستانیوں نے بھی انتخابات میں اپنا حق رائے دہی کا استعمال کیا ،ضمنی انتخابات میں 7ہزار 364 رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 6ہزار 233ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیاآئی ووٹنگ کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کا ٹرن آؤٹ 83.5فیصد رہا،آئی ووٹنگ کے ذریعے کاسٹ کئے گئے ووٹوں کونتائج میں شامل کرنے کا فیصلہبعد میں کیا جائے گا ۔اتوار کو ملک کے 35حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل 8بجے شروع ہوا جو شام 5بجے تک بلاتعطل جاری رہا۔ قومی اسمبلی کے 11اورصوبائی اسمبلی کے 24حلقوں میں 370امیدوار کے درمیان مقابلہ ہوا جس کیلئے 95لاکھ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے۔ پنجاب میں قومی اسمبلی کی 8( این اے 56 اٹک ،این اے 60راولپنڈی، این اے 63راولپنڈی، این اے 103فیصل آباد، این اے 65چکوال، این اے 69گجرات، این اے 124 لاہور، این اے 131لاہور)، سندھ (این اے 243کراچی)، خیبر پختونخوا (این اے 35بنوں)اور اسلام آباد میں(این اے 53)پر انتخابات ہوئے جبکہ پنجاب اسمبلی کی 11، خیبر پختونخوا کی 9، سندھ کی 2اور بلوچستان کی بھی 2نشستوں پر ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ ہوئی۔92لاکھ 83ہزار 74ووٹرز کو حق رائے دہی کی سہولت دینے کیلئے ساڑھے 7ہزار پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے جن میں سے1727پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا۔ضمنی انتخابات میں 40ہزار سے زائد پاک فوج کے جوان نے فرائض سرانجام دیے جب کہ ایک لاکھ سے زائد پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے فوجی جوان بھی پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر تعینات رہے۔ملکی تاریخ میں پہلی بار سمندر پار پاکستانیوں نے بھی انتخابات میں اپنا حق رائے دہی کا استعمال کیا ،ضمنی انتخابات میں 7ہزار 364 رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 6ہزار 233ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیاآئی ووٹنگ کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کا ٹرن آؤٹ 83.5فیصد رہا ،قومی اسمبلی کے 5ہزار 117ووٹ آئی ووٹنگ کے ذریعے کاسٹ ہوئے ، جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے ایک ہزار 116ووٹ آئی ووٹنگ کے ذریعے کاسٹ ہوئے۔الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق آئی ووٹنگ کے ذریعے کاسٹ کئے گئے ووٹوں کونتائج میں شامل کرنے کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا ۔ غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق این اے 56اٹک سے تحریک انصاف کے امیدوار طاہر صادق کی چھوڑی ہوئی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے ملک سہیل خانسے 1لاکھ 25 ہزار 665 ووٹ لے کرکامیاب ہوئے جبکہ ان کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار خرم علی89 ہزار 709 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے چھوڑی گئی نشست این اے 35بنوں میں سابق وفاقی وزیر اکرم خان درانی کے بیٹے زاہد اکرم درانی 51ہزار 144ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ تحریک انصاف کے نسیم علی شاہ32ہزار33ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔آخری اطلاعات آنے تک این اے 60راولپنڈی سے تحریک انصاف کے امیدوار اور شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق 35234ووٹ لیکر آگے ہیں اور مسلم لیگ ن کے امیدوار ملک سجاد خان 35075ووٹ لیکر پہلے دوسرے نمبر پر ہیں۔غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 63راولپنڈی 7- سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار منصور حیات خان 64ہزار 42ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے جبکہ انکے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عقیل ملک 40ہزار 880ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ حلقہ این اے 65 چکوال سے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے امیدوار چوہدری سالک حسین 98ہزار 364ووٹ لیکر کامیاب ہوئے اور تحریک لبیک کے مفتی یعقوب نے 34ہزار 811ووٹ حاصل کرکے دوسری پوزیشن پر رہے۔قومی اسمبلی کے حلقے این اے 69گجرات میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری مونس الٰہی 61ہزار 723ووٹ لیکر کامیاب ہو ئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے عمران ظفر 19ہزار 867ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقے این اے 103فیصل آباد سے مسلم لیگ (ن)کے علی گوہر 76ہزار826ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ تحریک انصاف کے سعد اللہ بلوچ 63ہزار583ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔این اے 124لاہور سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی 75ہزار 12ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار غلام محی الدین 30ہزار115ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق این اے 131لاہور میں مسلم لیگ( ن) کے خواجہ سعد رفیق51ہزار 237ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے ہمایوں اخترخان44ہزار57ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے چھوڑی گئی نشست اسلام آباد کے حلقے این اے 53 میں تحریک انصاف کے امیدوار علی نواز اعوان 33ہزار 68ووٹس حاصل کرکے کامیاب ہوگئے اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار وقار احمد 19ہزار 344ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔سندھ میں این اے 243کراچی سے تحریک انصاف کے امیدوار عالمگیر خان35ہزار 727ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ایم کیو ایم کے عامر چشتی15ہزار113ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے۔غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 118ٹوبہ ٹیک سنگھمیں آزاد امیدوار چوہدری بلال اصغر 35ہزار 230ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار اسد زمان چیمہ 31ہزار 254ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔پی پی 164لاہور میں مسلم لیگ ( ن)کے سہیل شوکت بٹ کامیاب ہوئے، ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کے امیدوار یوسف علی کو ساڑھے 5ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 165 لاہورسے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ملک سیف الموک کھوکھر 28ہزار 589ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مد مقابل پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار محمد منشاء سندھو 23ہزار 149ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔پی پی 201ساہیوال سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما صمصام بخاری 58ہزار 390ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری طفیل جٹ 51ہزار 662ووٹ لیکر دوسرے نمبر رہے۔پی پی222ملتان میں سے آزاد امیدوارقاسم عباس خان 38ہزار327ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوارسہیل احمد نون31ہزار893ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔پی پی261رحیم یار خان سے پی ٹی آئی کے امیدوار فواز احمد29526ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل پیپلزپارٹی کے حسن رضا ہاشمی 14996ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔پی پی 292ڈی جی خان سے مسلم لیگ (ن)کے امیدوار سردار اویس احمد خان لغاری 33ہزار 776ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار مقصود لغاری 20ہزار823ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔پی پی 272کے انتخابی دنگل میں ماں نے بیٹے کو شکست دے دی۔ اس حلقے سے تحریک انصاف کی خاتون زہرہ بتول 24ہزار 19ووٹ لے کے کامیاب قرار پائیں جب کہ ان کے مدمقابل انکا بیٹا ہارون احمد سلطان آزاد امیدوار کی حیثیت سے سامنے آیا جس نے 17ہزار 72 ووٹ حاصل کیے۔ آخری اطلاعات آنے تک پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 103تاندلیانوالہ میں تحریک انصاف کے شمشیر حیدر 4ہزار 913ووٹ لے کر آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے جعفر علی 2ہزار 179ووٹ لے دوسرے نمبر پرہیں، جبکہ پی پی 3اٹک اور پی پی 27جہلم میں مسلم لیگ (ن)اور تحریک انصاف کے امیدواروں میں سخت مقابلہ ہے۔غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابقخیبر پختونخوا اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں سوات سے صوبائی اسمبلی کے حلقے پی کے 3کے تمام 98پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کے سردار خان 16824ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے جب کہ تحریک انصاف کے ساجد علی 15911 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔پی کے 7 سے اے این پی کے وقاراحمدکامیاب ہو گئے جبکہ تحریک انصاف کے فضل مولا دوسرے نمبر پر رہے۔پی کے 44صوابی کے تمام 161پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری غیرحتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے عاقب اللہ خان 18676ووٹ لے کر جیت گئے ہیں جب کہ اے این پی کے غلام حسین 17067ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔پی کے 53مردان میں 131میں پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے عبدالسلام آفریدی 19377ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ اے این پی کے امیدوار احمد خان بہادر 19318ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے ۔پی کے 61نوشہرہ سے پی ٹی آئی کے امیدوار محمد ابراہیم 14ہزار 600ووٹ لے کر جیت گئے جب کہ اے این پی کے امیدوار نور عالم خان 8ہزار 300ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔پی کے 64نوشہرہ سے تحریک انصاف کے لیاقت خٹک 22ہزار 775ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ اے این پی کے محمد شاہد 8ہزار 184ووٹ حاصل کر سکے۔پی کے 78پشاور کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق اے این پی کی ثمرہارون بلور 20ہزار916ووٹ لیکر کامیاب ہوئیں جبکہ تحریک انصاف کے عرفان عبدالسلام16819ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔پی کے 97ڈیرہ اسماعیل خان کے تمام 137پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری غیرحتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے فیصل امین خان 18170 ووٹ لے کر کامیاب رہے جب کہ پیپلز پارٹی کے فرحان افضل ملک 7609ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔پی کے 99ڈی آئی خان کے تمام 150پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے آغاز اکرام اللہ گنڈا پور30ہزار 330ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ آزاد امیدوار فتح اللہ خان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری جانب غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابقسندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس 30خیرپور سے پیپلزپارٹی کے احمد رضا شاہ 36890ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ ان کے مدمقابل جی ڈی اے کے محرم شاہ نے 21470ووٹ حاصل کئے اور دوسرے نمبر پر رہے۔پی ایس 87ملیر کراچی میں پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد ساجد جوکھیو 22654 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی امیدوار قادر بخش کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری جانب غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابقبلوچستان اسمبلی کے حلقے پی بی 40خضدار سے بی این پی کے محمد اکبر 23ہزار 742ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جب کہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار میر شفیق الرحمان 14 ہزار 512ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔آخری اطلاعات آنے تک پی بی 35مستونگ میں آزاد امیدوار نواب اسلم رئیسانی کو بی اے پی کے سردار نور پر برتری حاصل تھی ۔

Facebook Comments