59

”شہباز شریف کو تو نیب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کیونکہ ۔۔۔ “ حامد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ عمران خان کی پریشانی کی حد نہ رہے گی

اسلام آباد ( آوازچترال) شہباز شریف کو نیب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، نیب نے شہباز شریف کی وہ خدمت کی ہے جو کوئی دوسرا اربوں روپے کے عوض بھی نہ کر پاتا کیونکہ نیب کی کارروائی سے شہباز شریف کی ذات پر سے ایک ایسی ڈیل کا داغ خودبخود دھل گیا جو ڈیل کبھی نہ ہوئی تھی، حامد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ عمران خان کی پریشانی کی حد نہ رہے گی ۔اپنے کالم میں معروف صحافی حامدلکھتے ہیں کہ نیب کی کارروائی سے شہباز شریف کی ذات پر سے ایک ایسی ڈیل کا داغ خودبخود دھل گیا

جو ڈیل کبھی نہ ہوئی تھی اور نیب کی جانب سے یہ شہباز شریف کی وہ خدمت ہے جو کوئی دوسرا اربوں روپے کے عوض بھی نہ کر پاتاشہباز شریف کو نیب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ جب سے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر رہا ہوئے تھے سازشی مفروضوں کی دنیا میں رہنے والوں کو اس رہائی کے پیچھے کوئی ڈیل نظر آ رہی تھی۔ رہی سہی کسر رانا مشہود نے نکال دی۔ انہوں نے نادان دوست کا کردار ادا کرتے ہوئے اوور ایکٹنگ کر ڈالی، لہٰذا ان کی اس لاہوری رنگ بازی کو ان کی اپنی ہی جماعت نے مسترد کر دیا لیکن ڈیل کے افسانے تحریک انصاف والوں کی خاموش نگاہوں کی زبان بن کر اقتدار کے ان ایوانوں میں گردش کرنے لگے جہاں ابھی تک اختیار کی ضرورت کو محسوس نہیں کیا گیا۔ ڈیل کے ان افسانوں کا مرکزی کردار شہباز شریف کو قرار دیا جا رہا تھا حالانکہ شہباز شریف نے ڈیل کرنا ہوتی تو الیکشن سے پہلے کرتے“۔ڈیل کے افسانے اس وقت بھی ختم نہ ہوئے جب 25جولائی کے الیکشن میں تحریک انصاف اکثریتی جماعت بن کر سامنے آگئی۔ چھ ستمبر کو یوم دفاع کے دن شہباز صاحب وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ جی ایچ کیو میں یوم شہداءکے پروگرام میں نظر آئے تو ڈیل کے افسانہ طرازوں نے جھوم جھوم کر اپنے پرانےدعوے یاد دلائے اور پھر جب نواز شریف کو رہائی ملی تو شہباز شریف کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا۔اپوزیشن لیڈر کے بارے میں ان کی اپنی ہی جماعت کے مہربان ایسی باتیں کر رہے تھے کہ گمان گزرتا تھا کہ وہ دن رات کوئی نہ کوئی ڈیل کرتے رہتے ہیں۔ شہباز شریف کی اپنے بڑے بھائی سے وفاداری اور محبت کو مشکوک ثابت کرنے کے لئےروزانہ افسانہ تراشنے والوں کے لئے یہ خبر کسی جھٹکے سے کم نہ تھی کہ شہباز شریف کو نیب نے حراست میں لے لیا ہے۔ جیسے ہی شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا تو تحریک انصاف کے ایک جغادری ایم این اے نے مجھ سے پوچھا کہ وہ خادم اعلیٰ کو کب چھوڑیں گے؟ میں نے بلاتوقف جواب دیا کہ وہ انہیں بالکل نہیں چھوڑیں گے۔ ایم این اے صاحب میری بات ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔فرمانے لگے کہ چیئرمین نیب کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی باہمی صلاح مشورے سے لائی تھی لہٰذا نیب شہباز شریف کو چند گھنٹوں میں چھوڑ دے گی۔ اگلے دن نیب کو دس دن کا ریمانڈ بھی مل گیا اور یوں شہباز شریف کی ذات پر سے ایک ایسی ڈیل کا داغ خودبخود دھل گیا جو ڈیل کبھی نہ ہوئی تھی۔نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کر کے ان کی ذات کو ہر قسم کی ڈیل کے الزامات سے پاک کر دیا ہے۔نیب کل بھی سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہوتا تھا اور آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ابھی تک نئے پاکستان میں کچھ نیا نظر نہیں آ رہا۔ پرانے پاکستان کی پرانی روایتوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور تحریک انصاف کی قیادت یاد رکھے کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ سیاسی انتقام کی جو فصل آج بوئی جا رہی ہے وہ کل کو آپ نے کاٹنی ہے”۔

Facebook Comments