75

اسفند یار ولی خان .دھاندلی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کا چیئرمین پرویز خٹک کو بنانا ’’بلے کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھانے‘‘ کے مترادف ہے

چارسدہ( آوازچترال رپورٹ)عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کا چیئرمین پرویز خٹک کو بنانا ’’بلے کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھانے‘‘ کے مترادف ہے، جو شخص کرپشن میں نیب زدہ ہے وہ تحقیقاتی کمیٹی کیلئےء اہل نہیں،ضمنی انتخابات میں آسانی سے دھاندلی نہیں ہونے دیں گے، فوج پولنگ اسٹیشن کے اندر تعینات نہ کی جائے۔چار سدہ میں مولانا فضل الرحمن کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسفند یار ولی خان کا کہنا تھا کہ متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ہیں مولانا جب اور جہاں بلائیں گے ہم پہنچیں گے، حکومت کو سیدھی راہ دکھانے کی غرض سے متحدہ اپوزیشن کا ایک پیج پر متفق ہونا ضروری ہے اور حزب اختلاف کی تقسیم سے صورتحال تبدیل ہو جائے گی جو ملک کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دھاندلی کی فرانزک انکوائری کرائی جائے ،ضمنی الیکشن میں اگر دھاندلی کرنی ہے تو چیف الیکشن کمشنر قوم کا پیسہ ضائع کرنے کی بجائے سیلیکٹرز سے پوچھ کر اعلان کردیں تاہم اے این پی سمیت متحدہ اپوزیشن میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ فوج پولنگ سٹیشن کے اندر تعینات کی گئی تو وہ پھر سے متنازعہ ہوگی ،سیکورٹی اہلکاروں کو پولنگ سٹیشنوں کے باہر تعینات کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم متنازعہ مسئلہ ہے اور ملک کے تین صوبے اس کے خلاف متفقہ قراردادیں منظور کر چکے ہیں۔اسفند یارولی نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سیلیکٹڈ وزیراعظم جو بیان دیتا ہے اسے اوپر سے فون آتا ہے کہ یہ کیسا بیان دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ سیلیکٹڈ وزیراعظم بیان تبدیل کرتے رہتے ہیں۔

Facebook Comments