41

AKESP لوئر چترال کے اساتذہ کیلئے ٹیچرریکوکنیشن ڈے کا اہتمام،نقد انعاما ت اور سرٹفیکیٹ تقسیم

چترال (  آوازچترال رپورٹ ) تعلیم کے ذریعے انسانی صلاحیتوں کو جلا بخشنے میں اساتذہ کا بہت بڑا کردار ہے ۔ بچے خدا کی امانت ہیں اور اساتذہ ان کے رکھوالے ہیں ۔ دُنیا میں ترقی اور عزت کی زندگی کا دارومدار تعلیم پر ہے ۔ اساتذہ بچوں کے اندر موجود صلاحیتوں کو پالش کرکے اُنہیں نکھارنے کا کام سر انجام دیتے ہیں ۔ جو قوم اپنے اساتذہ کو احترام دیتی ہے ۔ اُس کی ترقی و کامرانی کو کوئی نہیں روک سکتا ۔ ان خیالات کا اظہار مقررین آغا ایجوکیشن سروس پاکستان چترال کی طرف سے اے کے ای ایس سکول سین لشٹ میں منعقدہ Teachers Recognition Day کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر تاج الدین شرر پرووسٹ چترال یونیورسٹی اور صدر محفل سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر چترال صمد گُل تھے۔ جبکہ تقریب میں تعلیم کے شعبے سے وابستہ چترال کے معروف شخصیات ، اساتذہ اور طلباء نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ نظامت کے فرائض ماریہ نذیر اور عطا ء حسین اطہر نے انجام دی ۔ جب کہ جنر ل منیجر اے کے ای ایس بریگیڈئیر (ر) خوش محمد نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا ۔ اور آغا خان سکولوں کی کارکردگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔ اور کہا ۔ کہ یہ آغاخان ایجوکیشن سروس کا امتیاز ہے ۔ کہ سالانہ اساتذہ کی حوصلہ افزائی کیلئے تقریب منعقد کرتا ہے ۔ اور اس پیشے میں اعلی کارکردگی کے حامل اساتذہ کی خدمات کے اعتراف کے طور پر بونس کی صورت میں انہیں ایوراڈ دیا جاتا ہے ۔ لیکن اساتذہ کی سیلکشن خالصتا میرٹ کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔ جس میں ادارے کا کوئی دخل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ امسال 196اساتذہ کو بونس دیا جارہاہے ۔ جو کل تعداد کا 53فیصد بنتا ہے ۔ جبکہ پچھلے سال 30فیصد کو دیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اے کے ای ایس پی ایک وسیع وژن رکھتا ہے ۔ اوراس وژن کے تحت معیار تعلیم کو بہتر بنانے ، طلبہ میں لیڈر شپ صلاحیتوں کو اُبھانے ، اُن کی رہنمائی کرنے ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے گلوبل ایجوکیشن کے حصول کے سلسلے میں حکومت کے ساتھ اشتراک سے اپنی جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہے ۔ انہوں نے تمام اساتذہ کو خراج تحسین پیش کیا ۔ کہ اُن کی کو ششوں سے آغا خان ایجوکیشن ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہماری کوشش ہے ۔ کہ طلبہ بہترین تعلیم کے ساتھ ساتھ اقدار سے بھی بہراور ہوں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اے کے ای ایس کے اساتذہ کم معاوضے پر رضا کارانہ جذبے کے تحت خدمات انجام دے رہے ہیں ۔لیکن یہ ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے ۔ کہ اے کے ای ایس کے اساتذہ اپنی بہترین تربیت کی بدولت سرکاری تعلیم اداروں میں جاب حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان ہی اساتذہ کا سہرا ہے ۔ کہ آج ملک کے اندر اور بیرون ملک کی اعلی یونیورسٹیوں میں چترال کے طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر تاج الدین شرر نے اپنے خطاب میں کہا ۔ کہ میری انتلیکچول گرومنگ میں اے کے ای ایس کا بہت بڑا کردار ہے ۔ جس کیلئے میں ادارے کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ دُنیا میں تعلیمی تقاضے بدل گئے ہیں اس لئے تعلیمی اداروں کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اپنے اقدار کے اندر رہتے ہوئے وہ عالمی تعلیم حاصل کرنے چاہیں ۔ جو ہماری زندگی کو با مقصد بنائیں اور ترقی کی راہیں ہموار کرنے کا ذریعہ ثابت ہوں ۔ اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے ۔ جب اساتذہ کی قدرومنزلت ہمارے معاشرے اور طلبہ میں موجود ہو ۔ صدر محفل صمد گُل نے اپنے خطاب میں کہا ۔ کہ اسلام کا پہلا پیغام اقراء سے شروع ہوتی ہے ۔ اور رسول مقبول نے علم کے حصول کیلئے چین تک جانے کی ہدایت فرمائی ۔ اور بدر کے قیدیوں کو بھی مسلمان بچوں کو پڑھانے ہی پر رہائی ملی ۔ جس سے یہ ثابت ہوتی ہے ۔ کہ دُنیاوی اور
اُخروی دونوں علوم کا حصول ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کا ماحول انٹلیکچول ہے ۔ اور اس کے طلبہ میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں ۔ جنہیں بہتر تربیت اور علم کے ذریعے تراشنے خراشنے کی ضرورت ہے ۔ تقریب سے منیجر اے کے ای ایس ذوالفقار علی اور ہیڈ ٹیچر مہمور مُراد نے بھی خطاب کیا ۔ اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی پر اے کے ای ایس کے جنرل منیجر بریگیڈئیر (ر) خوش محمد کا شکریہ ادا کیا ۔ تقریب میں سیلکٹ شدہ اساتذہ میں تین کیٹیگری کے انعامات تقسیم کئے گئے۔ جن میں پہلا بونس 75ہزار دوسرا 50ہزار اور تیسر ا 25ہزار روپے کا تھا ۔ بونس حاصل کرنے والے تیسری کیٹیگری کے 62اساتذہ میں فضل رقیب ، نور شمس الدین ، فہیم اللہ ، حیدر علی ، جعفر خان ، رحمت پناہ ، سید عرفان علی شاہ ، بی بی رضیہ ، گُل نور ، جمشید جہان ، ناظرہ بی بی ، ریحانہ بی بی ، یاسمین بی بی، یاسمین، میر خان ، الطاف الدین ، آمنہ ناز ، روبینہ ، چستان ، علی مراد ، گل نیاب ، حکیم نیاب ، حمیدہ ، اشرف گُل ، بی بی حمزہ ، چاندنی ، الطاف حسین ، جمیلہ پروین ، جہان نساء ، میرزہ کریم ، محمد عارف ، محمد رفیع ، نصرت پروین ، پروین ، رمضان خان ، رحمت نساء ، رحمت گُل ، رُخسانہ منیر ، سفید گُل ، ثمینہ شریف ، شعیب سلطان ، طاہرہ جبین ، یاسمین ، ضیاء الرحمن ، زہرہ بی بی ، ذوالفقار ، عامر خان ، بی بی شازیہ ، حاجی بی بی ، حسن بیگ ، میر زمان ، نظام الدین ، رحیلہ ، شیر خان ، شیر محمد ، صفت بی بی ، سلطان ولی خان ، سید منیر شاہ ، زبیدہ بی بی ، عطا حسین اطہر ، امیر حیدر ، گُل یوسف ، حبیب الرحمن ، مس فرح خان ، نور محمد ، عُظمہ زبیدہ ، زیدول میر علی 50ہزار کے بونس عاصمہ بی بی ، بی بی خدیجہ ، اخلاص الدین ، خالدہ کریم ، رخسانہ بی بی ، شائستہ گُل ، شکیلہ اور نور بیبی شامل ہیں ۔ جبکہ 75ہزار کے بونس فراز خان ، سید خواجہ علی شاہ ، بی بی سمیرا ، مہرالنساء اور یاسمین مراد نے حاصل کئے ۔ ان اساتذہ میں تقریب میں موجود مہمانان گرامی محمود غزنوی ایس ڈی ای او ، ڈاکٹر نورالاسلام ، ڈاکٹر سعد ملوک ، امیر محمد منیجر فوکس ، محکم الدین ، سیف اللہ جان لائبریرین ، عنایت اللہ اسیر ، لیاقت علی خان سابق منیجر اے کے ای ایس ، سید رمضان شاہ ، سلطان مُراد کنوئنیر ، سید مومن شاہ ، کنوئنیر ، سلطان مراد پرابیک ،چیف ایڈیٹر چترال ٹائمز سیف الرحمن عزیز ، ذوالفقار آفاق ، ظہران شاہ سابق منیجر اے کے ای ایس ، شاہ کریز خان سکالر ، امیر اللہ ، پروفیسر سید شمس النظر فاطمی،پریذیڈنٹ نامدارریجنل کونسل لوئر چترال محمدافضل ، زاہدہ گُل ویمن لیڈر ، شکور محمد سابق ناظم ، شیر نواز ، ڈاکٹر ریاض ، خدا پناہ ہیڈ ماسٹر ، ڈی ای او میر ولی ، نظام علی منیجر ہاشو ، عبد الصمد سابق ڈی ای او اور ڈاکٹرتاج الدین شرر پرووسٹ چترال یونیورسٹی، ریجنل منیجر ہاوسنگ بورڈ محمد کرم نے بونس سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے ۔ جبکہ سئنیر اساتذہ اور دیگر اسٹاف کو بھی اعزازی تحائف دیے گئے ۔ تقریب کے دوران سکول کے میوزیکل کلب کے بچوں نے ملی نغمے پیش کئے اور خوب داد وصول کی ۔ اخر میں جنرل منیجر برگیڈئیر خوش محمد اور ریجنل پریذیڈنٹ محمد افضل نے مہمان خصوصی اور صدر مخفل کو ادارے کی شیلڈ پیش کئے ۔

Facebook Comments