51

دھڑکنوں کی زبان…… انگریزی زبان کا بھوت …….محمدجاوید حیات

پھر ایک بہت ہی اہم’’ ٹرینگ‘‘ ’’ جس کے لئے اردو یعنی قومی زبان میں لفظ ’’تربیت ‘‘استعمال ہوتا ہے ‘‘ ہو رہی تھی ۔سارے تربیت دینے والوں پہ تربیت لینے والوں کو فخر تھا ۔۔ٹرینگ اہم تھی ۔۔ تعلیم قوم کی مجبوری ہے ۔۔اس کے بے غیر قوموں کی ترقی ممکن نہیں ۔۔آج کل تعلیم کا دور ہے ۔سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے ۔۔صلاحیت اور فن کا دور ہے ۔۔ایک مقابلہ ہے ۔۔ایک دوڑ ہے ۔۔آگے بڑھنے کا معرکہ ۔۔سکولوں میں تعلیمی عمل کو کس طرح موثر بنایا جائے گا ۔۔اساتذہ کو کس طرح جدید طریقہ تدریس و تعلیم سے روشناس کرایا جائے گا ۔۔یہ مقصد ہے ۔۔یہ مقصد عالی ہے ۔۔یہ حکومت کا خواب ہے ۔اس خواب کو شر مندہ تعبیر کرنے کے لئے آغا خان یونیورسٹی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ۔۔پی ڈی سی سی کے اہل کار اس ٹرینگ کو کراتے ہیں ۔۔اساتذہ کو تربیت دیتے ہیں اس عزم کے ساتھ کہ یہ لوگ آگے جاکر دوسرے اساتذہ کو تربیت دینگے اس طرح چراغ سے چراغ جلے گا ۔۔علم کی روشنی پھیلے گی ۔۔ سکولوں میں تعلیمی عمل قابل ستائش ہوگا ۔۔بچوں کو معیاری تعلیم ملے گی ۔۔قوم تعلیم یافتہ ہو گی ۔۔ترقی مقدر ہو گی ۔۔ٹرینگ کے لئے مواد انگریزی میں ،کتابچے جن کو انگریزی میں Hand Book ،Hand Out وغیرہ کہتے ہیں انگریزی میں ،تربیت کاروں کا لہجہ انگریزی میں ،سوچیں انگریزی میں ،لباس انگریزی میں، اجازت انگریزی میں ،اجتماعی کام کے لئے لفظ ’’Group Work ‘‘۔۔کسی کام کا عملی مظاہرہ ’’Presentation ‘‘سوال ’’Question ‘‘گھر کاکام ’’Home Work‘‘مواد’’ Materials‘‘ وقفہ چائے ’’Tea Break‘‘ظہرانہ کو ’’ؒ Lunch‘‘واپس تشریف لائے خوش آمدید ’’Welcome Back‘‘معربی دنیا ’’West‘‘انہی ملغوبوں میں تربیت کے لمحے گذرتے ہیں ۔۔اردو مرتی یا احیا ء کرتی ہے وہ اس ملک اور قوم کی احیاء پہ منحصر ہے ۔۔کس منچلے نے کہا کہ اردو اس ملک کی قومی زبان ہوگی ۔۔ابو کہتے تھے کہ گوادر کا علاقہ بیگم وقار النساء نون نے اپنے وزیر اعظم شوہر کے ساتھ مل کر بر طانیہ کے وزیر اعظم سے ہمارے لیئے لے لیا ۔یہ اسٹریلوی خاتون تھی پھر یار لوگوں نے اس کو ایوب خان کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی ۔۔میں حیران ہو کر پوچھتا ۔۔ابو درمیان میں یوں بتانے کا کیا مطلب ۔۔تو کہتے ۔یا ر۔۔ Crazy Person She was good in english۔۔۔۔پھر ابو کے قہقہے بلند ہوتے ۔۔کہتا ’’غلامی میں نہ کام آتی ہیں تقدیریں نہ تدبیریں‘‘۔۔ابو کے قہقہے زہر بھرے ہوتے اور کہتے ۔۔Read English،Write in english،Think in English ،Every thing Should be in English۔۔توقف کے بعد کہتے ۔Necessity Evil ،‘‘۔۔۔مجبوری ۔۔جو انگلش میں اچھا وہ سب میں اچھا ۔۔ہمارے اساتذہ جدید تعلیم یافتہ ،اعلی تربیت یافتہ ،باکردار با اخلاق ۔۔ ان کی انگریزی اچھی ۔۔۔لہذا یہ سب سے اچھے ۔۔ہمیں ان پہ فخر ہے ۔۔اعلی اداروں سے پڑھے ہوئے یہ اساتذہ موتی ہیں ان کی چمک سے پی ڈی سی کی عمارت بقعہ نور ہو تی ہے ۔۔ان کے لہجوں کی مٹھاس کے تربیت حاصل کرنیوالے دیوانے سے ہوجاتے ہیں ۔وہ اپنے فن میں ماہر ہیں ۔۔انگریزی مجبوری ہے ۔۔پوری قوم کی مجبوری ۔۔جس کے بے غیر سب کچھ ممکن نہیں ۔۔سارے امتحانات ،معیارات ،توقعات ،ممکنات ،منازل ،اہداف،کامیابیاں سب انگریزی سے وابستہ ہیں ۔انگریزی آتی ہے تو بے غیر نیند کے خواب تک آتے ہیں ۔۔بڑا پن کا خواب ،اعلی عہدے کا خواب ،چمکتی کرسی کاخواب ،لیڈرشب کا خواب۔۔۔ خیر یہ لیڈرشب کا خواب انگریزی سے وابستہ نہیں ۔۔ اٹھلااٹھلاکے چلنے کا خواب ۔ان سب خوابوں کی تعبیر انگریزی سے وابستہ ہیں ۔۔پھر ذریعہ تعلیم ،بچوں کا ہاتھ پکڑ پکڑ کر اس سے الٹے ہاتھ لکھواؤ۔پھوپی کو انٹی کہہ دو سیکھاؤ کہ ابو ڈیڈ ہے ۔۔امی جان مام ہے اور آگے بہت کچھ ۔۔پھر بہت کچھ میں وضع قطع اور لباس تک آجا ئے۔۔قصور انگریزی کا نہیں نہ ہمارا ہے ۔۔قصور تعلیم ،فن ،ٹیکنالوجی اور ترقی کا ہے ورنہ تو ان انگریزوں نے کتنی عربی اور یونانی کتابوں کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا ۔فرنچ پڑھتے ہوئے ان کو کتنی دقت اٹھانی پڑی ۔۔انھوں نے ترقی کی ۔۔ہم پسماندگی کے اندھیروں میں ہیں ۔ٹاکمٹوئیاں ہماری قسمت میں ہیں کیونکہ ہمیں پسماندگیوں کی وجہ کا احساس نہیں ۔۔تب ہم نے نقل کرنی ہے ۔۔۔سر جھکانا ہے ۔۔منہ چھپانا ہے ۔۔ہماری میمیں اور سر لوگ انگریزی میں بہت اچھے ہیں ۔۔ہماری آرزو ہوتی ہے کہ انگریزی میں اچھے ہو جائیں ۔۔پھر ہم ابھی تک سوالیہ نشان ہیں کہ پورا ملک انگریزی ہے ہم خانہ بر انداز چمن تھوڑے ہیں پھول بھی انگریزی میں کھلتے ہیں ۔۔پرندے انگریزی میں چہچہاتے ہیں ۔۔ہم سکولوں میں گلشن انسانیت کے بلبلوں کو انگریزی میں چہچہانا نہیں سیکھا سکتے نہ اس کی اہلیت رکھتے ہیں ۔۔ایسی اہلیت اور تپ چار سے تو تاج محل نہیں بن سکتا کیونکہ ہم میں کوئی خزانے والا نہیں جس کے پاس انگریزی زبان کا خزانہ ہو ۔۔بھلا ہو آغا خان یونیورسٹی اور اس جیسے اداروں کا کہ وہ واقعی موتیوں کا خزانہ ملک کو مہیا کر رہے ہیں ۔۔یہی لوگ ڈاکٹر ریاض، عبدالولی خان یفتالی ،گوہر،میم شکیلہ،میم زوبیدہ خانم ،اسد،شیر افضل اورمنیرہ موتی ہیں ۔۔میرے محسن اور مربی ڈاکٹر فیضی کہتے ہیں باصلاحیت لوگ اللہ کی طرف سے گفٹ ہیں ۔۔یہ چمکتے تارے ہیں ۔۔چلو مان لیتے ہیں کہ یہ چمکتے تارے ہیں تو کیا ان کی روشنی انگریزی میں ہے ۔۔نہیں یہ ایک آزاد قوم کے معمار ہیں ۔۔ان کی ایک قومی زبان ہے جو’’ اردو‘‘ کہلاتی ہے ۔۔وہ کبھی بھی انگریزی زبان کے بھوت اپنے ذہنوں اور اعصاب پہ سوار ہونے نہیں دینگے ۔۔انہوں نے انگریزی سیکھ کر اس طلسم کو توڑا ہے کہ انگریزی سیکھی جا سکتی ہے ۔۔مگر اس کے بے غیر ترقی بھی ممکن ہے ۔۔ کیونکہ وہ اپنے اڑوس پڑوس میں دیکھتے ہیں ۔۔میں پھر سراپا سوال ہوں ۔۔کیا میں واپس جا کر دوسروں کو صرف انگریزی پڑھاؤنگا ۔۔مجھے تو اپنی قومی زبان بھی پڑھانی ہے ۔۔ ابو کہتا تھا۔۔ انگریزی سیکھو ۔۔۔ابو کی یادوں میں غلامی کی تلخ یادیں بھی تھیں ان کا خیال تھا کہ انگریزوں کی غلامی سے آزادی کی ایک صورت انگریزی سیکھنا ہے ۔۔کیونکہ انگریزی کے ساتھ وہ سب چیزیں وابستہ ہیں جو ترقی کی بنیا دہیں ۔۔میرے ابو اگر واپس آئے تو کتنا خوش ہو جائے کہ یہاں پہ سب انگریزی بولتے ہیں مگر پھر کتنا افسردہ ہو جائے کہ ترقی کہیں نہیں ۔۔پھر تو انگشت بدندان ہوجائیگا کہ جو انگریزی بالکل نہیں جانتے ہیں انھوں نے تو ترقی کی ہے ۔۔میں کھی کھی ہنسوں گا تو ابو پیشانی پہ ہاتھ مار کے کہہ دینگے ۔۔تیرا تو خدا حافظ ہے ۔۔تم ابھی تک صرف انگریزی بولنے میں فخر کرتے ہو لوگ ترقی پر فخر کرتے ہیں ۔۔جئیو جاپانیو۔۔چائینیو ۔۔جرمنیو ۔۔فرانسیسیو ۔۔میں ابو کی حسرت بھری نگاہوں کا تاب نہ لا سکونگا ۔۔پھر جب اساتذہ کی طرف سے میری کسی کوتاہی پر سزا کے طور پر مجھ سے کہا جائے گا کہ مجھے پانچ منٹ تک صرف انگریزی میں بات کرنا پڑے گا ۔۔تو میں ابو سے لپٹنے کو دوڑوں گا مگر ابو جا چکا ہوگا ۔۔میں پھر سوالیہ نشان بن جاؤں گا ۔۔مجھ پہ انگریزی زبان کا بھوت سوار ہوگا ۔۔مرد قلندر کی آواز آئے گی ۔۔ تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی

Facebook Comments