88

دابیداد …سنکیانگ اور سعودی عرب……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

سنکیانگ اور سعودی عرب کی سرخیاں عالمی اخبارات میں اس وقت لگتی ہیں جب چین کے مسلمان اکثر یتی آبادی والے صوبے میں کوئی گڑبڑہوتی ہے چینی حکام دہشت گردوں کو پکڑتے ہیں تفتیش اور تحقیق کے بعد افعانستان،امریکہ ،اور سعودی عرب کے اشارے مل جا تے ہیں اس تناظر میں چینی رہنماوں نے اس دن دھیماسا ردعمل دکھایاجس دن پاکستان نے سعودی عرب کو چائناپاکستان اکنامک کوریڈور(CPEC)میں تیسرا شریک کار بنانے کا اعلان کیایہ چینی قیادت کی قدیم عادت ہے کہ یہ لوگ کسی بھی واقعے پر یک دم آگ بگولہ نہیں ہوتے ہر واقعے کو دھیمے اندازمیں لیتے ہیں نرم لہجے میں جچا اور نپاتلا رد عمل دیتے ہیں سی پیک چینی قیادت کے بڑے منصوبے ون بیلٹ ون روڈ کی چھوٹی سکیم ہے اس منصوبے کے تحت چینی مصنوعات کو ریل کے ذریعے برطانیہ پہنچانے کا کام مکمل ہو اہے سی پیک چین ادرگوادر کے راستے دنیا کی بڑی بندرگاہوں تک مال پہنچانے کا ایک راستہ ہے مغربی طاقتوں میں امریکہ چین کے تصورتجارت اور تصورمعیشت کاکٹر مخالف ہے مگرچین نے کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے امریکی معیشت کو ڈوبنے سے بچا ئے رکھا ہے اس لئے امریکہ کھل کر اور سامنے آکر چین کی مخالفت نہیں کرسکتا پاکستان اور افعانستان کو ڈراکر ،دھمکاکر اقتصادی ناکہ بندی کی دھمکیاں دے کر چینی منصوبوں میں رکاوٹیں ڈالتاہے سعودی عرب کو سی پیک میں شریک کار بنانے کا مقصد بھی سی پیک کو نا کا م کرنا ہے اور اس پر چینی قیادت نے بھی تحفظات کا اظہار کیاہے اس حوالے سے اہم نکتہ سنکیانگ کی مسلم اکثریتی آبادی میں دہشت گردی کے واقعات کے لئے افعانستاں سے تربیت یافتہ گروہ چین میں داخل کرنے لیے سعودی عرب کی خدمات حاصل کرنے کا الزام ہے جو بار بار اخبارات کی زینت بن چکا ہے جن لوگوں کو چین نے پکڑا ہے وہ ایسے ہی لوگ تھے جو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھیجے گئے تھے مثلا افغان ،تاجک،ازبک ،پاکستانی اور سعودی شہری بھیجے گیے کچھ مارے گیے کچھ پکڑے گیے امریکی یونیورسٹیوں کے اندر خاص کر امریکن یونیورسٹی بیروت میں چین کی مسلم آبادی اْویغر(Uighur)پرمقالے شائع کئے جاچکے ہیں کمیو نسٹ انقلاب سے پہلے برطانیہ نے اویغر( Uighur)قومیت کے مسلمانوں کو چین سے آزادی دلانے کے لیے بڑے پیمانے پرکام کیا تھا 1933ء میں حاجی نیازمحمد اور ملاثابت عبدالباقی نے مشرقی ترکستان کی اسلامی ریاست کاجھنڈا لہرایاکرنسی جاری کردی مگر یہ ریاست تین ماہ سے زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی شملہ میں برٹش گورنمنٹ کے ریکارڈکے اندر اس کی تفصیلات موجود ہیں فائلوں میں حاجی نیاز اور ملا ثابت کی تصویریں بھی محفوظ ہیں اس کے بعد ماوزے تنگ کے لانگ مارچ اور 1949میں کمیونسٹ انقلاب کا مرحلہ آیااْس وقت اویغرقومیت کے مسلمانوں نے انقلابی طاقتوں کا ساتھ دیا 1990ء کے بعد سنکیانگ میں وقتافوقتاگڑبڑ کی کوششیں کی گئیں کاشغر ،یارکند،خْتن اورارومچی کے آس پاس دہشت گرد کاروائیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں امریکی ذرائع ابلاغ خاص کر الجزیرہ ٹی وی ، فاکس نیوزاور سی این این نے ان واقعات کو بڑھاچڑھاکر پیش کیااب بھی امریکی میڈیا انگریزی اورعربی میں جو پروپکنڈا نشر یا شائع کر رہا ہے اس میں ایران کے بعد چینی قیادت کو ظالم ،غاصب اور آمریت کے لبادے میں پیش کیاجاتا ہے ایسا دکھایا جاتاہے کہ سنکیانگ میں بڑاظلم ہو رہاہے امریکہ ،سعودی عرب اور دیگر ممالک مسلمانوں کی مدد کررہے ہیں کاشغر ، یار کند اور اورمچی میں صورت حال یہ ہے کہ سنکیانگ کی دس یو نیورسٹیان عالمی رینکنگ میں
شامل ہیں دو یو نیورسٹیان ایشاء کی دس بڑی درس گاہوں میں شامل ہیں تھونگ برون سال اور سریقول جیسے دیہات کو موٹرویز کے ذریعے شہروں سے ملایاگیاہے غربت کی شرح15%سے کم ہے اور گذشتہ 20سالوں میں یہ شرح بلند نہیں ہوئی بلکہ اس میں 3%تک کمی دیکھی گئی ہے چینی قیادت کا یہ بھی ریکارڈ ہے کہ بد امنی ،انتقام ،اور فساد پر یقیں نہیں رکھتی جنگی تیاری کے لحاظ سے دْنیا کی پہلی 2فوجوں میں چینی فوج کا شمار ہوتا ہے اسکے باوجود چینی قیادت نے کسی ملک پر چڑھائی نہیں کی دنیا کے کسی بھی خطے میں دہشتگردی نہیں کی دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی چین کی پر امن حکمت عملی تیں نکات پر مبنی ہے معاشی ترقی میں برق رفتاری ،عوامی سطح پر خوشحالی کی بلندترین سطح کو برقرار رکھنا اور عالمی برادری کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت مل جل رہنے کی پالیسی کا تسلسل برقرار رکھنا گذشتہ 69سالوں میں چین نے ان اصولوں سے انحراف نہیں کیا اس حوالے سے اگر چہ سی پیک میں سعودی عرب کی شرکت پر چین کو جائز تحفظات ہیں تاہم چین اس معاملے میں جلد بازی نہیں کرے گا وقت لے لے گا اور قت آنے پر اپنا ردعمل ظاہر کرے گا

وہ اپنی خو نہ چھو ڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں
سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو

Facebook Comments