تازہ ترین

نئے پاکستان کو کامیاب کرنے کا کستوری مشورہ

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت بنی تو عوام میں یہ امید کی کرن پیدا ہوئی کہ اس حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے اب ملک میں خوشحالی آئے گی، غریبوں کو ریلیف ملے گا، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے عوام پر جو زندگی تنگ کر دی تھی، اب اس کا ازالہ ہوگا اور غریبوں کے گھروں میں خوشحالی آئی گی۔ پی ٹی آئی حکومت کا 100 دن کا فلاحی ایجنڈا بھی سب کے سامنے ہے، جب مینار پاکستان میں جلسے کے دوران عمران خان نے یہ ایجنڈا پیش کیا تھا تو اس وقت عمران خان کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کم اور غریبوں کا مسیحا زیادہ لگ رہے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔اب ایسا نہیں ہے کہ عمران خان کو عوام بالخصوص غربت کی زندگی گزارنے والے عوام اپنا مسیحا سمجھ رہے ہوں، چند دنوں کی حکومت میں ہی غریبوں کو یقین ہو گیا ہے کہ الیکشن کے نام ان کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہو گیا ہے۔ عوام کو یہ دھوکہ کرنے والوں کا بخوبی علم ہے، گلی، محلوں، چوراہوں پر الیکشن کے نام پر فراڈ کرنے والوں کے بارے باتیں ہو رہی ہیں۔ حتیٰ کہ پھل فروش کو بھی پتہ ہے کہ یہ حکومت تحریک انصاف نامی کسی سیاسی جماعت کی نہیں ہے۔ایسا نہیں ہے کہ پی ٹی آئی نامی حکومت کیخلاف عوام میں یہ شدید نفرت پہلے دن سے پیدا ہوئی ہے، شروع شروع میں تو ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ ابھی حکومت کو ایک دو ہفتے چلنے تو دیں، انشاء اللہ ایسی پالیسیاں متعارف کروائی جائیں گی جس سے واقعی ہی عوام کو سکون ملے گا لیکن پھر پہلا ہفتہ گزرا تو وزیر اعظم عمران خان نے اپنے100 روزہ ایجنڈے سے کنارہ کشی شروع کی باقی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پاکستان کی باشعور اور مجبور غریب قوم کو ڈیم فنڈ کے پاپولر ترین فراڈ کے پیچھے لگا دیا۔ اس ڈیم فنڈ کو عوام نے کتنا سنجیدہ لیا ہے، اس بات کا اندازہ بھرپور مہم کے باوجود اکٹھے ہونے والے چند ارب روپے سے لگایا جا سکتا ہے۔

پھر دوسرا اور تیسرا ہفتہ آیا، غربت کے ستائے چند ہزار روپے ماہانہ کمانے والوں نے دوبارہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف امید کی نظریں دوڑائیں تو پتہ چلا کہ سوئی گیس مہنگی کر دی گئی ہے، یہی ایک چیز سستی تھی لیکن اسے ہی مہنگا کر دیا گیا۔ پہلے اس قوم کو اسحاق ڈار جیسے ڈاکو لوٹ کر چلے گئے، اب نئے پاکستان والوں سے پالا پڑا تو وزیر خزانہ اسد عمر نے قوم کو بیوقوف بنانے کی بھرپور کوشش کی اور کہا کہ غریب عوام کیلئے گیس کم مہنگی کی گئی ہے جبکہ زیادہ مہنگی گیس تو کمرشل اور صنعتی جیسے صارفین کیلئے کی گئی ہے۔ بھلا کوئی نئے پاکستان کے بیووقوف ترین وزیر خزانہ سے پوچھے کہ کمرشل اور صنعتی صارفین مہنگی گیس کی بنیاد پر جو اشیائے خوردونوش اور دوسری ضروریات زندگی کی چیزیں تیار کریں گے، کیا وہ ان کی قیمتیں نہیں بڑھائیں گے؟ لیکن مجال ہے کہ شرم نام کی کوئی چیز نئے پاکستان کے نام پر دھوکہ کرنے والوں کے منہ سے نکلی ہو۔ابھی گیس مہنگی کرنے پر نئے پاکستان والوں کی بے شرمی اور ڈھٹائی قائم ہی تھی کہ ساتھ ہی پتہ چلا کہ تنخواہ دار طبقے پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا، شاید عمران خان کو پتہ تھا کہ جیسے تیسے جھوٹے سچے وعدے اور کہیں نہیں کہیں قدموں میں بیٹھ کر ایک مرتبہ حکومت لے لیں، پھر عوام کا جتنا مرضی خون چوسیں، کوئی نہیں بولے گا، تاریخ کہتی ہے کہ ایسا ہی ہوا ہے۔ غریبوں کی حیرانگی ابھی گیس مہنگی کرنے اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس لگانے سے ختم ہوئی نہیں تھی کہ نئے پاکستان نے ٹریفک کی خلاف ورزی پر جرمانے کی شرح میں کئی سو فیصد اضافہ کر کے غریب عوام زندگی مزید اجیرن کر دی ہے۔ اس بارے کوئی دوسری رائے نہیں کہ ٹریفک قوانین کی سخت پابندی کرنی چاہیے کہ یہ مہذب قوموں کی پہچان ہے لیکن مہذب ممالک میں غریب اور پسے ہوئے افراد کے ساتھ ایسے ظلم عظیم نہیں کئے جاتے۔ حکومت کا یہ مئوقف درست ہے کہ ٹریفک خلاف ورزی پر جرمانہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر کیا گیا ہے لیکن نئے پاکستان کی حکومت کا فرض بنتا تھا کہ وہ لاہور ہائیکورٹ کے روبرو پیش ہوکر یہ استدعا کرتی کہ عدالت کو جرمانے کم یا زیادہ کرنے کا اختیار نہیں ہے، یہ اختیار حکومت کا ہے۔ حکومت ٹریفک قوانین پر پابندی کیلئے جرمانو ں میں اضافہ کرے، ضرور کرے لیکن وہ اضافہ اتنا نہیں ہونا چاہیے جتنا ایک رکشہ ڈرائیو، ایک عام ڈرائیور یا موٹر سائیکل پر چند ہزار روپے کی سیلز مین کی نوکری کرنے والے کا ایک دن کا راشن ہو۔ اس حکم سے تو ایسے لگتا ہے کہ نئے پاکستان میں ٹریفک وارڈنز کو عوام کے خادم نہیں بلکہ سرکاری ڈاکوئوں کا درجہ دیدیا گیا ہے، گزشتہ چند روز سے ہر سڑک پر وردی کی گن پوائنٹ پر سرکاری ڈاکو دھڑا دھڑا غریبوں کو لوٹ رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ٹریفک جرمانے بڑھانے کا حکم تو معزز لاہور ہائیکورٹ نے دیدیا لیکن ہیلمٹ کی قیمتوں میں ناجائز اضافہ کون روکے گا مائی لارڈ۔۔۔۔ ہمت کریں، ہیلمٹ مافیا کیخلاف فیصلہ دیں یا حکومت کو حکم دیں کہ وہ ہر موٹر سائیکل سوار ایک عدد ہیلمٹ کی مفت فراہمی کا بندوبست کرے لیکن تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے امید ہے کہ عدالت سے غریب عوام کے حق میں فیصلہ نہیں آئیگا۔نئے پاکستان میں غریبوں کا خون چوسنے کا عمل جاری تھا کہ کسی کو خیال آیا کہ ایک ایک دو دو بوتلیں مزید خون بھی نکال لیا جائے تو حکومت نے بجلی بھی مہنگی کرنے کا اعلان کر دیا۔ بجائے یہ کہ حکومت امیروں اور اشرافیہ کی دولت پر ٹیکس لگاتی، پانچ کروڑ، دس کروڑ، پچاس کروڑ، ایک ارب روپے سالانہ کمانے والوں پر ویلتھ ٹیکس عائد کرتی، الٹا یہ نیا پاکستان بھی غریبوں کو لوٹنے نکل پڑا ہے۔ حکومت کے اب تک تمام اقدامات سے غریبوں کو فائدہ نہیں ہوا بلکہ ان کی زندگی ایک ڈیڑھ ماہ میں ہی اجیرن کر دی گئی ہے، حکومت کی طرف سے ابھی تک ایک بھی ایسا فیصلہ نہیں کیا گیا جس سے براہ راست کسی غریب کی روٹی روزی میں ریلیف ملا ہو۔نئے پاکستان میں حکومتی اقدامات پر تنقید برائے اصلاح کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے، زیادہ تر ویسے ہی مراثی نما تجزیہ کار، اینکر اور کالم نویس ہیں جیسے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے دور میں ہوتے تھے۔ یاد آیا، نئے پاکستان نے مافیا کی سہولت کیلئے شاندار قدم اٹھایا ہے، حکومت نے جائیداد اور گاڑیوں کی خریداری کے خواہشمندوں کو ٹیکس چوری کرنے کی باضابطہ اجازت دیدی ہے اور وہ پابندی ختم کر دی ہے جو مسلم لیگ ن نے لگائی تھی کہ جو بھی گاڑی اور جائیداد خریدے گا، وہ پہلے اپنی ٹیکس ریٹرن ظاہر کرے گا تاکہ حکومت کو ٹیکس اکٹھا کرنے میں آسانی ہو سکے۔اس لئے میں حکومت کو ایک ایسا’’ کستوری مشورہ ‘‘دینا چاہتا ہوں جس سے حکومت کے تمام مسائل بھی حل ہو جائیں گے اور مراثی نما اینکر، تجزیہ نگار اور کالم نویس حکومت کے شاندار قصیدے بھی پڑھیں گے۔ حکومت کے پاس ڈیٹا موجود ہے کہ کتنے پاکستانی غریب ہیں اور کتنے انتہائی غریب ہیں، ان تمام غریبوں کو اکٹھا کر کے انہیں قتل کرنے کا بندوبست کیا جائے یا کسی سمندر کی سیر کا بہانہ کر کے انہیں سمندر میں پھینک دیا جائے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ حکومت اس ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جائیگی کہ اس نے غریبوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے کیونکہ تمام غریب ختم ہو چکے ہونگے، نہ کوئی سستی بجلی اور گیس مانگنے والا ہوگا، نہ کوئی سستا آٹا، دال، چاول مانگے، نہ کوئی غریب موٹر سائیکل چلائے گا اور نہ ہی کسی عدالت کو جرمانوں کا ماورائے عقل فیصلہ دینے کی ضرورت محسوس ہو گی۔ پھر آپ سکون سے اپنے اشرافیہ دوستوں کے ساتھ ملک کر پانچ سال حکومت کریں یا دس سال، پھر آپ کو کوئی پوچھنے والا یا آپ پر تنقید کرنے والا نہیں ہوگا۔

Facebook Comments

متعلقہ مواد

Back to top button