45

صدا بصحرا……49کنکریاں اور شیطان……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

وطن عزیز کے پونے دو لاکھ حاجی وطن واپس لوٹنے کے آخری مراحل میں ہیں ستمبر کے تیسرے ہفتے میں تمام حاجی وطن واپس آ گئے ہیں حاجیوں نے ارض مقدس میں فرائض حج کی ادئیگی کے علاوہ واجبات کے ضمن میں شیطان کو 49 کنکریاں مارنے کا واجب عمل بھی انجام دیا مناسکِ حج میں اس کو سب سے مشکل عمل سمجھا جاتا ہے اگر چہ سعودی عرب کی حکومت نے جمرات کیلئے تین منزلوں میں سہولیات کیساتھ آنے جانے کے الگ راستے مقررکر کے ماضی کے مقابلے میں بہت آسانی کا سامان فرہم کیا ہے تاہم وقت کی کمی اور 24 لاکھ حجاج کی تعداد کو مدنظر رکھا جائے تو اب بھی دیگر مناسک میں اس کو مشکل ترین کام کا درجہ حاصل ہے مناسکِ حج کی تعلیم حجاج کی روانگی سے پہلے شروع ہوتی ہے حج کے دوران بھی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رہتا ہے،11 ذی الحجہ کو جمرات کا دوسرا دن تھا نماز فجر کے بعد مینا کے کیمپ میں ایک عالمِ دین کے بیان نے حجاج کے مجمع کو چونکا دیا اور یہی بیان آج کے کالم کا موضوع ہے کیمپ 111 چار بڑے کمپنیوں کے حجاج اکھٹے تھے نوجوان عالم نے حمدوثنا کے بعد کہا حجاجِ کرام!ہم لوگ آج دوسرے دن شیطان کو کنکریاں مارنے یعنی رمی کرنے کے لئے جا رہے ہیں 10 ذی الحجہ کو ہم نے 7 کنکریاں ماری تھیں وہ جمرہ عقبیٰ یا بڑا شیطان تھا آج اور کل ہم جمرہ کبریٰ اور صفریٰ کو بھی ملا کر 42 مزید کنکریاں ماریں گے یہ 49 کنکریاں ہم نے شیطان کی 6 خصلتوں کو مارنی ہیں، اگر ہم نے شیطان کے ان خصلتوں کو کنکریاں مار کردورنہیں بھگایا تو گویا ہم نے کنکریاں کنوئیں میں ڈال کر شیطان کو گلے لگا لیا اوراپنے ساتھ گھر،دکان اور دفتر لے گئے عالم دین کا بیاں واقعی چونکا دینے والا تھا حاجیوں نے تجسس کے ساتھ بیان سننے پر توجہ دی شیطان کی6 خصوصیات کون کون سی ہیں جنہیں ساتھ نہیں لے جانا چاہیے مولانا صاحب نے قرآنی آیات کے حوالے دیکر ایک ایک خصلت کو بیان کیاسورہ بقرہ آیت 34 میں فرمایا،،اس نے نافرمانی کی اور تکبر کیا گویا شیطان کی دو خصلتیں نافرمانی اور تکبر کی صورت میں آج بھی موجود ہیں انسانی معاشرے میں عام ہیں مسلمان بھی ان خصلتون سے پاک نہیں حجاج بھی شیطان کو کنکر یاں مارتے ہیں مگر نا فرمانی اور تکبر کو ساتھ لے جاتے ہیں معاشرے میں نا فر مانی نظم و ضبط یا ڈسیپلن کو متاثرکرتا ہے تکبر سے انانیت جنم لیتی ہے ہر شخص اپنے آپ کو اور اپنی ذات کو شہرکا گھنٹہ گھر یا کلاک ٹاور قرار دیتا ہے اناوں کے ٹکراو سے معا شرتی بگاڑ اور تصادم پیدا ہوتا ہے جو فساد کی جڑ ہے شیطان کی تیسری خصلت کے بارے میں سورہ حجر کی آیت32 اور سورہ صاد کی آیت 76 کا حوالہ دیتے ہوے مولانا صاحب نے بیان کیا کہ یہ عقل پرستی اور عقلیت پسندی ہے ابلیس نے اپنی عقل لڑائی اور نتیجہ اَخذ کیا کہ آگ مٹی سے بہتر ہے پھر اس نے کہا میں آدم سے تخلیق میں بہتر ہوں مجھے آگ سے پیدا کیا گیا وہ مٹی سے پیدا ہوا یہ غلط استدلال تھا آگ پیدا کرنے والی چیزیں مٹی میں پائی جاتی ہیں لکڑی ، کوئلہ اور تیل مٹی کی ہی پیداوار ہیں عقل پرستی کی یہ خامی ہے کہ حقائق سے چشم پوشی کی جاتی ہے عقل پرستی اور عقلیت پسندی موجودہ زمانے کا بہت بڑا فتنہ ہے اور اس کا داعی اول ابلیس تھا یہ شیطان کا حربہ ہے شیطان کو کنکریاں مارتے وقت اِس خصلت پر دو چار کنکریاں صرف کرینگے تو یہ خصلت حاجی کے ساتھ واپس گھر نہیں جائیگی سورہ حجر آیت 39 میں شیطان کی ایک اور خصلت کا ذکر ہے ،یہ خصلت انتقام ہے ابلیس نے کہا اس کی وجہ سے مجھے راندہ درگاہ کیا گیا میں اس کی نسل سے انتقام لوں گا ان کو سیدھے راستے سے بھٹکا کر غلط راستے پر ڈال دونگااور گمراہ کر وں گا ا نتقام کا جذبہ اور بدلہ لینے کی خصلت ابلیس سے بنی آدم کوودیعت ہوئی ہے یہ شیطانی عمل ہے اس خصلت کو کنکریاں مار کر اس خصلت کو جمرات میں دفن کر کے جانا چاہئے جو بھی حاجی اس خصلت کو کنکریاں نہیں مارتا وہ گویا شیطان کو اپنے ساتھ گھر لے جاتا ہے اس طرح سورہ اعراف آیت 20 اور 21 میں جھوٹ اور قسم کی دو خصلتوں کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے ابلیس کا مکالمہ یوں نقل ہوا ہے (اس درخت کو چکھو) تو فرشتے بن جاو گے یا ہمیشہ جنت میں رہو گے اس نے قسم کھائی کہ میں تمھارے خیر خواہوں میں سے ہوں جھوٹ بولنا اور قسم کھانا دونوں ہمارے معاشرتی رویوں میں سے عام رویے ہیں یہ دونوں بڑی برائیاں ہیں جنکو رغبت کے ساتھ اختیار کیا جاتا ہے اور ان پر ندامت کا اظہار بھی نہیں کیا جاتا ہے لوگ شرابی، سود خور اور زنا کار کو گنہگار سمجھتے ہیں ان سے نفرت کرتے ہیں جھوٹ بولنے والے کو پالیسی ساز یا سیاستدان کا نام دیتے ہیں قسم کھانے والے کو سچائی کا علم بردار سمجھتے ہیں گویا سچ بولتا ہے اس لئے قسم کھاتا ہے حالانکہ معاملہ اس کے بر عکس ہوتا ہے مولانا نے اپنے بیان میں حاجیوں کی آنکھوں سے پردہ ہٹادیا اُن کے دلوں کو منور کیا 49کنکریوں کی حقیقت یہ ہے کہ یہ کنکریاں سنّت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوے شیطان کی 6 خصلتوں کو مارنے کا واجبی حکم ہے اور یہ شیطان کے اعمال اور خصائل سے بیزاری کا علامتی اظہار ہے یہ کنکریاں ابلیس کے سر پر نہیں ابلیس کی خصلتوں پر ماری جاتی ہیں ان کنکریوں کے ذریعے شیطان کی خصلتوں سے بیزاری کا وعدہ کیا جاتا ہے جو حاجی واپسی پر ان خصلتوں کو ساتھ لاتا ہے اُس نے شیطان کو کنکریاں نہیں ماری بلکہ 49 کنکریوں کو خواہ مخواہ اندھے کنویں میں ڈال دیا 49 کنکریوں کے ساتھ شیطان کی6 خصلتوں کا اٹوٹ رشتہ ہے ۔

Facebook Comments