100

حکومت نے خفیہ طور پر رولز آف بزنس میں ترمیم کرکے مشیران اور معاونین کے اختیارات میں اضافہ کر دیا

اسلام آباد (  آوازچترال رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف بھی خفیہ فیصلے کرنے لگ گئی ہے ، وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی میں ہر قسم کا فرق ختم کر دیا گیاہے ، رولز آف بزنس 1973 میں ترمیم کرتے ہوئے مشیروں اور معاونین خصوصی کو حلف اٹھائے بغیر ہی خفیہ دستاویزات تک رسائی دیدی گئی ہے اور حکومت کی جانب سے اس فیصلے کو میڈیا سے خفیہ رکھا گیا ۔نجی ٹی وی 24 نیوز کے مطابق نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاہے کہ حکومت چلانے کے رولز کے مطابق وفاقی وزراءکو قومی دستاویزات تک رسائی حاصل ہوتی ہے کیونکہ وہ آئین پاکستان کے تحت حلف اٹھاتے ہیں لیکن معاونین اور مشیروں کو یہ سہولت حاصل نہیں ہے کہ وہ قومی دستاویزات کا معائنہ کر سکیں یا انہیں اپنے ساتھ رکھ سکیں لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے پانچ ستمبر کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں رو 1973 کے لروز آف بزنس لے رول نمبر 20 کی ذیلی شق 12 میں ترمیم کرتے ہوئے معاونین خصوصی کے اختیارات میں اضافہ کر دیاہے اور اب وہ بھی خفیہ دستاویزات ، خفیہ سمری سمیت دوست ممالک کے ساتھ ہونے والے اہم اور خفیہ معاہدوں تک رسائی رکھیں گے اور وہ ان کو دیکھ بھی سکتے ہیں ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں یہ روایت رہی ہے کہ وفاقی وزراءکو بھی خفیہ سمریاں دکھائی جاتی ہیں اور جونہی کابینہ کا اجلاس ختم ہوتا تھا وہ سمریاں واپس لے لی جاتی تھیں لیکن اب کابینہ ڈویژن کی جانب سے تمام وزارتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ جب بھی کابینہ کا اجلاس ہوگا ہر سمری کی 65 کاپیاں کروا کر لائی جائیں تاکہ وہ مشیران اور وزراءکے حوالے کی جاسکیں اور وہ انہیں دیکھ سکیں ۔نجی ٹی وی کا کہناتھا کہ پانچ ستمبر کو جب کابینہ دیگر فیصلوں کے ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا تھا اور فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان فیصلوں سے متعلق میڈیا کو آگاہ کیا تھا لیکن انہوں نے مشیران اور معاونین خصوصی کے اختیارات میں توسیع کیلئے کی جانے والی ترمیم کو میڈیا سے خفیہ رکھا کیونکہ مشیروں اور معاونین کے قلمدان عمران خان نے خصوصی دوستوں کو سونپے ہیں

Facebook Comments