95

تحصیل کونسل چترال کی طرف سے لٹکوہ کے فصلوں پرلگایا گیا ٹیکس ہائی کورٹ میں کالعدم قرار

سوات (شیر جہان ساحل) آج پشاور ہائی کورٹ (مینگورہ بینج) سوات میں چترال کے تحصیل کونسل کی جانب سے لاگو کردہ محصول کے خلاف دائر مقدمے کی سماعت ہوئی جو کہ لٹکوہ کے عمائدیں کی جانب سے ریٹ پٹیشن نمبری ۸۵۰/۲۰۱۸ بنام ریاض احمد، ووربلاخان وغیرہ ، بنام کے پی گورنمنٹ بشمول تحصیل ناظم چترال و ٹی ایم او چترال کے خلاف دائر کر رکھے تھے۔ مقدمے کی سماعت آج یعنی ۲۵ ستمبر بروز پیر جسٹس محمد غضنفر اور جسٹس سید ارشاد علی کی عدالت میں ہوئی۔ کیس کی پیروی ایڈوکیٹ رحیم اللہ چترالی پشاور ہائی کورٹ اور ایڈوکیٹ رحمت علی پشاور ہائی کورٹ نے کی۔ سماعت کے بعد مذکورہ ٹیکس کی وصولی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے معطل کرنے کا حکم دیا گیا اور تحصیل ناظم چترال اور ٹی ایم او چترال کو ان پرسن پیش ہونے کا بھی حکم دیا گیا۔ واضح رہے کہ یہ ٹیکس تحصیل کونسل کی جانب سے لاگو کیا گیا تھا مگر عوامی احتجاج کے بعد تحصیل کونسل کے ممبران بھی ٹی ایم او اور تحصیل ناظم کے خلاف بیاں دینے لگے تھے۔ مگر کوئی ٹھوس اقدام سے قاصر تھے اور لٹکوہ کے عوام نے اپنے طور پر اس ٹیکس کو ہائی کورٹ میں چلینچ کر رکھے تھے جو کہ منظور کی گئی تھی اور آج فیصلہ بھی سامنے آیا۔

Facebook Comments