65

ضلع چترال میں پاکستان پیپلز پارٹی کو انتخابات میں کامیابی نہیں ملی ۔لیکں کئی عرصے بعد اپنا ووٹ بینک بحال کرنے میں کامیاب ہوا ۔ صدر امیر اللہ

چترال (نمائندہ آوازچترال) پاکستان پیپلز پارٹی اپر چترال کے عہدہ ادروں نے گذشتہ الیکشن میں شاندار کارکردگی دیکھانے پر اپر چترال کے تمام کارکنان ، تحصیل ، سب تحصیل ، یوسی اور ویلج سطح پر عہدہ داروں ، پی وائی او اور ووٹرز کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی کو انتخابات میں کامیابی نہیں ملی ۔ لیکن پی پی پی کئی عرصے بعد اپنا ووٹ بینک بحال کرنے میں کامیاب ہوا ہے ۔ اور اس کا کریڈٹ یقینی طور پر اپر چترال کو جاتا ہے ۔ پیر کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی اپر چترال کے صدر امیر اللہ ، جنرل سیکرٹری حمید جلال ، سنئیر نائب صدر افضل قُباد ، صدر سب تحصیل مستوج غلام مصطفی ، انفارمیشن سیکرٹری غلام خان ، ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری ڈسٹرکٹ چترال عبدالرزاق ، صدر سب تحصیل موڑکہو عبدالمجید ، سابق صدر عبدالحسین ، صدر پی وائی او صاحب گار داود ، ممبر ڈسٹرکٹ کونسل چترال شیر عزیز بیگ وغیرہ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ الیکشن کے بعد نامزد امیدواروں کو پارٹی ووٹرز اور کارکنان کا شکریہ ادا کرنے کیلئے اپر چترال کا دورہ کرنا تھا ۔ لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر تاحال نہیں آ سکے ۔ اس لئے ہم اُن تما م ووٹرز اور کارکنان کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ جنہوں نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود ہم پر اعتماد کیا ۔ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کے حق میں اپنا حق رائے دہی استعمال کی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ الیکشن کے موقع پر امیداوروں کی نامزد گی کے سلسلے میں اُن کے ساتھ مشاورت نہیں کی گئی ۔ بعض پارٹی ورکرز ناراض تھے ، جبکہ دوسری طرف میڈیا کی طرف سے عمران خان کی جبرا مسلسط کرنے کی کوشش جاری رہی ، اور چترال میں ایم ایم اے کے مضبوط اتحاد کی بنا پر بھی ووٹرز تذبذب کا شکار رہے ۔ اس کے باوجو الیکشن میں اپر چترال میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکردگی بہت بہتر رہی ۔ جس کیلئے تمام عہدہ داران و کارکنان دادو تحسین کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ گذشتہ 10سالوں سے لوئر چترال میں پارٹی کی صدارت اور اسمبلی میں نمایندگی رہی ۔ اس کے باوجود حالیہ انتخابات میں رزلٹ مایوس کُن تھے ۔ جس کا ثبوت یہ ہے ۔ کہ حالیہ نیشنل اسمبلی کے انتخابات میں لوٹکوہ کے 3یونین کونسلوں کے مجموعی ووٹ 9948تھے ،اور چترال کے 11یونین کونسلوں کے 9168ووٹ پی پی پی کو پڑے ۔ جبکہ اپر چترال کے 10یونین کونسلوں سے 13668ووٹ پاکستان پیپلز پارٹی نے حاصل کی ۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی میں لوئر چترال کے 14یونین کونسلوں میں 15200 اور اپر چترال کے 10یونین کونسلوں میں 15600ووٹ پی پی پی نے حاصل کی ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے ۔ کہ اپر چترال کا نتیجہ مجموعی طور پر بہت اچھا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ اگر الیکشن سے پہلے امیدواروں کی نامزدگی ورکروں کے ساتھ مشاورت سے کی جاتی تو نتائج مزید بہتر ہو سکتے تھے ۔ صدر پی پی پی امیر اللہ اور کابینہ کے عہدہ داروں نے کہا ۔ کہ اپر چترال کا یہ نتیجہ ورکروں کے ساتھ اُن کی قریبی رابطہ کاری سے ہی ممکن ہو اہے ۔ جس کیلئے وہ تمام کے مشکور ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پاکستان پیپلز پارٹی اُن کی شناخت ہے ۔ اور وہ اس کی ترقی و کامرانی کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ لیکن قیادت پر یہ لازم ہے ۔ کہ وہ کارکنوں کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھے ۔ اور پارٹی کو مشاورت سے چلانے کی کو شش کرے ۔

Facebook Comments