42

محمد شریف شکیب….خاندانی نظام اورذہنی صحت

طب کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین، محققین اور دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ ہمارا روایتی خاندانی نظام خطرے کی زد میں ہے جس کی وجہ سے ہم بے شمار مسائل اور مشکلات سے دوچار ہو رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں دوسروں کی اندھی تقلید ایک روایت بن گئی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم نے مغرب والوں کی خوبیوں کو اپنانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ لیکن ان کی خامیوں کو فیشن کے طور پر اپنا کر خود کو ترقی پسند کہلوانے پر تلے ہوئے ہیں۔ذہنی امراض کے حوالے سے چترال میں ایک سمینار سے خطاب میں معروف ماہر نفسیات و ذہنی امراض پروفیسر ڈاکٹر خالد مفتی کا کہنا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں ہمارے لئے بہت سی آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں صدیوں سے قائم خاندانی نظام کو ترقی کی یہ لہر دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ موبائل پر فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور دیگر انواع و اقسام کی سہولیات کو ہم نے معلومات کے حصول اور اچھائی کے فروغ کے بجائے منفی طریقے سے استعمال شروع کردیا ہے۔ دادا، دادی، بیٹے ، بیٹیاں، پوتے پوتیاں ایک ہی چھت تلے رہنے کی روایت دم توڑ چکی ہے۔ ماں ، باپ اور بیٹے بیٹیاں ایک گھر میں رہنے کے باوجود ایک دوسرے سے کوسوں دور اور اپنی اپنی دنیا میں مگن ہیں۔ باپ اپنے موبائل میں دوستوں کے ساتھ چیٹنگ میں مصروف ہے تو ماں اپنا موبائل لے کر ایک کونے میں بیٹھی ہوئی ہے۔ بیٹا اپنا لیپ ٹاپ لے کر اس میں کھویا ہوا ہے تو بیٹی اپنا آئی فون لے کر سہیلیوں سے گفت گو میں مگن ہے۔ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے،گھریلو امور پر صلاح مشورہ کرنے ، خاندان اور سماج کے مسائل پر گفت و شنید اور بڑوں سے مشاورت کرنا اب دقیانوسی تصور کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے افراد کے انفرادی مسائل اور خاندان کے اجتماعی مسائل میں اضافہ ہوا ہے اور ان کا مل بیٹھ کر حل تلاش کرنے کی کسی کو فرصت نہیں۔ ہر شخص اپنا مسئلہ خود حل کرنے پر تلا ہوا ہے جب مسئلہ حل نہ ہوسکے تو ہائپر ٹینشن اورڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے ۔جب یہ صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو نوجوان اپنی زندگی اپنے ہاتھوں ختم کرنے پر مجبور ہوتاہے۔عام لوگوں کی بات چھوڑیں ۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی ذہنی بیماری کو مرض تسلیم نہیں کرتے ۔ خون کے امراض، تپ دق، کینسر، فالج، امراض قلب، زیابیطس، ہیضہ اور نمونیا کو بیماری تسلیم کرکے ان کا علاج ڈاکٹر سے کروایا جاتا ہے۔ ذہنی پریشانی، ڈپریشن، چڑچڑاپن، بھولپن،تناو ، چپ لگنے اور بیسیار گفتاری کو بیماری نہیں سمجھا جاتا۔اور اس وقت تک نظر انداز کیا جاتا ہے جب تک مریض ہوش و ہواس سے عاری نہ ہوجائے۔جسے عرف عام میں پاگل یادیوانہ کہا جاتا ہے۔شاعر حضرات نے دیوانہ پن کو محبت کا سرور قرار دے کراسے عاشقانہ لباس پہنانے کی کوشش کی ہے۔لیکن یہی دیوانہ پن انسان کو معاشرے سے الگ تھلگ کردیتا ہے اور اس میں مایوسی کا تڑکا لگ جائے تو انسان خود اپنی جان کا دشمن بن جاتا ہے۔ عوام کی طرح حکومت بھی ذہنی امراض کوعوامی مسئلہ سمجھنے کو تیار دکھائی نہیں دیتی۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اکثر سرکاری اسپتالوں میں ذہنی امراض کے ماہرین کی یا تو اسامیاں ہی نہیں رکھی گئیں یا پھر وہ اسامیاں برسوں سے خالی پڑی ہیں۔ چترال، دیر، بونیر، شانگلہ، کوہستان، بٹگرام ، کرک، ہنگو، لکی مروت اور قبائلی اضلاع میں کسی کو اپنی ذہنی بیماری کا ادارک بھی ہوجائے تو انہیں اپنے علاقے کے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال میں بھی ماہر ذہنی امراض سے مشاورت اور علاج کی سہولت دستیاب نہیں۔ کسی عزیز رشتہ دار کو اس کے حال پر ترس آجائے تو اسے پشاور کے کسی اسپتال میں پہنچا دیتا ہے۔ورنہ ہوش و ہواس کھو دینا اس مریض کا مقدر بن جاتا ہے۔چترال میں رواں سال خود کشی کے 35واقعات رونما ہوئے ہیں۔اس تشویش ناک صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے حقائق معلوم کرنے کے لئے ایک کمیشن تشکیل دیا ہے۔ ذہنی امراض پر منعقدہ سمینار کے مقررین اور شرکاء نے متفقہ قرار داد میں خیبر پختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی اور تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتالوں میں فوری طور پر ذہنی امراض کے ماہرین کا تقرر عمل میں لایاجائے۔ تاکہ نوجوانوں کو بے وقت موت سے بچایاجاسکے۔

Facebook Comments