62

داد بیداد… ریڈیو پاکستان کا المیہ… ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

خبر آگئی ہے کہ وزیر اطلاعات نے ریڈیو پاکستان اور ٹیلی وژن کے لیے میڈیا یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے سابقہ وفاقی حکومت نے ریڈیوکے 13 اسٹیشنوں کو بند کر کے قومی خزانے میں سا لانہ ایک ارب 80 کروڑبچت کرنے کی پالیسی کی پالیسی دی تھی یہ بھی خبر ہے کہ مالی سال کے اختتام تک ریڈیو پاکستان کی تنصیبات اور عمارتوں کے ساتھ مشینری کو نیلام کر کے قومی خزانے میں د و ارب روپے جمع کئے جائیں گے یہ واحدشعبہ ہے جس میں نئی حکومت نے مسلم لیگ (ن) کی پالیسی کو نہ صرف اپنایا ہے بلکہ مزید آگے بڑھایا ہے مسلم لیگ (ن) نے 2017 ء میں مریم صفدر اور مریم اورنگ زیب کی سفارش پر ریڈیو پاکستان کو بند کرنے کا کام شروع کیا تھا پروگراموں کے شعبے بند کرنے کی منظوری دی جا چکی تھی انجنیر نگ کے شعبے میں نئی خریداریوں پر پابندی لگای گئی تھی مریم صفدر اور مریم اورنگزیب نامی دو خواتین کا استدلال یہ تھاکہ ریڈیو پر وزیراعظم کی تصویر نہیں آتی صرف خبر آتی ہے ایسی خبر کے لیئے ٹوئٹر اور فیس بک ہی کافی ہے ریڈیو پاکستان کی کیا ضرورت ہے؟
ایک بریفنگ میں سابق وزیر اطلاعات کوبتایا گیا کہ ٹوئیٹر اور فیس بک کے باوجود ہمارے پڑوسی ممالک نے ر یڈیو کو مزید طاقتور میڈیم کا درجہ دیا ہے دنیا کے طاقتور ممالک بھی ریڈیو پر سرمایہ لگاتے ہیں ،بی بی سی، اور وائس آف امریکہ کی مثالیں سامنے ہیں آل انڈیا ریڈیو پہلے سے زیادہ مقبول ہے ،ریڈیو کابل،ریڈیو ماسکو،ایران،زاہدان، ریڈیو چائنہ انٹرنیشنل کے علاوہ وائس آف جرمنی ڈونچے ویلے کی بڑی دھوم ہے،لیکن محترمہ مریم اورنگزیب نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت ریڈیو پاکستان سے خوش نہیں ہے ایک لکھاری نے تجویز ی دی کہ ریڈیو پاکستان ہماری تاریخ کا حصہ ہے ہماری ثقافت کی نشانی ہے ہماری تہذیب کی علامت ہے اس کے ساتھ پاکستان کا نام آتا ہے اورنام کی وجہ سے ہمارے دشمنوں کو پسند نہیںیہ بات وزیراطلاعات کی سر کے اپر سے گزر گئی بعض ادیبوں نے وزیر اطلاعات کو خواہ مخواہ یہ بتانے کی کوشش کی کہ ماضی میں ملک کے ادیبوں اور شعرانے ریڈیو پاکستان کے ذریعے قوم میں اگاہی، بیداری اور حب الوطنی کے جذبے کی آبیاری کی ،سعادت حسن منٹو،احمد ندیم قا سمی اور اشفاق احمد کی مثالیں دی گئیں مگر پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو شکوہ تھا کہ ریڈیوپر وزیر اعظم کی تصویر نہیں آتی نیز ریڈیو پر خرچ ہونے والا بجٹ اگر ٹی وی پرگرام اور ٹاک شوز خریدنے پر لگایا جائے تو زیادہ فائدہ ہوگا پارٹی کو تقویت ملے گی خدا کا کرناایسا ہوا کہ ریڈیو پاکستان کا گلا گھونٹنے کے باوجودپارٹی کو فائدہ نہیں ہوا موجودہ حکومت اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے سامنے رکھنے کے لئے صرف دو باتیں رہ گئی ہیں جو سابقہ حکومت کی سمجھ میں نہیں آسکتی تھیں
پہلی بات یہ ہے کہ ٹیلی وژن ،انٹرنیٹ،تھری جی،فور جی،براڈبینڈاور دیگر ذرائع ابلاغ کے باوجودشہری اور دیہی آبادی میں 73 فیصد کا انحصاراب بھی ریڈیو پر ہے ریڈیوکو حجروں اور چوراہوں میں ، دکانو ں اور گاڑیوں میں دیہات کے اندرگھروں اور گلیوں میں رغبت کے ساتھ سنا جاتا ہے آ ل انڈیاریڈیو اور وائس اف امریکہ کو سب سے ذیادہ خطوط،ٹیلیفون اور پیغامات پاکستان سے جاتے ہیں بی بی سی اور ریڈیو ڈوئچے ویلے کی سب سے ذیادہ لسنر شپ پاکستان میں ہے ریڈیو چائنہ انٹرنیشنل دیگر ممالک کے مقابلے پاکستان کے اندرزیادہ مقبول ہے اگر ہمار ے عوام غیر ملکی ریڈیو اس قدر شوق اورمحبت کے ساتھ سنتے ہیں تو ریڈیو پاکستان کو کیوں نہیں سنینگے ؟ بلکہ حالات کاتقاضا تویہ ہے کہ ریڈیو پاکستان کے شعبہ پروگرامات کو پہلے سے زیادہ فعال کیا جائے تا کہ ریڈیو کابل اورآل انڈیا ریڈیو کے مقابلے میں بہتر پروگرام پیش کئے جاسکیں دوسری اہم بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت دیہی آبادی اور پسماندہ طبقوں کی نمایندگی کرتی ہے دیہی آبادی میں 74 زبانیں بولی جاتی ہیں متنوع کلچر اور ثقافت ہے بو قلمون لوک ورثہ ہے مختلف زبانوں کے ادب کا الگ الگ رنگ ہے اور نوجوانوں کی بڑی تعداد مقامی کلچر کا ولدادہ ہے پاکستا ن اور کپتان کے ترانے74 زبانوں میں گائے جاتے ہیں اسکردو ،ابیٹ آباد ، چترال، گلگت،تربت اور ڈی آئی خان جیسے اضلاع میں ریڈیو پاکستان کے جو براڈ کاسٹنگ اسٹیشن قائم ہیں وہ مقامی ادب، کلچر ور ثقافت کو فروع دیتے ہیں قومی سلامتی اور ملی یک جہتی میں کردار ادا کرتے ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی مدد کرتے ہیں سکردو،چترال اور ڈی آئی خان میں ریکارڈہونے والا پروگرام اگرقومی نشریاتی رابطے پر نشر ہوتاہے توقوم کی طاقت کا ذریعہ بنتا ہے محبت اور اخوت کو فروغ دیتا ہے وزارت اطلاعات و نشریات میں ایک مخصوص لابی ہے اس لابی کو ریڈیو پاکستان کے مذہبی پروگرام پسند نہیں ہیں ختم نبوت کا بار بار ذکر اس لابی کو پسند نہیں ہے علمائے کے مذاکرے،مباحشے،درس قرآن، درس حدیث اور تفہیم دین کے پرو گرام پسند نہیں ہیں اس لیے وزیر اطلاعات کی یہ مخصوص لابی ہر آنے والی حکومت کو باور کراتی ہے کہ ریڈیو پاکستان کو اب بتدریج بند کرنے کا وقت آگیا ہے یہ وہ ایجنڈا ہے جو ہمارے دشمنوں کا کام آسان کر دیتا ہے 1948 اور 1965 کی جنگوں میں ریڈیو پاکستان نے پاک فوج کے شانہ بشانہ کام کیا تھا قوم کو حوصلہ دینے اور پاک فوج کے کارناموں کو اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا یہ کردا ریڈیوپاکستانکے کاونٹر پبلیسٹی سیکشن نے افعان جنگ کے دوران بھی احسن طریقے سے ادا کیا موجودہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ریڈیو پاکستان کو وائس اف امریکہ،آل انڈیا ریڈیو اور ریڈیو کابل کے منفی پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لئے مضبوط ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے پروگرامات کے شعبے کو 1965 اور 1995 کی طرح تقویت دی جائے جن شعبوں کو 2017 ء میں مریم صفدر اور مریم اورنگزیب نے بند کروایا تھا ان شعبوں کو دبارہ فعال کیا جائے تا کہ ریڈیو پاکستان ایک بار پھر دشمن کے للکارکا جواب دینے کے قابل ہو جائے۔

Facebook Comments