83

نظام عدل کی ناکامی کا ایک اور واقعہ، کمسن بچہ11 سال تک جیل میں رہا

پشاور ( آوازچترال رپورٹ )سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کے الزام میں قید10سالہ بچے کو11سال بعد رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ فیصل آباد کی سنٹرل جیل میں 11 سال ایک ماہ سے قید21سالہ نوجوان محمدعدنان کے ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہواہے۔جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائزعیسی اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے ملزم بچے کی بریت کےلئے دائر اپیل کی سماعت کی تو خاتون وکیل ملکہ صباح اور خواجہ محمد سعید ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ نے 10سال کے بچے سے 4من سے زائد چرس برآمدگی کا الزام لگایا جبکہ منشیات برآمد کرنے والے تفتیشی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ منشیات کا مالک مقدمہ میں نامزد ایک ریاض نامی شخص تھا جبکہ منشیات کے سیمپل باحفاظت لے کر جانابھی ثابت نہیں ہوتا اور فورنزک لیبارٹری کی رپورٹ بھی واضح نہیں ہے۔ڈپٹی پراسیکیوٹر پنجاب عبدالوحید نے عدالت کو بتایاکہ منشیات کے مقدمہ کادو سال بعد چالان پیش ہونا بھی شکوک کو جنم دیتا ہے، جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلہ کی روشنی میں اگر منشیات سیمپل باحفاظت لے کرجاناثابت نہ ہوتوایسی صورت میں ملزم کی بریت کا مقدمہ بنتا ہے۔ عدالت نے جیوونائیل کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلے کالعدم قراردیتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ بچے کو فوری طورپر رہا کیا جائے۔عدالت کے باہر ملکہ صباح ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ بچے کو ٹی بی کا مرض لاحق ہو چکا ہے اور اسے جیل حکام ہرہفتے فیصل آباد کے ہسپتال علاج کےلئے لے کرجاتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے بچے کو 13سال کی عمر میں عمر قید اور 10لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی اور لاہور ہائیکورٹ نے24مارچ2014کواپیل مسترد کرتے ہوئے سزابرقراررکھی، ان کا کہنا تھا کہ بچے کی سزا تقریباپوری ہونے والی ہے۔بچے کو 10سال کی عمر میں شیخوپورہ کے علاقہ فیروز والا سے 8اگست 2007 کوگرفتار کیا گیا اور کہا گیا کہ وہ چنگ چی رکشے پر 4من3کلوچرس اور180گرام ہیروئن رکشے پر لے کر جا رہا تھا جبکہ دیگرملزمان موقع سے فرار ہو گئے تھے۔

Facebook Comments