53

صوبے میں شامل نئے سات اضلاع کی تعمیر و ترقی ترجیح ہے۔،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان

پشاور( آوازچترال رپورٹ)وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبے میں شامل نئے سات اضلاع کی تعمیر و ترقی ترجیح ہے ۔ نئے اضلاع میں انتخابات کیلئے ڈی لمٹیشن سمیت بنیادی نوعیت کی فیصلہ سازی کیلئے حکمت عملی بنار ہے ہیں۔ اس مقصد کیلئے ٹاسک فورس پہلے سے تشکیل دی جا چکی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں الیکٹرانک میڈیا پشاورکے بیورو چیفس کو دیئے گئے عشائیہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی حکومت کے ترجمان شوکت یوسفزئی اور سیکرٹری اطلاعات مسعوداحمد بھی ملاقات میں موجود تھے۔ملاقات میں پی ٹی آئی کے منشور ، آئندہ کی حکمت عملی اور صوبائی کابینہ کی ممکنہ توسیع ،صوبے میں شامل نئے اضلاع میں الیکشن ،انتظامی اور سکیورٹی کے اُمور اور دیگر اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔صوبے میں شامل قبائلی اضلاع کی ترقی اور بحالی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ انضمام کے نتیجے میں چیلنجز بڑھ چکے ہیں لیکن ہم اُن پر قابو پانے کیلئے پر عزم ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ اگر چہ یہ ایک مشکل ٹاسک ہے تاہم مسائل پر قابو پالیں گے ۔ متعدد صوبائی محکمے اور ادارے وہاں پہلے سے موجود ہیں۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نئے اضلاع میں انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے مالی وسائل اور وہاں پولیسنگ سسٹم جیسے اُمور خصوصی توجہ کے حامل ہیں۔ ان مقاصد کیلئے صوبائی حکومت کام کر رہی ہے اور یقین ہے کہ ہم تمام مسائل پر احسن انداز سے قابو پالیں گے ۔ اُنہوں نے کہاکہ وہ بطور وزیراعلیٰ میڈیا سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکرچلیں گے اور پی ٹی آئی کے وژن اور پالیسی کے مطابق عوام کی فلاح و ترقی کیلئے کام کریں گے ۔صوبے کے حقوق کے حوالے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے محمود خان نے کہاکہ بلاشبہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے صوبے کے حقوق کیلئے بڑی جدوجہد کی ہے ۔موجودہ صوبائی حکومت صوبے کے حقوق کیلئے ہر فورم پر موثر اورتوانا آواز اُٹھائے گی ۔وفاق کئے گئے وعدے پورے کرے ۔اُمید ہے کہ اس بار صوبے کے حقوق لینے میں دشواری نہیں ہو گی کیونکہ مرکز میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت ہے ۔وزیراعلیٰ نے صوبائی کابینہ کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ صوبائی کابینہ میں پسماندہ اضلاع اور خواتین کو بھر پور نمائندگی دی جارہی ہے ۔سابق صوبائی حکومت کے بنائے گئے قانون وسل بلوئر سمیت دیگرقوانین پر عمل درآمد کیلئے کام شروع کر دیا گیا ہے ۔وہ قوانین کے تحت رولز بنانے کی ہدایت جاری کر چکے ہیں۔وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ آٹھ مہینے کے بجٹ کی تیاری پر کام شروع ہے ۔وہ اداروں کو مضبوط بنائیں گے اور کرپشن کا خاتمہ کریں گے۔آئندہ ہفتے کیبنٹ اجلاس میں 100 روزہ پلان اور اہداف کا تعین کریں گے ۔ملاقات میں پشاور میں زیر تعمیر ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبے پر بھی بات کی گئی ۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ وہ اس منصوبے کو تیز رفتار ی سے مکمل کریں گے ۔ پشاور میں ٹریفک کی روانی جلد بحال کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے بی آر ٹی کی تیز رفتار تکمیل اُن کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ وزیراعلیٰ نے مزید انکشاف کیا کہ پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں ڈینگی وائرس پر قابو پانے کیلئے ہر سطح پر کام ہو رہا ہے ۔ اُنہوں نے اس موقع پر پشاور پریس کلب کے زیر التواء مسائل حل کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی اور کہاکہ اُن کی حکومت صحافیوں کو درپیش مسائل اور اُن کی شکایات کے ازالے کا عمل جاری رکھے گی ۔

Facebook Comments