48

سابق صدر کو گرفتار کرنے کا حکم، پیپلز پارٹی کی وارنٹس جاری ہونے کی تردید

چترال(آوازنیوز)منی لانڈرنگ کے35 ارب کے سکینڈل میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔یہ حکم بنکنگ عدالت کراچی کی طرف سےجاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدم پیشی پر سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کیلئے اب ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے ہیں۔بنکنگ عدالت نے آصف زرداری سمیت تمام مفرور ملزموں نصیر عبداللہ، اسلم مسعود، عارف خان، نورین سلطان اور دیگر کی گرفتاری کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔اس سے قبل منی لانڈرنگ اسیکنڈل میں ملوث اومنی گروپ کے مالک اور سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کاعدالت نے24 اگست تک جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔کراچی میں منی لانڈرنگ اسیکنڈل کی سماعت بینکنگ کورٹ میں ہوئی،ایف آئی اے نے ملزمان سے تحقیقات کے لئے ریمانڈ حاصل کئے جانے کی درخواست کی۔ ام ہے،ایف آئی اے نے سابق صدرآصف زرداری سمیت 20ملزمان کو مفرور قراردیاہے ۔عدالت نے ملزمان کا 24 اگست تک ریمانڈ منظور کرتے ہوئے تحقیقات سے متعلق پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔دوسری جانب انور مجید کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کر دی تاہم عدالت نے ایف آئی اے کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزمان کا 24 اگست تک جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔

واضح رہے :انورمجید اور ان کے بیٹے غنی مجید کوسپریم کورٹ سے درخواست ضمانت مسترد ہو جانے پر گرفتار کیا گیا تھا، آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور گرفتاری سے بچنے کےلیے ضمانت حاصل کرچکی ہیں۔جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں گرفتار اومنی گروپ کے مالک انور مجید اور ان کے صاحبزادے عبدالغنی کو اسلام آباد سے کراچی پہنچا گیا۔دوسری طرف پیپلز پارٹی نے آصف زرداری کی گرفتاری وارنٹ کی خبروں کو جعلی قرار دے دیا ہے، فاروق ایچ نائیک کا کہنا ہے کہ سابق صدرآصف زرداری کے گرفتاری وارنٹ جاری نہیں ہوئے، میڈیا میں بینکنگ کورٹ کے گرفتاری وارنٹس کے متعلق چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔

Facebook Comments