40

جھوٹا کون ہے؟ چیف جسٹس پاکستان، چودھری نثار یا پھر کوئی اور

اسلام آباد( آوازچترال رپورٹ)مسلم لیگ ن کے ناراض رہنما چوہدری نثار نے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کے بیان کی نفی کر دی ہے جس میں انہوں نے ریمارکس دیئے تھے کہ پانامہ جے آئی ٹی میں فوجی افسران سپریم کورٹ کے حکم پر نہیں بلکہ چودھری نثار کے حکم پر شامل کئے گئے تھے۔چودھری نثار کی طرف سے اس وضاحت کے بعد اب یہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ اگر نواز شریف کیخلاف کرپشن ریفرنس کی تحقیقات کیلئے پانامہ جے آئی ٹی میں فوجی افسران سپریم کورٹ نے بھی شامل نہیں کئے اور چودھری نثار نے بھی شامل نہیں کئے تو پھر وہ کونسی شخصیت یا ادارہ تھا جس کے حکم فوجی افسران کو جے آئی ٹی میں شامل کیا گیا۔ایک بیان میں سابق وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا ہے کہ کہا ہے کہ میرا یا وزارت داخلہ کا فوجی افسران کی شمو لیت سے متعلق کوئی عمل دخل نہ تھا۔
نجی نیوز چینل جیو نیوز کے مطابق اس بیان پر رد عمل دیتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ جے آئی ٹی اعلیٰ عدلیہ کے تین رکنی بینچ کے حکم کے تحت تشکیل دی گئی اورجے آئی ٹی میں فوجی افسران کی شمولیت بھی اسی فیصلے کاحصہ تھی۔چودھری نثار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میرا یا وزارت داخلہ کا جے آئی ٹی کی تشکیل میں کوئی کردار نہیں تھا، فوجی افسران کی شمولیت سے متعلق میرا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ نے از خود ایف آئی اے، ایس ای سی پی اور نیب سے 3,3نام مانگے گئے، آئی ایس آئی اور ایم آئی سے بھی رجسٹرار سپریم کورٹ نے خود ہی رابطہ قائم کیا، تمام عمل میں کسی وزارت یا حکومتی شخصیت کو شامل نہیں کیا گیا۔یاد رہے کہ چند دن قبل ایک سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے عدالتی کارروائی کے دوران یہ ریمارکس دیئے تھے کہ پانامہ جے آئی ٹی میں فوجی افسران کو تڑکا لگانے کیلئے شامل کیا گیا تھا جس کے بعد سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں میں چیف جسٹس کے ریمارکس کو لے بحث شروع ہو گئی کہ آیا چیف جسٹس پاکستان کسی چیز کا اعتراف کر رہے ہیں یا پھر یہ کوئی اور معاملہ ہے۔ چیف جسٹس پاکستان کے ان ریمارکس کو سوشل میڈیا میں کھلےعام سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ تجزیہ کاروں، دانشوروں اورسماجی رہنمائوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر چیف جسٹس پاکستان کے ریمارکس کیخلاف تنقیدی پیغامات جاری کئے۔شاید سوشل میڈیا پر تنقید کا ہی اثر تھا کہ آج چیف جسٹس پاکستان نے ایک غیرمتعلقہ کیس میں پانامہ جے آئی ٹی میں فوجی تڑکے والے ریمارکس پر دوبارہ ریمارکس دیئے جن سے تاثر ابھرا کہ چیف جسٹس اپنے ریمارکس کی تردید یا وضاحت کرنا چاہ رہے ہوں۔ چیف جسٹس نے بدھ کے روز ریمارکس دیئے کہ پانامہ جے آئی ٹی میں فوجی افسران سپریم کورٹ کے حکم پر نہیں بلکہ چودھری نثار کے حکم پر شامل کئے گئے تھے۔ان ریمارکس پر چودھری نثار کا ردعمل آنے کے بعد اب سوشل میڈیا پر اس بات پر طنز ومزاح اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایک نئی جے آئی ٹی بنائی جائے جو اس بات کی تحقیقات کرے کہ پانامہ جے آئی ٹی میں فوجی افسران کا تڑکا لگوانے پر بیان دینے والوں میں جھوٹا کون ہے

Facebook Comments