51

نواز شریف جے آئی ٹی میں ملٹری انٹیلی جنس کو تڑکا لگانے کیلئے شامل کیا گیا ہوگا، چیف جسٹس

اسلام آباد( آوازچترال رپورٹ)چیف جسٹس پاکستان نے اومنی منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کیس کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی میں کام کے بندے چاہئیں، نواز شریف والی جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی والوں کو تڑکا لگانے کیلئے رکھا تھا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے زرداری اور فریال تالپور کے بنک اکاؤنٹس میں اربوں روپے کی ٹرانزیکشن کے مقدمے کی سماعت کی،دوران سماعت ڈی جی ایف آئی نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات میں مزید 15 اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں جن میں 6 ارب روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ اربوں روپے جعلی اکاؤنٹس میں کدھر سے آئے اور یہ پیسہ جعلی اکاؤنٹس سے کدھر گیا؟ اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے وکیل نے کہا کہ وہ ٹرائل کورٹ میں تمام ٹرانزیکشن کا حساب دیں گے۔دوران سماعت مدنی ٹی وی کا ملازم بھی عدالت میں پیش ہوا اوراپنے بیان میں کہا کہ اس کا اومنی گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس کے اکاؤنٹ میں 80کروڑ روپے کہاں سے آئے اس کا علم نہیں ہے۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ پچھلی جے آئی ٹی میں کون تھے؟ عدالت کو بتایا گیا کہ 6 افسران تھے جن میں آئی ایس آئی کے بریگیڈئیر نعمان بھی شامل تھے، چیف جسٹس نے کہا کہ وہ تڑکا لگانے کیلئے رکھا تھا، چھوڑیں آئی ایس آئی، ایم آئی والوں کو، ہمیں کام والے بندے چاہئیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاناما جے آئی ٹی میں ایم آئی کو تڑکا لگانے کےلیے شامل کیا گیا ہوگا۔واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے گزشتہ سماعت پر آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں پاناما طرز کی جے آئی ٹی بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کیس میں جے آئی ٹی بنادیتے ہیں جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی ہو جائے گا اور ایسی جے آئی ٹی بنائیں گے جیسی نواز شریف کے خلاف بنائی تھی۔خیا ل رہے کہ ایف آئی اے بے نامی اکاؤنٹ سے منی لانڈرنگ کیس میں 32 افراد کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے جن میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور بھی شامل ہیں جب کہ اسی سلسلے میں گزشتہ دنوں نجی بینک کے سابق صدر حسین لوائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔

Facebook Comments