45

جب نواز شریف پر کرپشن ثابت ہی نہیں ہوئی تو سزا کیسے دیدی؟اسلام آباد ہائیکورٹ کی لفظ بہ لفظ کارروائی

  اسلام آباد( آوازچترال رپورٹ)اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف اور دیگر کی طرف سے سزا معطلی کی اپیل پر دو رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے بنچ میں جسٹس اطہر من اللہ اور میاں گل حسن اورنگزیب شامل ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ: کیا کسی بھی پارٹی کو بنچ پر اعتراض ہے؟خواجہ حارث: نہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، ہمیں پورا اعتماد ہے۔جسٹس اطہر من اللہ: پہلے سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کریں گے۔ کم سزا کو پہلے سنتے ہیں۔نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: اپیلیں پہلے سنی جائیںجسٹس اطہر من اللہ: اپیل پہلے نہیں سن سکتے۔ پہلے سزا معطلی کی درخواست سنیں گے۔ اپیل اپنے نمبر پر سنی جائے گی۔ سزا معطلی میں زیادہ تفصیلات میں نہیں جائیں گے۔ ہم میرٹ بھی دیکھیں گے لیکن فیصلے کی حد تک۔خواجہ حارث: فیصلے کے میرٹ بتاؤں گا۔ایڈووکیٹ امجد پرویز: میرے مؤکل کی بریت کا کیس ہے۔ میں قانون کے تحت میرٹ پر تفصیلی دلائل دونگانیب کا اعتراض مسترد نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: سزا معطلی کی اپیل چھ ماہ کے بعد سنی جا سکتی ہے۔جسٹس اطہر من اللہ: اگر آپ کی بات ٹھیک ہے تو کیا تمام ہائیکورٹس قانون کی خلاف ورزی کررہی ہیں؟ حال ہی میں مشال خان کیس میں ملزمان کی سزا معطلی کی درخواست منظور ہوئی۔ دس دس سال سے جو اپیلیں التوا میں ہیں، کیا ہم ان سے ناانصافی کر سکتے ہیں؟ دیگر کئی مقدمات میں ایپلیں زیر التوا ہیں ان کے ساتھ نا انصافی نہیں کرسکتے۔ ہم پہلے ان اپیلوں کو ٹیک اپ کریں گے جو پہلے سے التوا میں ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ: اس کیس میں ملزمان کی سزا معطلی کی درخواستیں ابھی سن لیتے ہیں۔ نواز شریف کی اپیل پہلے سن لیتے ہیں۔نواز شریف کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت شروعخواجہ حارث: اثاثوں کی ملکیت ثابت نہیں ہے۔ فرض کریں یہ جائیدادیں میری ہیں۔ اب میرے معلوم ذرائع آمدن ریکارڈ پر لائے ہی نہیں گئے۔ اب یہ کیسے معلوم ہو کہ اثاثوں میں تضادات ہیں۔ جب اثاثے ہی معلوم نہیں تو تضادات کا نتیجہ کیسے حاصل ہوا؟

خواجہ حارث ایڈووکیٹ

جسٹس اطہر من اللہ فرد جرم کیا ہے؟ آپ کہتے ہیں کہ اثاثوں کی قیمت نہیں بتائی گئی؟ آپ کی بات میں وزن ہے۔ اگر قیمت ریکارڈر پر آئی ہی نہیں تو ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں میں کیسے سزا ہو گئی؟

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: سزا نیب قانون کی شق 9 اے فائیو کے تحت ہوئی۔

خواجہ حارث: اگر نیب اثاثوں کی ملکیت اور میرے معلوم ذرائع بتا دے تو پھر بار ثبوت مجھ پر آئے گا۔

جسٹس اطہر من اللہ: نیب نے کرپشن میں بریت کو چیلنج نہیں کیا؟

خواجہ حارث: جی مفروضہ یہ تھا کہ کرپشن ہوئی لیکن اس میں بریت دے دی۔ جسٹس اطہر من اللہ: نیب نے کرپشن میں بریت کو چیلنج نہیں کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ نیب نے تسلیم کرلیا کہ یہ کرپشن کی پیسے سے جائیداد نہیں بنائی گی؟نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: یہ معاملہ کرپشن کی ہی پریکٹس میں آتا ہے۔جسٹس اطہر من اللہ: آپ نے فرد جرم کرپشن اور بے نامی دونوں معاملات میں عائد کی؟ آپ نے کرپشن میں بریت کو چیلنج نہیں کیا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ بدعنوانی نہیں ہوئی۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: آپ کو سزا بڑھانے کا اختیار ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ: ہمیں یہاں ازخود نوٹس کا اختیار نہیں ہے۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: ہم بدعنوانی کو ڈیل کرتے ہیں۔ اگر ہم نے یہ ثابت کر دیا کہ اثاثےغیر قانونی طریقے سے بنائے گئے اس کا مطلب کرپشن ہی ہوتا ہے۔ نیب کیسز میں مشکل ہوتا ہے کہ چوری کی وہی رقم بھی بتا دیں۔

نیب پراسکیوٹر سردار مظفر عباسی

جسٹس اطہر من اللہ: نیب سے پوچھیں کہ نواز شریف کی کرپشن سے بریت کو چیلنج کیوں نہیں کیا؟ جب ایک فرد جرم میں بریت ہو جائے تو اس کا کیا مطلب لیا جائے گا؟نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: ریفرنس عوامی عہدیدار سے متعلق ہے۔ زائد اثاثوں کا کیس ثابت ہو گیا۔ نیب احتساب عدالت کے فیصلے سے مطمئن ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ: فیصلے کے مطابق جائیداد کرپشن سے نہیں بنائی گئی۔ اب کیس یہ رہ گیا ہے کہ بس ملزمان وضاحت درست نہیں دے سکے۔

جسٹس اطہر من اللہ: نوازشریف کے خلاف کرپشن میں بریت کے فیصلے کو چیلنج کیوں نہیں کیا؟ خود تسلیم کرلیا کہ کرپشن نہیں ہوئی؟ ٹرسٹ ڈیڈ کو جعلی بھی مان لیا جائے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اس ٹرسٹ ڈیڈ سے معاونت کیسے ثابت ہوتی ہے؟

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب: کیا مریم نواز کو عوامی عہدیدار کے طور پر بھی سزا دی جا سکتی ہے؟

خواجہ حارث: نہیں دی جا سکتی تھی۔

جسٹس اطہر من اللہ: بے نامی ہونا غیر قانونی نہیں ہے۔ ٹرسٹ ڈیڈ کا مقصد ہی یہی ہے کہ میں بے نامی ہوں۔ اگر یہ جعلی بھی ہے تو جرم نہیں بنتا۔ اس میں سازش کہاں سے آگئی ہے؟ آپ کا کیس یہ ہے کہ مریم نواز یا زیر کفالت تھیں یا پھر بے نامی دار تھیں۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: ہمارا کیس یہ ہے کہ مریم نواز جائیداد کی مالک 1993 سے ہیں۔ مریم نواز نے 2006 میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پیش کی۔

جسٹس اطہر من اللہ بچہ تین سال کا ہو تو کیا زیرکفالت ہونے کی سزا معاونت کی دی جائے گی۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: بچہ 18 سال کا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ: نیب نے تسلیم کر لیا ہے کہ نواز شریف نے دولت کرپشن سے نہیں بنائی۔ تین ملزمان میں سے یہ جائیداد کس کی ملکیت میں تھی؟ مجھے ریکارڈ کی طرف جانا ہوگا۔ ریکارڈ کے مطابق مریم نواز بے نامی دار ہے؟ بے نامی دار کو کیسے سزا دی جاسکتی ہے؟

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: مریم نواز نے سازش کی معاونت کی۔

جسٹس اطہر من اللہ: کیا مریم نواز کو نائن اے فائیو کے تحت سزا دی جاسکتی ہے؟ احتساب عدالت نے نیب کےقانون نائن اے فائیوکے تحت بھی سزا دے دی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ نیب کی شق نائن اے فائیو کی پہلے کبھی تشریح ہوئی ہے یا نہیں؟ اگرشق نائن اے فائیوکی تشریح ہوئی ہے تو ہمیں بتا دیں۔ اگر آپ کی بات مان لی جائے تو پھر ہر زیرکفالت شخص سزا پائے گا۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو کس جرم کی سزا دی گئی؟ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر صرف گواہ ہے۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے معاونت کیسے کی؟

جسٹس اطہر من اللہ: آپ کہتے ہیں کہ چونکہ کیلیبری فونٹ دستیاب نہیں تھا، لہذا جعل سازی ہوئی۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: جی کمرشلی دستیاب نہیں تھا۔

 جسٹس اطہر من اللہ: گواہ نے پیش ہو کر کیا کہا، دیکھ لیتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ فرانزک ماہر کی رپورٹ کی بنیاد پر سزا ہوئی۔ فیصلے میں لکھا ہے کہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی تھی جس وجہ سے سزا ہوئی۔ فیصلے میں فرانزک ماہر کا ذکر نہیں ہے۔ آپ نے فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے۔ آپ نے فیصلے کو چیلنج بھی نہیں کیا ہے۔ اب صرف جو فیصلہ سامنے ہے، اس پر فوکس رکھیں۔ احتساب عدالت نے جس بنیاد پر سزا دی ہے، وہ پڑھ لیں۔ فیصلے میں واضح لکھا ہے کہ مالک مریم نواز نہیں ہے، نواز شریف ہے۔ مریم نواز نےاثاثے چھپانے میں والد کی معاونت کی ہے۔ اگر فیصلے میں لکھی انگریزی کی کوئی اور انگریزی ہوسکتی ہے تو بتا دیں۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: مریم نواز بینیفشل اونر تھی۔

جسٹس اطہر من اللہ: ٹرائل کورٹ نے واضح کہا کہ جائیداد کے مالک نواز شرف ہیں۔ اگر اس فیصلے پر کوئی تحفظات تھے تو نیب اپیل دائر کر دیتا۔ احتساب عدالت کہتی ہے کہ عوامی عہدیدار ہوتے ہوئے نواز شریف نے جائیداد بنائی۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: ہم نے ثابت کیا کہ مریم نواز بینیفشل اونر تھیں۔

جسٹس اطہر من اللہ: آپ نے ثابت کیا ہوگا لیکن احتساب عدالت کے جج نے یہ نہیں لکھا۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: آپ کیس ایسے نہ سنیں۔ پہلے وکلاء صفائی کو سن لیں پھر مجھے سنیں۔ اس طرح میں بھی کنفیوز ہورہا ہوں۔

جسٹس اطہر من اللہ: ہم ابھی تفصیل میں نہیں جا رہے ہیں۔ کیس چند نکات پر محدود ہو رہا ہے۔

 جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی رپورٹرز کو تنبیہ: میڈیا غلط تاثر نہ دے، ابھی ہم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ضرورت محسوس کی تو میڈیا کو روک سکتے ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ: ابھی یہ کیس زیر سماعت ہے۔ نواز شریف کا جائیداد سے کیا تعلق ہے؟

خواجہ حارث: نوازشریف کا ان جائیدادوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نیب کے گواہان نے بھی نوازشریف کا تعلق ظاہر نہیں کیا ہے۔ میں نے واجد ضیاء سے جرح میں پوچھا تو انہوں نے نواز شریف کا کوئی تعلق نہیں بتایا۔ نیب نوازشریف سے متعلق ریکارڈ پر کچھ بھی لے کر نہیں آیا۔ کوئی دستاویز نہیں جو یہ بتا سکے کہ نوازشریف ان جائیدادوں کے مالک تھے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب: فیصلے میں لکھا ہے کہ عام طور ہر بچے والدین کے زیرکفالت ہوتے ہیں۔

خواجہ حارث: جی یہ فیصلے میں لکھا گیا ہے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب: جے آئی ٹی نے یہ کہاں لکھا ہے کہ نوازشریف کے بچوں کا موقف کیا تھا۔

خواجہ حارث نے جے آئی ٹی رپورٹ کے متعلقہ حصے پیش کر دیے۔

جسٹس اطہر من اللہ: جائیدادوں کے ساتھ نواز شریف کا کہیں تو تعلق بنا ہو گا۔ یہ بات ہمیں سردار مظفر بتائیں گے۔ حسن اور حسین نواز کیا کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ جائیداد کیسے حاصل کی؟
خواجہ حارث ۔۔۔۔عدالت کو 1980 کے گلف اسٹیل ملز معاہدے کے نکات اور قطری خطوط سے متعلق تفصیل بتاتے ہیں

 جسٹس اطہر من اللہ: یہ فرسٹ امپریشن کا اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔ ایک ہی جائیداد میں ایک دفعہ آپ کو بری کیا جاتا ہے اور دوسری شق میں سزا دی جاتی ہے۔

نیب پراسکیوٹر: یہ غیرقانونی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ:‏عدالت برخاست نہیں ہو گی، یہ غیر قانونی کیسے ہے ،اگر سپریم کورٹ رات 12 بجے تک لگ سکتی ہے تو میری عدالت بھی لگ سکتی ہے ،آپ اطمینان رکھیں اور ثابت کریں کرپشن کہاں ہوئی ؟‏جب سے یہ بینچ بنا ہے میرا اور میرے بچوں کا پیچھا کیا جا رہا ہے کیا ہے ،یہ میری سمجھ سے باہر ہے ،نیب کا وکیل رینجرز کی حفاظت میں عدالت میں آتا ہے ،میرا سوال وکیل صاحب آپ سے ہے آپ عدالت میں ثبوت دیں کہ کرپشن ہوئی ہے اگر نہیں ہوئی تو JIT کی رپوٹ غلط ہے ۔ نوازشریف نے 3 بار اس ملک کے وزیراعظم کا حلف لیا ،یہ ثبوت کے ساتھ کہہ رہا ہوں ،اب آپ ثبوت کے ساتھ کہیں کہ نوازشریف نے کرپشن کی ۔

نیب پراسکیوٹر: جسٹس اطہر جی ،آپ ہمیں تیاری کے لیے کچھ وقت دے دیں ،

جسٹس اطہر من اللہ: آپ تیاری کے ساتھ نہیں آئے 12 رینجرز اہلکار تو آپ کے ساتھ آئیں ہیں اور آپ کا جونیئر اتنی فائلوں کے ساتھ آیا ہے ،کچھ تو تیاری ہو گی آپ کی ۔

نیب پراسکیوٹر: آپ ہمیں نئی تاریخ دے دیں۔

جسٹس اطہر من اللہ: رات 12 بجے تک یہی ہیں، 12 بجے کے بعد تاریخ بدل جائے گی،‏میں رات 12 بجے تک بھی بیٹھ سکتا ہوں، آپ ثابت کریں کہ نوازشریف نے کرپشن کی، جب تک آپ ثابت نہیں کریں گے، یہاں سے نہیں جائیں گے، میرا اور میرے بچوں کا اللہ مالک ہے، جو رات قبر میں ہے باہر نہیں، آپ ثابت کریں ،‏مجھے یہ نہ کہیں کے عدالت کا وقت ختم ہو گیا ہے، میں نہیں اٹھوں گا کیونکہ ہوسکتا ہے کل بینچ ٹوٹ جائے ،اس لیے آپ ثابت کریں کہ نوازشریف نے یہاں یہاں کرپشن کی ۔

جسٹس اطہر امن اللہ: جناب بیرسٹر حامدامین صاحب، آپ نیب کے وکیل کو پانی لا کر دیں ہماری عدالت برخاست نہیں ہو گی، کوئی وقفہ نہیں ہو گا، بغیر ثبوت کے کیسے کسی شخص کو حراست میں رکھا جا سکتا ہے ؟کیسے کسی کو سزا ہو سکتی ہے ؟

جسٹس اطہر من اللہ‏: ہمارے ملک میں ایک ہوا چلی ہوئی ہے غداری کی، مولانا صاحب مشرف کے ساتھ تھے تو غدار نہیں تھے، آج غدار ہو گئے ،ہو سکتا ہے کہ عدالت ختم ہوتے ہی مجھے بھی غدار بنا دیا جائے ،وکیل صاحب آپ کہیں نہیں جا رہے آپ کو بس ثابت کرنا ہے کہ کرپشن ہوئی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ: وکیل صاحب ، نواز شریف کس جرم میں سزا یافتہ ہے ؟
نیب پراسیکیوٹر: کرپشن پر سزا ہوئی
جسٹس اطہر من اللہ: اچھا تو پھر کرپشن کے ثبوت دیں
نیب پراسکیوٹر: کیا میں پانی پی سکتا ہوں ؟
جسٹس اطہر :پی سکتے ہیں لیکن ہماری آنکھوں پر پانی نہیں پھرے سکتے
جسٹس اطہر من اللہ: آپ کو پتہ ہے کسی بے قصور کو جیل میں رکھنا کتنا بڑا جرم ہے ؟
(نیب پراسیکیوٹر کاجسٹس اطہر امن اللہ پر اعتراض )
نیب پراسکیوٹر: آپ وکلاء تحریک میں نوازشریف کے ساتھ لانگ مارچ میں تھے، اس لیے آپ یہ کیس نہیں سن سکتے ۔

جسٹس اطہر من اللہ :تو پھر احتساب عدالت کا جج بھی یہ کیس نہیں سن سکتا، وہ بھی مارچ میں شامل تھا، آپ بہانے نہ بنائیں، کرپشن کا ثبوت دیں، ہو سکتا ہے کل جسٹس صدیقی کی طرح میرے خلاف بھی غداری کی مہم شروع ہو جائے، اس ملک میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، آپ کو اس وقت تک جانے نہیں دوں گا جب تک آپ ثابت نہ کر دیں کہ نوازشریف نے کرپشن کی ،یہ میری عدالت ہے اور میں نے اللہ کو جواب دینا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ: 15 تاریخ کو کیپٹن صفدر اور مریم نواز کے وکیل کو سنیں گے۔ 16 اگست کو نیب کو سنا جائے گا۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرعباسی: مجھے دو دن دیے جائیں۔

جسٹس اطہر من اللہ: آپ تحریری جواب لے آئیے گا، سوالات ہم نے اٹھا دیے ہیں۔ آپ کو 20 منٹ میں سن لیں گے۔

کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی

Facebook Comments