60

مخالفین کی طرف سے مجھیجانی نقصان پہنچانے اور ہراسان کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔پولیس ملزمان کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کررہاہے۔ڈاکٹرشہزادہ فیض الملک جیلانی ہسپتال بونی

میڈیا کےزریعے میں دی سی چترال ،ڈی پی او چترال اور دوسرے متعلقہ حکام کے نوٹس میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ کچھ عرصے سے مخالفین مجھے ہراسان کرنے کے ساتھ مجھے نقصان پہنچانے اور میرے زاتی معاملات میں بلا جواز دخل اندازی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی شکایت میں نے کءی مرتبہ پولیس اور قانون نافز کرنے والے ادارون میں رجسٹر کیا ہے باوجود اس کے پولیس ملزمان کے خلاف کارواءی کرنے اور مجھے تحفط دینے کے بجاءے ملزمان کی سرپرستی اور ان کی بھرپور حوصلہ افزاءی کر رہا ہے جس کی وجہ سے اب نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ میرے مخالفین نے باہر سے غنڈون اور کراءے کے بدماشوں کو بلا کر ان کے زریعے کءی مرتبہ میرے اوپر حملہ کرانے کے ساتھ ساتھ مجھے جانی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اس پریس ریلیز کی توسط سے میں ڈی چترال اور ڈی پی چترال کی نوٹس میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ ملزمان کی طرف سے مجھے جانی نقصان پہنچانے کی صورت میں اس کی تمام تر زمہ داری تھانہ موڑکہو کے اس ایچ او اور متعلقہ پولیس حکام پر عاءد ہوگی جو کہ جان بوج کر مجھے ملزمان سے تحفط فراہم نہیں   کر رہے ہیں میں ڈی پی او چترال سے درخواست کرتا ہوں کہ میری جان کی سلامتی کے پیش نطر ایس ایچ او موڑکہو اور ڈی ایس پی موڑکہو سے اس معاملے کی فوری جواب طلبی کریں یا مجھے اپنی حفاطت کیلءے اصلحہ رکھنے کی اجازت دے تا کہ میں کسی بھی نا خوشگوار حالات میں اپنی جان کی حفاطت کر سکوں۔

Facebook Comments