46

دھڑکنوں کی زبان ….محمد جاوید حیات اچھے استاد کے اچھے شاگرد

ہائی سکول بمبوریت میں آئے روز سیاح آتے رہتے ہیں ان میں مختلف سکولوں کے بچے اور اساتذہ ہوتے ہیں جن میں سرکاری اور نجی سکولوں کے اساتذہ اور بچے ہوتے ہیں۔ جب ہم ان کو ٹھراتے ہیں تو ایک ادھ گھنٹے ہی میں ان کے بارے میں سب کچھ سمجھا بوجھا جاتا ہے ۔۔کہ ان کی تربیت کیسی ہے ۔۔ان کا تعلیم کیسا ہے ۔ان کو کس نہج پہ ڈالا جارہا ہے ۔۔اکثر ہمارے نجی تعلیمی اداروں میں تربیت کے نام پہ بچوں کو بگاڑ کی طرف لے جایا جارہا ہے ۔۔ویسے بھی آج کے والدیں تربیت کے لحاظ سے آن پڑھ ہیں ان کی اولاد ان کو چاند تارہ نظر آتے ہیں ۔۔بے مثال جن کی طرف تنقید یا تربیت کی نظر سے دیکھنا ہی ان کو ناگوار گزرتا ہے ۔کسی زمانے میں استاد پر بھروسہ کیا جاتا تھا اور اس کی تربیت کو پوری قوم پر احسان تصور کیا جاتا تھا ۔۔آجکل وہ تصور بدل گیا ہے ۔۔اس لئے تعلیم کے نام پہ ڈگریاں تو نظر آتی ہیں لیکن تربیت دور دور تک نظر نہیں آتی ۔۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ تربیت ہی کی وجہ سے ہماری بحیثیت قوم پہچان ہوتی ہے ۔۔کچھ دن پہلے دو سکولوں کے اساتذہ اور طلبا ء ہمارے مہمان ہوئے ۔۔ان میں ایک نجی سکول تھا دوسرا ایک سرکاری سکول تھا ۔۔نجی سکول کے انچارج استاد ایک مہذب ترین انسان تھے مگر ان کو بتا نا پڑا کہ اپنے بچوں کو یوں یوں حوالے سے سمجھاؤ ۔۔۔مگر سرکاری سکول کے استاد اور بچوں سے متاثر ہونا پڑا ۔۔اور احساس کیا گیا کہ ان پہ لکھا جائے تاکہ دوسرے لوگ بھی ان کی تقلید کریں اور تربیت کی یہ خوشبو پھیل جائے ۔۔سرکاری سکول گورنمنٹ ہائی سکول کوشٹ تھا ۔استاد کا نام اکبر زمان تھا ۔۔استاد نے پہلے سے کئی بار رابطہ کیا ۔اجازت مانگی ۔۔سکول کے باہر گاڑی کھڑی کرائی ۔۔آکے انچارج سے ملا ۔۔پھر گاڑی سکول کے اندر لا کے کھڑی کرائی ۔۔ان کے شاگرد گاڑی سے اُترے۔۔ ایسا لگا کہ وہ زمین پہ قدم نہیں رکھ رہے ہیں بلکہ کسی مقدس ترین مٹی پہ پاؤں رکھ رہے ہیں ۔۔ان کو اپنے استاد کا انتظار تھا کہ وہ کیا حکم دے ۔۔ استاد نے کہا سر سے ملو ۔۔وہ سر سے ایسے ملے جیسے کسی شہنشاہ معظم کے استان کو بوسہ دے رہے ہیں ۔استاد کی اکھیوں میں تشکر کی نمی تھی۔۔اپنے سامان اتروائے ۔اپنا ٹھکانا سیٹ کیا ۔۔ایک رات ادھ دن ٹھہرے ۔۔جاتے جاتے اُستاد نے پورے سکول کی صفائی کرائی ۔دسیوں بار اساتذہ کا شکریہ ادا کیا ۔بچے پھر سے جھک کے ملے ۔۔یہ ایک خوشگوار احساس تھا اور فخر کی بات بھی کہ ہمارے سرکاری سکولوں میں قوم کی تربیت ہو رہی ہے ۔۔استا داکبر زمان صاحب کے ساتھ اعجازاکبر ،ضیاء اللہ ،اور اویس اکبر اس کے سٹاف تھے باقی طلباء تھے ۔۔ضیا ء چترال کے انعام یافتہ ستار نواز تھے ۔اعجاز ایک مانے ہوئے ٹیکنکل بندے تھے جو مشینریوں کی جان تصور ہوتے ہیں ۔۔استاد کی اپنی شخصیت تھی سٹاف کا اپنا معیار تھا اور بچوں کی اپنی خوشبو تھی ۔۔گورنمنٹ ہائی سکول کوشٹ ضلع چترال کاایک پرانا مادر علمی ہے جہان سے عظیم سپوت تربیت لے کے اُٹھے اور قوم کے ستون بنے ۔۔ان میں اساتذہ ،ڈاکٹرز ،انجینئرز، بین الاقومی بینکرز،سی ایس ایس آفیسرز اور قوم کے سرفروش نکلے ۔۔اس سکول کی کریڈٹ میں سب کچھ ہے ۔۔اس میں پانچ سو سے اوپر بچے ہیں اور والدین کی اپنے بچوں کے داخلے کے لحاظ سے یہ ادارہ پہلی ترجیح ہے ۔۔حالانکہ ارد گرد نجی سکولوں کا جال ہے ۔۔کوشٹ روایتی چترالی تہذیب کے لحاظ سے ایک اکیڈیمی کی حیثیت سے رکھتا ہے ۔۔یہاں بڑے بڑے روایتی خاندان آباد ہیں جن کی چترالیت اور تہذیب سند ہے ۔یہ اسی روایت کا نتیجہ ہے کہ یہاں کے بچے بھی تربیت کے لحاظ سے پھول ہیں ۔۔اکبر زمان کو جاننے والے لال کہہ کر یاد کرتے ہیں اس لئے کہ یہ اس کا خاندانی پہچان ہے یہ صاحب جائیداد اور صاحب حیثیت ہیں شاہی خاندان کی شاخ ہیں اس لئے اب بھی ان کے خادم اور مزارغ موجود ہیں ۔۔بازپروری ،شکار اور گھوڑ سواری بلکہ شاہ سواری کے انداز میں موجود ہے آج بھی بادشاہوں کے کھیل پولو کے دھنی ہیں ۔۔ان کے خاندان میں بڑے شاہسوار اور عظیم پولو پلیئر اب بھی موجود ہیں وہ گھوڑے کو خاندان کی خوبصورتی سمجھتے ہیں ۔۔ اکبر زمان لال شرافت کے ایک فانوس ہیں اور خاندانی روایات کے تاج محل ہیں ۔۔ان کی باتوں سے خوشبو آتی ہے ۔۔ان کی نشست و برخواست اور انداز سے تعلیم ٹپکتاہے ۔۔وہ تربیت کی ایک اکیڈیمی ہیں انھوں نے اپنی تربیت اپنی کلاس روم میں لایا ہے ۔۔اس لئے ان کے بچے مہذب ہیں ۔۔ہمیں ان کے شاگردوں سے متاثر ہونا پڑا ۔۔ان کو داد دینی پڑی ۔ان کے اساتذہ کی صلاحیتوں کو ماننا پڑا کہ ہمارے سرکاری ادارں میں ایسے مثالی ادارے بھی موجود ہیں ۔۔اس لئے ہائی سکول کوشٹ قابل تقلید بھی ہے اور داد کے مستحق بھی ۔۔ہمارے سرکاری سکولوں کو ہماری پہچان بننا چاہئے ۔۔اور جو پہچان ہیں ان کی تشہیر بھی ہونی چاہئے ۔اس لحاظ سے ہائی سکول کوشٹ ضلع کے ایسے سکولوں میں شامل ہے جن کے اساتذہ کو کئی بار بسٹ ٹیچر ایوارڈ ملا اور انھوں نے اپنے نام کے ساتھ سکول کانام بھی روشن کیا جبکہ ان کے بچے بھی کبھی کبھی دسویں کے امتحان میں ضلعے کو ٹاپ کرتے ہیں ۔۔میرے الفاظ میں اتنی طاقت کہاں کہ اچھے استاد کے اچھے شاگردوں کا درست تعارف کر سکولوں البتہ سرکاری سکول میرے خواب ہیں اور ان میں موجود خصوصیات میرے خوابوں کی تعبیر ۔۔۔۔چلو مجھے اپنے سہانے سپنوں میں جینے دو ۔۔مجھے ان بچوں میں اپنے ایڈئل امان اللہ کی بے باکی بھی نظر آئی ۔۔جو ایک مہک ہے۔۔۔۔

Facebook Comments