71

واپڈا کی نا اہلی؛ دروش بازار کا تجارتی اور رہائشی علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا

دروش( آوازچترال رپورٹ) محکمہ واپڈا کی نااہلی اور غفلت کی وجہ سے پچھلے چار دنوں سے دروش بازار کا رہائشی اور کاروباری علاقہ تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ پیر کی رات کو علاقے کو بجلی فراہم کرنے والا150کے وی کا ٹرانسفارمر زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جسکے بعد علاقے کو بجلی سپلائی معطل ہوگئی ہے ۔ 150کے وی کے اس ٹرانسفارمر سے نہ صرف دروش بازار کے سینکڑوں تجارتی و گھریلو صارفین کو Image may contain: 24 people, people smiling, crowdبجلی فراہم ہوتی تھی بلکہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایک حصے کو بھی اسی ٹرانسفارمر سے بجلی ملتی تھی ۔ تیمرگرہ میں موجود واپڈا (پیسکو) کے ایکسین اور چترال میں واپڈا کے ایس ڈی او کی طرف سے صارفین کو بتایا گیا کہ اگر صارفین خراب شدہ ٹرانسفارمر کو چکدرہ پہنچائیں تو انہیں وہاں سے 200کے وی کا ٹرانسفارمر مہیاکیا جائیگا۔ اس وعدے پر مقامی لوگوں نے دروش سے چکدرہ تک گاڑی کا بندوبست کیا اور خراب شدہ ٹرانسفارمر جب وہاں پہنچایا گیا تو ادھر سے حسب وعدہ 200کے وی کا ٹرانسفارمر دینے کے بجائے 100کے وی کا پرانا ٹرانسفارمر دیا گیا ۔ جب چکدرہ سے ٹرانسفارمر دروش پہنچایا گیا تو مقامی صارفین نے اس پر زبردست احتجاج کیا مگر واپڈا حکام نے کہا کہ وہ فوری طور پر 100کے وی کا ایک اور ٹرانسفارمر مہیا کرکے بجلی کا لوڈ تقسیم کرینگے ۔ تاہم واپڈا والوں کی طرف سے 100کے وی والے ٹرانسفارمر کو نصب کرکے بجلی سپلائی شروع ہونے کے فوراً بند یہ ٹرانسفارمر بھی جواب دے گیا اور بجلی کے اتار چھڑاؤ کی وجہ سے گھریلو صارفین کے قیمتی Image may contain: 3 people, including Qari Nizam and Qari Jamal Abdul Nasir, people standing and beardالیکٹرانک اشیاء بھی جل گئے ۔ بعد ازا ں نماز عشاء کے بعد مقامی صارفین نے قاری جمال عبدالناصر کی قیادت میں واپڈا کے خلاف ایک جلوس نکالا جو کہ ACدروش کے آفس کے سامنے میں احتجاجی مظاہرے میں بدل گیا۔ مظاہرین نے واپڈا کے دوغلے پن کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور متنبہ کیا کہ اگر فوری طور پر بجلی کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو وہ شدید احتجاج کرینگے اور حالات خراب ہونے کی تمام ذمہ داری واپڈا پر عا ئد ہوگی۔ بعد ازاں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر دروش نے مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کرکے انہیں پر امن طور پر منتشر ہونے پر راضی کیا اور واپڈا حکام کو سختی سے تاکید کی کہ وہ فوری طور پر بجلی بحالی کا بندوبست کریں۔Image may contain: 44 people, including Ijaz Ahmad, people smiling, crowd

Facebook Comments