70

داد بیداد …ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ….پھولوں کے ہار

میڈیا میں نوجوانوں کی طرف سے بار بار اس بات کا بُرا منایا جاتا ہے کہ لوگ عوامی نمائندوں اور سرکاری ملازمین کو پھولوں کے ہار کیوں پہناتے ہیں ؟ اُن کی خوشامد کیوں کرتے ہیں ؟ یہاں مکھن لگانے اور پالش کرنے کی روایت کیوں ڈالی گئی ہے ؟ اور اس روایت کو کس لئے پروان چڑھایا جارہاہے؟ ہر سوال بر محل ہے اور ایسے سوالات آج سے 100سال پہلے بھی اُٹھائے گئے مگر خال خال ایسی مثالیں ملیں گی کیونکہ 100سال پہلے ریڈیو،ٹیلی وژن ، اخبارات ، انٹر نیٹ ، سوشل میڈیا کچھ بھی نہیں تھا لوگ باہر کی دنیا سے بے خبر تھے گاؤں کا پٹواری یا تھانے کا محرر سب سے بڑا افسر سمجھا جاتا تھا لوگ اس کی خوشامد کر کے مطلب کا کا م کروایا کرتے تھے لاکھوں میں ایک آدمی ایسا نکل آتا تھا جو بغاوت پر آمادہ ہوتا تھا اور بغاوت کے بعد گاؤں چھوڑ کر چلا جاتا تھا جس روز ایک جذباتی نوجوان نے نئے ڈپٹی کمشنر کو ہار پہنانے والوں پر لعن طعن کر کے سوشل میڈیا کو سر پر اُٹھایا اُس روز میں ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے ٹکٹ گھر کی کھڑکی سے لگی ہوئی قطار میں کھڑا تھا مجھ سے پہلے جس شخص کی باری آئی ایک ہی ٹکٹ لے رہا تھا بہتر جگہ اور آرام دہ سیٹ کیلئے بکنگ کلرک کی خوشامد کررہا تھا اور بے جا خوشامد کررہا تھا 3منٹوں کی کاروائی میں میرے پیشرو نے کوئی 10بار اس کو سر کہا کوئی 6بار اس کا شکریہ ادا کیا کوئی 4بار اس کو دعائیں دیں میری باری آئی تو اشارے سے دو ٹکٹیں مانگیں شناختی کارڈ اورپیسے دیئے اور ٹکٹ لے لئے ’’خاموشی ہی سے نکلے ہیں جو بات چاہیئے‘‘ میرا تجسس مجھے اس آدمی کے ساتھ گپ شپ پر آمادہ کرتا رہا یہاں تک ایک مقام پر ہم نیچے اترے تو گپ شپ کا موقع ملا میں اپنے دوست کا پسِ منظر معلوم کرتا چاہتا تھا تعارف کرنے پر معلوم ہوا کہ موصوف ’’ نجیب الطرفین ‘‘ ہے خوشامد کی عادت اُسے ورثے میں ملی ہے وہ قبائلی ایجنسی کے ملک کابیٹا ہے لاہور میں ایک خانقاہ سے وابستہ ہے ا س کے آبائی علاقے میں پولیٹکل ایجنٹ کی خوشامد کو عین سعادت سمجھا جاتا ہے لاہور کے خانقاہی نظام میں پیر کی خوشامد کو فرض عین کا درجہ دیا جاتا ہے چنانچہ ٹکٹ گھر کی کھڑکی پربھی وہ اس طرح آتا ہے جس طرح غالب کوئے یار میں جاتے تھے ’’ یاد تھیں جتنی دعائیں صرف درباں ہوگئیں ‘‘ وہ ٹکٹ جس کو لینے کے لئے ایک لفظ بولنے کی ضرورت نہیں موصوف نے اُس ٹکٹ پر کم از کم 200الفاظ خواہ مخواہ ضائع کر دیے یہی ذہنیت ہے جو ہماری بوڑھی نسل کو بے قرار کردیتی ہے اس بے قراری میں ہم لوگ عوامی نمائندے کو بھی پھولوں کے ہار پہناتے ہیں سرکاری ملازم کو بھی پھولوں کے ہار پہناتے ہیں ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ دفتر میں بیٹھنے سے پہلے نئے افیسر کو شیشے میں اتارے اورفن خوشامد کے ماہرین ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے نت نئے حربے آزماتے ہیں اس حوالے سے خوشامد کے فن میں نئے نئے تجربے ہورہے ہیں ہماری نئی نسل کے سامنے انٹرنیٹ ہے ڈش ٹی وی ہے جسے موجودہ دور کا ’’ جام جم ‘‘ کہا جاسکتاہے جس طرح جمشید اپنے پیالے میں پوری سلطنت کا حال دیکھ لیتاتھا اس طرح آج کی نئی نسل موبائل فون پر دنیا کو
دیکھ لیتی ہے جام جم ٹوٹ گیا تو جمشید کی سلطنت بھی ختم ہوگئی تب شاعر نے کہا ؂

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغرِ جم سے میرا جام سفال اچھا ہے
نئی نسل دیکھتی ہے کہ امریکی عوام میں کسی کو ہار پہنانے کا دستور نہیں چینی عوام میں کسی کو ہار پہنانے کا روا ج نہیں پاکستان، خیبر پختونخوا میں اور خیبر ، سوات ، گلگت ، چترال جیسے علاقوں میں ایسا رواج کیوں ہے ؟ وزیر ، ایم این اے ، ایم پی اے اور ڈپٹی کمشنر کو پھولوں کا ہار کیوں پہنایا جاتا ہے ؟ نئی نسل اس غلط روایت کوپسند نہیں کرتی اس کو قبول نہیں کرتی نئی نسل بجا طور پر اس بات پر زور دیتی ہے کہ سرکاری ملازم چاہے
کر نیل ہو ، جر نیل ہو ، جج ہو یا ڈپٹی کمشنر ہو اُس کی ڈیوٹی ہے وہ دفتر آئے لوگوں کے کام کرے اور اپنی تنخواہ لے عوامی نمائندہ چاہے وزیر ہو، ایم این اے ہو یا ایم پی اے ہو اُس کی ذمہ داری ہے کہ اسمبلی میں عوامی حقوق کا تحفظ کرے مردم شماری کے قانون میں عوام کا حق مارا گیا نمائندوں نے ہاتھ اُٹھا کر ناجائز قانون پاس کیا، حلقہ بندیوں کے قانون میں عوام کو نمائندگی سے محروم کیا گیا نمائندوں نے چُپ چاپ ہاتھ اُٹھا کر کالا قانون پاس کیا اُن کا استقبال جوتوں ، ٹماٹروں اور گندے انڈوں سے ہونا چاہیئے مگر ہماری بوڑھی نسل نہیں مانتی بوڑھی نسل کا المیہ بھی عجیب ہے اس نسل نے جا گیر دار کے خوشامد میں زندگی گذاری ، پیروں اور مولویوں کی خوشامد میں زندگی گذاری، پولیٹکل ایجنٹ ، تھانیدار ، محرر اور ایگزیکیٹو انجینئر کی خوشامد میں عمر بسر کی یہ ایسی نسل ہے جو ٹکٹ گھر کی کھڑکی پر پیسے دیکر ٹکٹ لیتے وقت بھی بلا ضرورت 200الفاظ ایک کلرک اور بابو کی خوشامد پر خواہ مخواہ صرف کرتی ہے اُس کا عقیدہ بن گیا ہے کہ خوشامد ہی وہ چابی ہے جو بند تالوں کو کھول دیتی ہے اور نئی نسل کا المیہ بھی عجیب ہے جب تک وہ سیاسی کا رکن تھا تب تک خوشامد کا کٹر مخالف تھا جس دن اس کو اسمبلی کی رکنیت کیلئے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا ٹکٹ ملا ، اُس نے ورکروں کو بلایا گلے میں ہار پہنانے کی خواہش ظاہر کی اب وہ جہاں جاتا ہے اُس کو ہار پہنائے جاتے ہیں وہ دوسروں کو ہار پہنانے کا مخالف تھا اُس کو ہار پہنایا جائے تو بہت خوش ہوتا ہے ہار پہنانے کی بات تھی تو وہ نئی نسل کا نمائندہ تھا اب ہار پہننے کی باری آئی تو وہ بوڑھی نسل کا نمائندہ بن چکا ہے یہی وجہ ہے کہ خوشامد کا کلچر ختم ہونے کا نام نہیں لیتا ؂
ہر چند ہوں آئینہ پر اتنا ہوں نا قبول
منہ پھرلے وہ جس کے مجھے روبرو کریں

Facebook Comments