61

ترکی میں ”عثمانی تھپڑ“ چل گیا ، ترک صدر طیب اردوان نے صدارتی میدان مارلیا ، حامیوں کاجشن

انقرہ ( آواز چترال رپورٹ)طیب رجب اردوان کا ”عثمانی تھپڑ“ چل گیا ، ترک صدرنے صدراتی انتخابات میں واضح برتری حاصل کرلی ہے جبکہ اپوزیش امیدوار اپنے تمام تر انتخابی مہم اور دعوﺅں کے باوجود نمایاںکامیابی حاصل نہ کر سکے اور ان کے دعوے محض دعوے ہی رہ گئے ۔ترک میڈیا کے مطابق ترک صدر طیب رجب اردوان نے ترکی کے صدارتی انتخابات میں واضح برتری حاصل کی جبکہ ان کے مخالف امیدوار صدارتی ریس میں ان سے کہیں پیچھے رہ گئے ۔ رجب اردوان نے 52فیصد ووٹوں کے ساتھ واضح برتری حاصل کی ۔ اپوزیشن امیدوار محرم انجے 30فیصد ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے اور ان کی جانب سے عوام کودی گئی تمام تر غیبات ناکام ثابت ہوئیں اور تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔محرم انجے کی جانب سے عوام کو دیگر ترغیبات کے ساتھ ساتھ یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو 24گھنٹے میں ملک سے ایمر جنسی کا نفا ذ ختم کردیں گے جبکہ اس کے برعکس ترک صدر طیب رجب اردوان نے ایک روز قبل اپنے حامیوں سے خطاب کے دوران جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے ترک عوام سے ووٹ دینے اپیل کرتے ہوئے ان سے ”عثمانی تھپڑ“ استعمال کرنے کاکہا تھا جس پر عوام نے ان کے حق میں اظہار حق رائے دہی کا استعمال کرکے سچ ثابت کردیا ۔ انتخابات میں واضح برتری حاصل کرنے پر طیب رجب اردوان نے کہا کہ عوام نے مجھ کو صدارت کےلئے مینڈیٹ دیدیا ہے ۔ دوسری جانب ترک حکومت کے ترجمان نے طیب رجب اردوان کی جیت کااعلان کردیا ہے ۔اس موقع پر ترک صدر کے حامیوں نے جشن منایا جبکہ ان سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کا کہنا تھا کہ ترکی نے دنیا کو جمہوریت کا سبق دیا ہے ۔

Facebook Comments