65

کلمہ حق . . . . ” محمد کوثر کوثر (ایڈوکیٹ)”

میرے اس کالم کو میری دیرینہ پارٹی وابستگی کے تناظر میں نوازشریف صاحب کے حق میں بلکل نہ سمجھا جایے بلکہ یہاں میاں نوازشریف کو ایک symbol کے طور پر لیا گیا ہے۔ہمیں سوچنا چاہیے کہ اتنے بڑے آدمی کےساتھ یہ سب کچھ ہورہا ہے تو کل کو ایک عام شہری کا کیا پوچھنا۔۔۔مفہوم حدیث ہے کہ حضرت عمرؓ سرپکڑ کر روہے تھے کسی صحابیؓ نے پوچھا یا امیرالمومنیں کیا ہوا؟تو فرمانے لگے آقاؐ نے فرمایا کہ روزقیامت جہنم کے اوپر ایک تختہ ڈالا جائے گا اور اس تختے پر بڑے سے لیکر ادنی منصف حاکم وغیرہ کو اس پرکھڑا کیا جایے گا اگر انہوں نے رتی برابر بھی نا انصافی کیا ہو تو تختہ دار کی طرح اک خوفناک آواز کے ساتھ وہ تختہ جدا ہوگا اس دردناک آواز کی وجہ سے دلو دماغ پھٹنے کو ہونگے (مگر پھٹینگے نہیں)اور وہ شخص جہنم کی گھاٹی میں گرے گا وایے افسوس اس وقت اے عمر ترا کیا حال ہوگا۔”ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ "اے عمر کاش تو تنکا ہوتا”۔۔۔جبکہ ہمارا کیا حال ہے۔۔۔۔

عہدوں، سول جج تھانیدار ڈی۔سی ممبر وغیرہ بننے کے لیے دن رات ایک کررہے ہوتے ہیں مگر یہ بھول گئے ہوتے ہیں کہ "خیشکی نسوار روستو زور کئی”یعنی خیشکی نامی جگہے کا نسوار اپنا اثر بعد میں دیکھاتا ہے۔ جس معاشرے میں انصاف کے بجایے ظلم کا دور دورہ ہے وہ معاشرہ تباہ ہونے میں دیر نہیں لگاتا۔

بخدا دشمن پر بھی کڑی وقت آئے تو انسانیت کا تقاضا ہے کہ ایسی ہمدردی کا اظہار کیا جائے کہ جس سے دشمنی ہی ختم ہو کجا کہ تیں بار منتخب وزیراعظم جو شریک حیات کی بیماری کے غم میں نڈھال ہے انہیں اور ان کے خاندان کو جان بوجھ کے پےدرپے پیشیوں کی صورت میں ذھنی ٹارچر سے گذارا جارہا ہے۔
آخر اس شخص نے ایسا کونسا بڑا گناہ کیا ہے کہ اسے روزانہ کے حساب سے درجنوں بےبنیاد مقدموں میں الجھایا جارہا ہے؟
کیا قصور اس شخص کا یہ ہے کہ وہ سیدھا سادھا مسلمان صاف ستھرا پاکستانی ہے۔اس بات کو مخالفیں بھی مانتے ہیں کہ جتنی ترقی نوازشریف کے مختصر دور میں ہویے ہیں وہ ریکارڈ ہیں اور حال ہی میں بیں الاقوامی مستند جریدے کے سروے اور تجزیے میں اس کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔

اب سوال یہ ہے اگر وہ شخص غلط تھا تو اسے عوام کے حوالہ کیا جاتا صرف چند ماہ مدت حکومت ختم ہونے کو رہ گیا تھا تو اتنی عجلت سے یہ سب کچھ کیوں کرایا گیا۔؟چلیں گولی ماریں ان باتوں کو۔۔۔۔۔! مثال کے طور پر میں یہ کہتا ہوں (گوکہ غلط ہے) کہ نوازشریف نے ملک کے لیے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔! ایٹمی دھماکے بلاول بھٹو نے کرایے ہیں۔۔۔۔! موٹروے کی بنیاد عمران خان نے رکھا ہے ۔۔۔! چلیں دفعہ کریں مستحکم معاشی نظام پرامن پاکستان روشنیوں میں ڈوبا پاکستان سراج الحق اور اسفندیار ولی کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے ۔۔۔۔! میں مسلم لیگ ن چترال کا ذمہ دار کارکن کے طور پر تمام غلطیوں کا ذمہ دار اپنے قاید کو ٹھراتے ہویے اعلان کرتا ہوں کہ اس میٹرو بس اور لاواری ٹنل کے منصوبوں کی تکمیل صرف حضرت مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم کی دم درود کی وجہ سے ممکن ہوا ۔۔۔۔ہوگیا۔۔! اب خوش ہوگیے کہ نہیں؟
مگر یہ تو تسلیم کرینگے نا کہ اب ملزم پر الزامات چاہے جتنے بڑے ہوں مگر انصاف کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں جو ہرصورت میں پورے کیے جاتے ہیں حتی کے کفر کی بھی گرحکومت ہو۔ بلکہ یہ تو عام معاشرتی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔مگر ان احکامات پر عمل تو دور کی بات ان پر کوئی بات کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تو ایسے معاشرے میں فتنہ فساد جنم لیتا ہے اور آہستہ آہستہ اقتدار کے ایوانوں کی جڑین کمزور ہونے لگتیں ہیں۔ جب انصاف کے ایوانوں میں نانصافی شروع ہوجایے تو پھر ھم کس کھیت کی مولی ہیں؟ یہ جملہ تو زباب زدعام ہے کہ "کفر کی حکومت چل سکتی ہے ظلم۔کی نہیں”۔
اب سوال یہ ہے کہ جس طرح پےدرپے نوازشریف صاحب کو طلب کیا جارہا ہے یہی کچھ عمران خان اور شیخ رشید والے کیسون میں بھی کیوں نہیں کیا جارہا ہے؟
تو اسکا جواب ایک دوست نے یوں مضحکہ خیز جواب دیا کہ "ادارے خودمختار ہیں”۔۔۔!
ویسے یہ ادارے کیا بلڈنگنزکےنام ہیں ؟یا ادارے کا سربراہ پاکستانی نہیں ہوتا یا کوئی "خلائی مخلوق” ہے جو بعد ازریٹایرمنٹ چاند پہ پلاٹ لے کے آرام سے باقی زندگی تبلیغ میں گذارتا ہے۔؟
کیا اس ادارے کے سربراہوں پر ان کی امانت و دیانت پر کس طرح شبہ نہیں کیا جاسکتا ؟
کیا یہ ادارے عام آدمی کے لیے اتنی جلدی انصاف نہیں دے پارہے اور ایک مرغی کے تنازعے میں تیں چار سال لیتے ہیں جبکہ منتخب وزیراعظم کو ان کی تیس چالیس سالہ زندگی کو کریدبکر کچھ نہ ملنے کے باوجود صرف آٹھ ماہ میں سزا دیا جاتا ہے کیوں؟ کیا انصاف اسے کہتے ہیں؟
یہ اور ہمچوں قسم کے سوالات کا جواب واپڈا،نیب وغیرہ کے بارے ماضی میں موجودہ سپریم کورٹ نے جو ریمارکس دیے ہیں وہ کافی ہیں۔مگر بحیثیت مسلماں آپ کیا سمجھتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔
کیا اس ملک میں صرف نوازشریف رہ گیا ہے باقی سارے دودھ کے دھلے ہویے ہیں؟ کہاں ہیں وہ باقی 499 شرفائے پانامہ۔۔۔؟ کیا اسلامی آئین پاکستان میں یہی قانوں ہے جسکا مظاہرہ ہم روزانہ محترم اداروں کے دھلیز پہ دیکھ رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یقیں جانیں ہمارے پرکھوں کی قربانیاں "ماچوڑی” نامی شخص کی "خدمات” کی طرح گویا "انگارتو زوہچ” یعنی سلیس و "شڈال” ترجمہ "اوں سے آگ جلانا” ہویے۔
شریک حیات بیمار اور شوہر غم سے نڈھال دوسری جانب بیٹی ماں کے لیے تڑپ رہی ہے اور ہمارے ادارے تا صحتیابی مریضہ مہلت دینے کے بجائے صرف چار دن کا احسان کرکےدراصل عذاب الہی کو دعوت دے چکے ہیں۔
اس ظلم کے خلاف اگر آواز نہیں اٹھایا جارہا تو جان لو ہم بنی اسرائیل کے سطح کے نافرمان قوم کے زمرے میں آچکے ہیں یا ہم لاعلاج ہوچکے ہیں۔اب ہمیں انتظار کرنا چاہیے کہ ہم پر قحط نازل ہو پتھر برسیں سیلابیں آئیں زلزلے ہوں۔۔۔۔۔!
نچلی سطح میں انصاف کا یہ عالم کہ کوڑیوں کے بھاو میں بک رہا ہے واپڈا اپنی من مانی کررہا ہوتا ہے پولیس کی اپنی بدمعاشی ہے بلکہ سوئیپر بھی آنکھیں دیکھارہا ہوتا ہے۔معلوم نہیں ہم کس سمت جارہے ہیں؟۔۔!۔۔۔اللہ خیر کرے۔

Facebook Comments