58

نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا معاملہ………. محمد شریف شکیب

وفاقی حکومت نے فاٹا اور پاٹا میں چلنے والی لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لئے تین شرائط پر مشتمل اجازت نامہ جاری کردیا ہے۔ یہ مہلت 30جون2023تک کے لئے ہوگی۔ گاڑی مالکان کوہدایت کی گئی ہے کہ مقررہ مدت تک وہ اپنی گاڑیوں کی محکمہ کسٹمز سے رجسٹریشن کروائیں۔ پہلی شرط یہ ہوگی کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں پاکستان کے شہری علاقوں میں داخل نہیں ہوسکیں گی۔ دانستہ یا نادانستہ طور پر این سی پی گاڑیاں شہروں میں داخل ہونے کی صورت میں انہیں ضبط کیا جائے گا۔دوسری شرط یہ ہے کہ اگر گاڑی مالکان نے ان کی رجسٹریشن نہیں کرائی تومقررہ مدت کے بعد انہیں کسٹم حکام کے حوالے کرنا پڑے گا۔ تیسری شرط یہ ہے کہ مقررہ مدت تک صرف ان گاڑیوں کی رجسٹریشن ہوسکے گی جن کے لئے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے پہلے درخواست دی گئی تھی۔ اس سے قبل سیکورٹی حکام نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پاٹا کے اندر رجسٹریشن کرانے کی مہم شروع کردی تھی اور 60ہزار سے زیادہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا گیا تھا۔ملاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع سوات، لوئر دیر، اپر دیر ، چترال، ملاکنڈ، بونیر اور شانگلہ میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی مجموعی تعداد بیس لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ یہ گاڑیاں افغانستان سے مختلف راستوں سے ملاکنڈ ڈویژن کے متذکرہ اضلاع پہنچائی جاتی ہیں۔ یا پھر ان کے فاضل پرزہ جات لاکر سوات، دیر اور چترال میں ان کی اسمبلنگ کی جاتی ہے۔ جو مقامی طور پر کٹ گاڑیوں کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔پاٹا کے اندر نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی عارضی رجسٹریشن کا حکم سابق انسپکٹرجنرل پولیس ناصر خان درانی نے دیا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق یہی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دہشت گردی اور اغواء کی وارداتوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ پشاور شہر کے گنجان آباد علاقہ چڑوی کوبان میں ہونے والا دھماکہ بھی نان کسٹم پیڈ گاڑی کے ذریعے کیا گیا تھا۔جس میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بیشترتخریبی کاروائیوں میں یہی گاڑیاں استعمال ہوئی تھیں۔ چیسز نمبر کا کھوج لگانے کے باوجود ان کے مالکان کا پتہ نہیں لگایا جاسکتا تھا۔ اسی وجہ سے پاٹا میں تمام نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی مقامی طور پر رجسٹریشن کا فیصلہ کیا گیا۔کٹ گاڑیوں کی رجسٹریشن کے خلاف منتخب نمائندوں اور سیاسی حلقوں کی طرف سے بھی احتجاج کیا گیا مگر ان کی نہیں سنی گئی۔ملاکنڈ ڈویژن میں غوگئے، رافو اور دیگر اقسام کی امپورٹڈ گاڑیاں نان کسٹم پیڈ ہونے کی وجہ سے انتہائی سستے داموں ملتی ہیں۔ آپ پیر بابا، بٹ خیلہ، مینگورہ ، الپوری، تیمرگرہ، دیر بازار ، دروش اور چترال جائیں تو ہرطرف نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دکھائی دیتی ہیں۔ جنہیں ذاتی استعمال کے علاوہ کمرشل بنیادوں پر بھی چلایا جارہا ہے۔ اس دھندے سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ جبکہ دوسری طرف حکومتی اداروں کے ساتھ ان کی رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے قومی خزانے کو کروڑوں اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ ملاکنڈ کے بلدیاتی نمائندے یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ ان گاڑیوں کی رجسٹریشن کی ذمہ داری بلدیاتی اداروں کو سونپ دی جائے تاکہ وہ اپنا ریونیوخود پیدا کرسکیں۔نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے کاروبار کو قانونی شکل دینے کی ضرورت ہے لیکن وفاقی حکومت کو ایمنسٹی سکیم کی طرز پر ان کی رضاکارانہ رجسٹریشن کے لئے رعایتی پیکج دینا چاہئے تاکہ لوگوں کا کاروبار بھی قانونی ہو۔ اور قومی خزانے میں بھی کروڑوں اربوں روپے جمع ہوسکیں۔ اور شہری علاقوں کے لوگ بھی ان گاڑیوں سے استفادہ کرسکیں۔جبکہ موجودہ شرح کے ٹیکسوں کی ادائیگی کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ہوگا جس کا براہ راست منفی اثر قومی خزانے کو ہی پہنچ رہا ہے۔ توقع ہے کہ عام انتخابات کے بعد وفاقی اور صوبائی سطح پر منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں گے اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لئے قابل عمل رعایتی پیکج کی منظوری لیں گے۔
Facebook Comments