51

دادبیداد….حج کوٹہ… ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

جسٹس ناصر الملک کے نگران وزیر اعظم ہونے کے بعد بہت سے معاملات میں نا انصافیوں کے فوری ازالے کی اُمید پیدا ہوگئی ہے ان میں سے ایک مسئلہ حج سیزن 2018ء کے لئے پاکستانی حجاج کرام کے سرکاری اور پرائیوٹ حج اپریٹرز کو دیئے جانے والے کوٹے میں
غیر معمولی تاخیر کاہے عموماََ ایسا ہوتا تھا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے تک اکثر حاجیوں کو پروازوں کا شیڈول مل جاتا تھا جو باقی بچتے تھے ان کو اگلے ماہ کی 15تاریخ تک پوری معلومات مل جایا کرتی تھیں اس سال وزارت مذہبی امور نے معاملات میں گڑبڑ کرکے پورا نظام برباد کردیا دراصل حج سیزن کے لئے تیاریوں کی پہلی اینٹ ہی غلط رکھ دی گئی سرکاری سکیم کو 60 فیصد اور پرائیوٹ سکیم کو 40فیصد کوٹہ دیا گیا اس کے خلاف پرائیوٹ حج اپریٹرز کے موثر طبقے نے سندھ ہائی کورٹ کی سکھر رجسٹری سے حکم امتناعی حاصل کر کے سرکاری سکیم کے لئے حاجیوں کی قرعہ اندازی ملتوی کرادی ایک ماہ کی تاخیر کے بعد 50فیصد کی قرعہ اندازی ہوئی بقیہ 10فیصد کو لٹکا دیا گیا نیز پرائیوٹ حج آپریٹرز کا 40فیصد کو ٹہ بھی معرض التواء میں ڈال دیا گیا رمضان المبارک کے آخری عشرے میں بھی حج اپریٹرز کے مسائل حل کر کے کوٹہ کا اجراء نہیں ہوا ہے حج کے انتظامات میں جو بھی کوتاہی ہوگی اس کا ملبہ یا تو نگران حکومت پر گرایا جائے گا یا گھوم پھر کے انتخابات کے بعد آنے والی نئی حکومت کو ساری سزا بھگتنی پڑے گی حرمین شریفین میں دیگر ممالک مثلاََ بھارت ، بنگلہ دیش ، انڈونیشیا ، افغانستان اور ترکی وغیرہ نے اپنے ملک کے تمام حاجیوں کے لئے تمام انتظامات کو آخری شکل دی ہے انتظامات میں کوئی کسر یا کمی نہیں رہی صرف پاکستان ایسا ملک ہے جس نے اب تک ملک کے اندر حاجیوں کا کوٹہ مقرر نہیں کیا باخبر حلقوں کا مطالبہ یہ ہے کہ پرانا کوٹہ بحال کیا جائے جو کہ 72ہزار تھا وزارتِ مذہبی امور نے اس میں کمی کر کے 43000مقرر کی جس پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا اگر حکومت کے پاس قابل عمل منصوبہ نہیں تھا متبادل پروگرام نہیں تھا تو پرانا کوٹہ منسوخ کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ پرانے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی نوبت اُس وقت آتی جب گورنمنٹ کے پاس اس کا بہتر نعم البدل ہوتا چونکہ حکومت کے پاس نہ کوئی نعم البدل تھا نہ کوئی نیا منصوبہ تھا نہ اس کی صلاحیت تھی اس کے باوجود پرانے
طریقہ کار کو ختم کر کے پرانا کوٹہ منسوخ کر دیا ، حکومت نیا طریقہ کار وضع نہ کرسکی اور کوٹے کا از سر نو تعین نہ کرسکی یوں حج جیسی اہم عبادت اور عازمین حج کو دی جانے والی سہولیات ، مراعات کا معاملہ درمیاں میں لٹک گیا نگران وزیر اعظم جسٹس ناصر الملک اس سلسلے میں عدالتی کاروائی کاریکارڈ طلب کر کے پورے معاملے کو ایک ہفتے میں دوبارہ پٹڑی پر ڈال سکتے ہیں وزارتِ مذہبی امور نے اس سلسلے میں جس مجرمانہ کوتاہی کا مظاہرہ کیا ہے اس کی پوری تحقیق ہونی چاہیئے پرائیوٹ حج اپریٹرز ایسو سی ایشن کے صدر حاجی ثناء اللہ نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے نگران حکومت کی توجہ 2018ء کے لئے حج انتظامات اور پرائیوٹ سکیم کے لئے مختص حج کوٹہ کی طرف مبذول کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حج کوٹہ کے تعین میں مزید تاخیر سے پاکستانی حاجیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا خصوصاََ سعودی عرب میں نئے ٹیکس قوانین کا نفاذ ہوا ہے سعودی ریال کی شرح تبادلہ میں پہلے سال کی نسبت 4روپے کا اضافہ ہوا ہے حکومت نے سرکاری سکیم کے لئے 45ہزار روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا ہے پرائیوٹ سکیم کے لئے ابھی تک سبسڈی کا اعلان بھی نہیں ہوا اس وقت پرائیوٹ حج اپریٹرز پرانے کوٹہ کے تحت ساڑھے تین لاکھ روپے کا پیکج بھی دیتے ہیں جو سرکاری سکیم کے مقابلے میں صرف 57ہزار روپے زیادہ ہے اس طرح ہر پیکج میں حاجیوں کو مناسب سہولیات اور مراعات دی جاتی ہیں اگر نگران حکومت نے بروقت قدم نہیں اُٹھایا تو پرائیوٹ سکیم کے تحت جانے والے عازمین حج کوبے پناہ مشکلات سے دوچار ہونا پڑے گا اب تک کافی وقت ضائع ہو اہے نگران وزیر اعظم کی فوری مداخلت سے معاملات سدھر سکتے ہیں اُمید ہے جسٹس ناصر الملک اپنی سابقہ دوایات کے عین مطابق مسئلے کا فوری حل نکالنے کی راہ ہموار کریں گے
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیس
Facebook Comments