50

دادبیداد ڈاکٹر …عنایت اللہ فیضیؔ… سوشل میڈیا کی طاقت

ذرائع ابلاغ کو میڈیا کہا جاتا ہے اور تیز ترین ذرائع ابلاغ کیلئے جدید اصطلاح سوشل میڈیا ہے جسے اردو میں سماجی رابطہ بھی کہا جاتا ہے یہ اتنا طاقتور ہے کہ اس کے سامنے مضبوط سے مضبوط ارادے والا بندہ بھی نہیں ٹھہر سکتا اس کی تازہ ترین مثال خیبر پختونخوا اور پنجاب کے لئے نگران وزرائے اعلیٰ کے ناموں کااعلان ہونے کے بعد48گھنٹوں کے اندر دونوں نام واپس لینے کی خبریں ہیں دونوں نام سوشل میڈیا کی وجہ سے واپس لے لئے گئے خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اعلیٰ کے لئے نامور کاروباری شخصیت منظور آفریدی کا نام حزب اختلاف اور حزب اقتدار دونوں کے اتفاق رائے سے ’’ منظور‘‘ کیا گیا سوشل میڈیا پر شور مچایا گیا کہ منظور آفریدی دولت مند آدمی ہے ’’ چمک ‘‘ نے کام دکھایا مال بہت کام آیا اس شور شرابے نے اتنا زور پکڑا کہ مولانا لطف الرحمن ، پرویز خٹک اور عمران خان نے کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کیا اور منظور آفریدی کا نام واپس لے لیا یہی حال پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کیلئے ناصر سعیدکھوسہ کے نام کا ہوا حزب اختلاف کے قائد محمود الرشید نے ناصر سعید کھوسہ کا نام تجویز کیا شہباز شریف نے اس نام پر اتفاق کیا دونوں نے پریس کانفرنس میں نام کا اعلان کیا سوشل میڈیا میں آیا کہ ناصر سعید کھوسہ کا نام آتے ہی شہباز شریف کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوئے لکھنے والوں نے یہ بھی لکھا کہ ناصرسعیدکھوسہ پنجاب کے چیف سیکرٹری رہ چکے ہیں اور شریف خاندان کے ساتھ ان کے قریبی مراسم ہیں اس پر ’’ ایوان انصاف ‘‘ میں کھلبلی مچ گئی بنی گالہ کی زنجیر عدل ہلادی گئی قائد حزب اختلاف محمود الرشید کی پیشی ہوئی انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور عمران خان نے ناصر سعید کھوسہ کا نام واپس لے لیا اب آگے جاکر قرعہ فال ناصر سعید کھوسہ کے نا م نکلتا ہے یا کوئی اور مقدر کا سکندر ٹھہرتا ہے بہرحال سوشل میڈیا نے اپنا کام کردیا یہی حال فاروق بندیال کی پی ٹی آئی میں شمولیت اور ان کو پارٹی سے نکالنے کا ہوا میر تقی میر نے بڑے پتے کی ایک بات کہی ؂
لے سانس بھی آہستہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کا ر گہہ شیشہ گری کا
شاعر نے محض آنکھوں کے اشاروں اور زبان کے رویوں پر یہ بات کہی تھی ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک وقت آئے گا جب آنکھ اور زبان سے پہلے انگلیاں کام دکھائیں گی انگلیاں بھی ’’امپائر کی انگلی‘‘ کی طرح طاقتور ، توانا اور مضبوط نہیں 12سالہ یا 15 سالہ بچے کی نرم و نازک اور پتلی پتلی کمزور انگلیاں بٹن دبائیں گی تو رات کو دن اور دن کو رات ثابت کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا بٹن یہ نہیں بتا ئے گا کہ انگلی کس کی ہے ؟ اس کی عمر کیا ہے؟ اور اس کی بات میں وزن کتنا ہے ؟ یہ امیر مینائی کا زمانہ نہیں کہ حال دل کہنے کیلئے احباب کو جمع کرنے کی ضرورت پڑتی ہو یا احباب کے یکجا ہونے کو غنیمت خیال کیا جاتا ہو ؂
امیر جمع ہیں احباب حال دل کہہ لے
پھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے
اب تو احباب میں سے کوئی سنگا پور میں ہوتا ہے ، کوئی دوبئی میں تو کوئی نیویارک میں بیٹھا ہوتا ہے آپ ایک ہاتھ سے گاڑی چلارہے ہوتے ہیں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے ٹویٹر پر ایک جملہ پھینک دیتے ہیں وہ جملہ 5منٹوں کے اندر 2000افراد تک پہنچتا ہے اگلے5منٹوں میں5000افراد اس جملے کو نقل کرتے ہیں یا اس پر تبصرہ کر تے ہیں یہی حال فیس بک کا ہے فیس بک بھی ٹویٹر کی طرح تیز ترین ذریعہ ابلاغ ہے آپ ریڈیو یا ٹیلی وژن پر جو خبر ایک گھنٹہ بعد سنتے ہیں اخبار میں جو خبر 24گھنٹے بعد پڑھتے ہیں ٹویٹر اور فیس بُک پر وہ خبر آپ کو 2منٹو ں کے اندر مل جاتی ہے اگلے5منٹوں میںیہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے اب یہ خبر دینے والے پر منحصر ہے وہ منفی خبر دیتا ہے یا مثبت خبر دیتا ہے اس ٹیکنالوجی نے دنیا میں انقلاب برپا کردیا ہے چند سال پہلے مصر میں محمد مرسی نے سوشل میڈیا کے ذریعے لاکھوں کا ہجوم قاہرہ کی سڑکوں پر جمع کیا اور حکومت کا تختہ الٹ دیا اس کے بعد ’’ عرب بہار‘‘ کی ایک فضاچل پڑی جو دوسرے ملکوں تک پھیل گئی اس وقت پاکستان کی 5سیاسی جماعتوں نے اپنے پروگرام اور منشور کی تشہیر کیلئے سوشل میڈیا کا گروپ قائم کیا ہے نواز شریف ، بلاول بھٹو اور عمران خان کا پیغام منٹوں کے اندر ہزاروں لاکھوں کارکنوں کی انگلیوں پر ہوتاہے اب کسی بڑی خبر کے لئے ریڈیو، ٹی وی اور اخبار کا انتظار نہیں کرنا پڑتا اب غالب کا زمانہ نہیں رہا کہ قاصد کے آتے آتے ایک اور خط لکھ کر تیار رکھا جاوے ؂
قاصد کے آتے آتے خط ایک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
سوشل میڈیا نہ ہوتا تو خیبر پختونخوا اور پنجاب کے لئے نامزد نگران وزرائے اعلیٰ کے ناموں کو واپس لینے میں شاید ہفتے اورمہینے لگ جاتے شاید ان کے نام واپس لینے کی نوبت بھی نہ آتی اگر سوشل میڈیا کو دور حاضر کا منہ زور گھوڑا کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا بقول مولانا حالی ؂؂
رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھئیے جا کر تھمے
نہ ہاتھ باگ پر نہ پا ہے رکاب میں

Facebook Comments