59

صد ا بصحرا…مجبوریاں ہی مجبوریاں…….. ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

ستان کا معاشرہ مجبوریوں سے بھرا ہوا ہے ۔ ہر طرف مجبوریاں ہی مجبوریاں ہیں۔ 6سال سے 12سال تک کی عمر کے بچے بوریاں ہاتھ میں لے کر کچرا چُنتے ہیں ۔ کیونکہ ماں باپ غریب ہیں ۔فلاحی ریاست نہیں ہے ۔ حکومت کی عینک غریب کو دیکھنے کے لئے نہیں ہے ۔ حکمران ، جج اور جرنیل جن راستوں سے گذر کر اپنی اپنی جنت نما محلوں کی طرف آتے جاتے ہیں ان راستوں پر فوج اور پولیس کا پہرہ بٹھا کر عوام کو ان راستوں سے ہٹایاجاتا ہے ۔ تاکہ حکمران کو غربت نظر نہ آئے۔ فٹ پاتھ پر سونے والوں نے پشاور اور نوشہرہ میں سحری کے بغیر تیسرا روزہ رکھا ہے ۔ یہ ایک مجبوری ہے۔ فٹ پاتھ کے ساتھ جو مسجد ہے اس کے قمقموں پر 6لاکھ روپے کا خرچہ آیاہے ۔ مولوی نے اسلام کو حقوق العباد کی جگہ آرائش و نمائش کا مذہب بنا لیا ہے ۔ یہ بھی مجبوری ہے ۔ بہت بڑی مجبوری ۔ نفاذ شریعت اور نظام مصطفی ہمارا مشن ہے ۔ مگر اس مقدس مشن کیلئے ہم آپس میں متحد نہیں ہوسکتے اپنے چھوٹے چھوٹے اختلافات اور ذاتی مفادات کو قربان نہیں کرسکتے۔ یہ بھی ہماری مجبوری ہے۔ انانیت اور حرص و ہوس کی مجبوری۔ مگر جس مجبوری کا آج ذکر ہونے والا ہے وہ ایک اور مجبوری ہے ۔ ملک کے سب سے طاقتور ادارے کی مجبوری۔ پاک فوج کی مجبوری اور یہ سب سے بڑی مجبوری ہے ۔ 2008ء سے 2018ء کے درمیاں 10سالوں میں پاک فوج کے 3سپہ سالار آئے تینوں سے بار بار اپیل کی گئی کہ اقتدار سنبھال کر ملک کو بچاؤ مگر وہ اقتدار نہ سنبھال سکے ۔ دیگر چھوٹی چھوٹی وجوہات کے علاوہ دو بڑی وجوہات ہیں ۔پہلی وجہ یہ ہے کہ پاک فوج کو دشمن کے خلاف سرحدوں پر چوکس رہنے کے ساتھ ساتھ وطن کی گلی کوچوں میں بھی دشمن کے ایجنٹوں کے خلاف لڑنا پڑتا ہے اور گلی کوچوں کی لڑائی میں دشمن نے پاک فوج کا جتنا نقصان کیا ہے اتنا
نقصان دشمن کے خلاف 4بڑی جنگوں میں نہیں ہوا تھا۔ دشمن ہمارے گھر کے اندر گُھسا ہوا ہے ۔ ملک کے اندر لاتعداد ’’مکتی باہنیاں‘‘ فوج سے برسر پیکار ہیں۔حکومت کرنے کے لئے فوج اپنے افیسروں اور جوانوں کو فارغ نہیں کرسکتی ۔ دوسری مجبوری یہ ہے کہ بین الاقوامی حالات فوجی حکومت کے لئے سازگار نہیں ہیں۔ عالمی برادری مارشل لاء کو سپورٹ نہیں کرتی۔ زمانہ 1958ء اور 1977ء سے بہت آگے جا چکا ہے ۔ اکتوبر 1999ء میں جنرل مشرف نے اقتدار حاصل کیا تو اس نے مارشل لاء کا نام نہیں لیا ۔ خود کو چیف ایگزیکٹیو کا ٹائٹل دے دیا ۔ بیوی اور بیٹی کے ساتھ کھڑے ہوکر جو پہلی تصویر میڈیا کو جاری کی اُ س میں جنرل مشرف کی گود میں دو کُتے تھے ۔ امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ چین اور روس کو بھی یہ دکھانا مقصود تھا کہ ’’ ما بدولت ‘‘ کا تعلق ضیاء الحق والی فوج سے نہیں ۔ پھر حکمرانی کے لئے اُنہیں میر ظفراللہ خان جمالی ، چوہدری شجاعت حسین اور شوکت عزیز کی طرح سیاسی مہروں سے کام لیناپڑا۔ حالانکہ فوج کے اندر اُن سے بہتر لوگ دستیاب تھے ۔ مگر یہ اُن کی مجبوری تھی۔ اس کو مقتدر حلقوں کی مجبوری کا نام دیا جاسکتا ہے۔آج پھر پاک فوج کو ایسی ہی مجبوری درپیش ہے ۔ آج اگر فوج اقتدار سنبھالتی ہے تو مٹھائی بانٹنے والوں کی کمی نہیں ۔ مگر مجبوری یہ ہے کہ عالمی برادری کی طرف سے مزاحمت ہوگی ۔ امریکہ مخالفت کرے گا
۔ کامن ویلتھ میں بدنامی ہوگی ، یورپی یونین، چین اور روس اس کو پسند نہیں کریں گے ۔ مصیبت یہ بھی ہے کہ جنرل مشرف والا ماڈل بھی آزمایانہیں جاسکتا۔ یہ ماڈل خاصا پرانا ہوچکا ہے۔ آئی جے آئی والا تجربہ بھی کارگر ہوتا نظر نہیں آتا۔ریٹائرڈ ائیر مارشل اصغر خان نے اس تجربے کے تمام کرداروں کو میڈیا کے سامنے بے نقاب کردیاہے۔بقول اقبال ؂
میخانے کی بنیاد میں آیا ہے تزلزل
بیٹھے ہیں اس فکر میں پیرانِ خرابات
الغرض مجبوریاں ہی مجبوریاں ہیں ۔ ان مجبوریوں میں سلامتی کا راستہ یہ ہے کہ عوام پر اعتماد کیا جائے، عوام کو آزادی کیساتھ اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا جائے۔’’ نامعلوم افراد ‘‘ کے ذریعے لائی گئی حکومت آئندہ ملک اور قوم کا نام روشن نہیں کرسکے گی ۔ یہ بھی ہماری مجبوریوں میں سے ایک مجبوری ہے ۔ خدائے سخن میر کہتا ہے ؂
یاں کے سپیدو سیہ میں ہم کو جو دخل ہے سو اتنا ہے
رات کو رو رو صبح کیا یادن کو جوں توں شام کیا

Facebook Comments