73

ملک میں اسلامی نظام لا کر ہی دم لیں گے ،امریکہ اور مغربی دنیا امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں،امریکی نواز سیکولر قوتوں کی بالادستی پہلے قبول کی نہ آئندہ کریں گے:مولانا فضل الرحمن

لاہور( آوازچترال رپورٹ)جمعیت علمائے اسلام اور متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ وہ ملک میں اسلامی نظام لا کر ہی دم لیں گے ،ہمارے لیے اصل چیلنج 2018 ءکے انتخابات میں کامیابی ہے ، ہم نے سیکولر امریکہ نواز حکمرانوں کی بالادستی پہلے قبول کی ہے نہ آئندہ کریں گے،مغربی تہذیب کی یلغار نے ہم سے ہماری آزادی چھین لی ہے جس کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دی ہیں، انگریز کی غلامی سے نجات ہی صرف آزادی نہیں بلکہ عالمی اداروں کے ذریعے ہماری آزادی کو سلب کرنے کی سازشیں جاری ہیں۔گریٹر اقبال پارک مینار پاکستان میں ایم ایم اے کے زیر اہتمام بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج ہم پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا عزم کرتے ہیں ، 70 سال سیکولر لوگوں نے حکومت کی، آج مینار پاکستان ان کے جھوٹ کی گواہی دے رہاہے ۔انہوں نے کہا کہ امت کو جنگوں کا ایندھن بنایا جارہاہے،ہمارا بجٹ آئی ایم ایف کا پاکستان ڈیسک منظور کرتا ہے، ہماری معیشت پر آئی ایم ایف اور عالمی بینک کا قبضہ ہوتا جا رہا ہے اور ہم آئی ایم ایف کے بنائے ہوئے بجٹ کو اسمبلیوں میں پڑھ کر سنا دیتے ہیں،یو این چارٹر، جنیوا انسانی حقوق کنونشن ہمارے انسانی حقوق کنٹرول کر رہے ہیں، بین الاقوامی آرڈر کے تحت یہاں قانون بنایا گیا کہ 18 سال بعد جنس تبدیل کی جا سکتی ہے،نیا قانون لایا جا رہا ہے کہ یو این کسی تنظیم یا وابستہ فرد کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دے تو ہمیں بھی ماننا ہو گا۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ آج اُمت کو خون کا دریا عبور کرنا پڑ رہاہے ، عراق و افغانستان کو تباہ کیا گیا ،آج امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کی سازشیں، امریکہ اور مغربی دنیا کر رہے ہیں جو انسان حقوق کا نام بھی لیتے ہیں اور خود ہی اس کی پامالی بھی کرتے ہیں، آج امت مسلمہ کو جنگوں کا ایندھن بنایا جا رہا ہے، ایران اور سعودی عرب کو لڑانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ سب امریکا کی سازش ہے،جب تک انسانی حقوق کا تحفظ نہیں ہوگا  اس وقت تک  دنیا میں امن کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا ۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ہمیں آزادی کی قیمت اچھی طرح معلوم ہے، ہماری سیاست اور پارلیمنٹ پر اقوام متحدہ قبضہ چاہتاہے اور ہماری میعشت پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک قابض ہوچکاہے ، بین الاقوامی معاہدات ہمیں ہمارے دفاع کا حق نہیں دے رہے ، اقوام متحدہ کا چارٹر، جنیوا انسانی حقوق کے معاہدے ہمارے حقوق کو پامال کررہے ہیں ، جب ہمارے قانون کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کا تصادم ہو تو پھر ہمارا قانون غیر موثر ہو جاتاہے ، ہماری قومی اسمبلی خود قانون بنانے کی بجائے بین الاقوامی ڈکٹیشن لیتی ہے ، بین الاقوامی دباؤ پر ہماری پارلیمنٹ نے 18 سال کے بعد اپنی جنس تبدیل کرنے کا قانون پاس کرلیا ، اقوام متحدہ جسے چاہے دہشتگرد قرار دے دے اور ہم اس کی پابندی پر مجبور ہوں تو ہماری آزادی اور خود مختاری کہاں گئی ؟انسانی حقوق کی تشریخ جو مغرب کرتاہے ہم اسے ملک میں قانون کی حیثیت دیتے ہیں ہماری آزاد ی کہاں رہی؟۔انہوں نے کہا کہ مخلوط نظام تعلیم اسلامی معاشرے کے لیے ناقابل قبول تصور ہے، ہم خواتین کے لیے الگ تعلیمی ادارے اور کھیل کے میدان بنائیں گے۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ جو کہتے ہیں کہ سود کے بغیر معیشت نہیں چلتی، شراب کے بغیر ہماری محفلیں آباد نہیں ہوتیں، اسلامی قوانین دقیانوسی ہیں، فحاشی و عریانی کے بغیر ہمارا گزارا نہیں، اس طرح کی سوچ والوں کو آج کل روشن خیال کہا جاتا ہے، ہماری جنگ اس لادین روشن خیالی کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سکون و اطمینان کے لیے ہمیں معاشی خوشحالی لانی ہوگی، لیکن آئی ایم ایف کے قوانین اور سودی نظام کی وجہ سے معاشی خوشحالی کا خون ہوجاتا ہے۔ اس سے قبل خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ جس سیاست کامقصدبینک اکاونٹ میں اضافہ ہومیں اس پرلعنت بھیجتاہوں،یہ ظالم یہاں کماکر باہر پیسا بھیجتے ہیں,دبئی میں کرپٹ اشرافیہ نےاربوں کی پراپرٹی خریدی،پاکستانی بیرون ممالک سے 20 ارب ڈالر ملک میں بھیجتے ہیں جب کہ کرپٹ حکمران یہاں سے سرمایہ لوٹ کر باہر بھیجتے ہیں,جو بھی ظلم کرےگا ہم اس کے خلاف کھڑے ہوجائیں گے،ہم ملک  کو ’’پُرامن پاکستان‘‘  بنانے کے لیے ایک ہوئے ہیں ،مجلس عمل کے قافلے میں کوئی پانامہ زدہ، قرض مافیا ، لینڈ مافیا اور شوگر مافیا  کا نمائندہ نہیں ہے ،جو اس قافلے سے ٹکرائے گا اس کی سیاست پاش پاش ہوجائے گی۔سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ بادشاہی مسجد اور مینار پاکستان ’’نیا پاکستان‘‘ کی بجائے اسلامی پاکستان بنانے کا پیغام دے رہے ہیں،70 سال ہو گئے مگر اسلامی نظام نافذ نہیں ہوا لیکن آج مینار پاکستان کہہ رہا ہے کہ ’’نیا پاکستان‘‘  نہیں ’’اسلامی پاکستان‘‘ بناؤ ، 70 سال سے قوم اسلامی نظام کے نفاذ کی منتظر ہے۔انہوں نے کہا کہ میری لڑائی کسی فرداور خاندان کے خلاف نہیں ظلم کے خلاف ہے،میرا منشور صرف دو نکاتی ہے ، ایک لا الہ الا اللہ اور دوسرا محمد الرسول اللہ ﷺ،یعنی اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کا نفاذ،کیونکہ اللہ کی طرح اللہ کا نظام بھی لاشریک ہے،دینی جماعتوں کے اکٹھا ہونے سے امریکہ کے ایجنٹ اور ان کے یار پریشان جبکہ عام عوام خوش ہیں،مخالفین  کے  ہمارے پہلے ہی اجتماع کو دیکھ کر رنگ اڑ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی مارشل لاء ہمارے مسائل کا حل نہیں اور نہ ہی جاگیرداروں اور ظالم سرمایہ داروں کی حکومت عوام کے مسائل حل کرسکتی ہے، جب تک زندگی باقی ہے، خون کے آخری قطرے تک پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے لڑیں گے اور مریں گے۔مینار پاکستان پر ہونے والے ایم ایم اے کے بڑے جلسہ عام میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفورحیدری نے اپنے خطاب میں کہاکہ پاکستان کے حصول کے لیے لاکھوں قربانیاں دینا پڑیں ، آج اس پاکستان کی حالت یہ ہے کہ پاکستان کے دو کروڑ بچے سکول نہیں جاتے، دوسری طرف پاکستان کے پچاس لاکھ بچے دینی مدارس میں پڑھتے ہیں اور کچھ جاہل دینی مدارس کو جہالت کی فیکٹریاں کہتے ہیں، موجودہ اور سابقہ حکمرانوں نے قومی دولت کو لوٹا ، قومی معیشت کو تباہ و برباد کیا اور قرضوں کی دلدل میں پھنسادیا ۔ انہوں نے اجتماع کو ایک ریفرنڈم قرار دیتے ہوئے لاہور کے شہریوں کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ آج اس اجتماع نے فیصلہ دیدیاہے کہ آنے والی حکومت ایم ایم اے کی ہوگی اور ہم سیکولر ازم اور لبرل ازم کو ملک میں چلنے نہیں دیں گے ،ہم بیرونی ایجنڈا رکھنے والی قوتوں کا راستہ روک کررہیں گے ، ہم تعلیم کو عام کریں گے علاج کی سہولتیں مفت ہو ں گی ۔ انہوں نے کہاکہ ان ظالموں نے پاکستان کو دہشتگردی کی آگ میں جھونک دیا ،ہم ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں گے ، ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ایم یم اے کے منشور میں پہلی ترجیح ہے ۔ صاحبزادہ شاہ محمد انس نورانی نے کہاکہ پاکستان کو اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانا متحدہ مجلس عمل کی جدوجہد کا پہلا نقطہ ہے اسلامی قیادت کی اس وقت سیکولر قوتوں سے جنگ ہے قوم متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دے ، آج سے 78 سال قبل قیام پاکستان کی قرار داد یہاں منظور ہوئی اور ہمارے آباؤ اجداد نے لاالہ الا اللہ کے نعرے پر پاکستان حاصل کیا ،آج پھر اسی جذبے کی ضرورت ہے اور ہم اسی پاکستان کے حصول کی جدوجہد کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ 2018 ءکے الیکشن میں دینی قوتیں شاندار فتح حاصل کریں گی اور یہ صدی اسلام کی صدی ہوگی ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے کہاکہ ملک میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کا نظام ہی چلے گا ،جن علماءنے تمہارے نکاح پڑھائے ، بچوں کے کانوں میں اذانیں دیں اور تمہارے جنازے پڑھائے اب حکومت بھی وہی حضور ﷺکے غلام کریں گے ، سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کو زمین بوس کردیا جائے گا ، ملک و قوم کے مسائل کاحل صرف متحدہ مجلس عمل کے پاس ہے ،نوازشریف زرداری اور عمران خان کشمیر فلسطین شام سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے منہ کیوں نہیں کھولتے؟ ان کے حق میں اگر کوئی آوازاٹھاتاہے تو وہ صرف علمائے کرام اور متحدہ مجلس عمل کے قائدین اٹھاتے ہیں ۔امیر جماعت اسلامی خیبر پی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل کی قیادت کو مبارکباد دیتاہوں کہ انہوں نے پاکستان کو نظام مصطفیﷺ  کا پاکستان بنانے کا آغاز کردیا، پاکستان کے پاس اللہ کے عطا کردہ تمام وسائل اور اور اکیس کروڑ غیرت مند عوام ہیں ، اگر آج پاکستان تعلیم ، صحت اور روزگار سے محروم ہے ، بدامنی ، دہشتگردی ، لوڈشیڈنگ ہے اور پاکستان امریکہ کا غلام ہے اور صہیونی اداروں کا مقروض ہے تو اس کا مجرم وہ طبقہ ہے جس نے پاکستان کو لوٹ کر دولت باہر منتقل کی ، شکیل آ فریدی کو حکومت رہا کرناچاہتی ہے جو شکیل آفریدی اور کرنل جوزف کو رہا کرے گا ، عوام اس کو گریبان سے پکڑیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل اس ملک کو اسلامی و خوشحال پاکستان بنائے گی ، آج غلامان مصطفیﷺ  کا دورشروع ہوچکاہے اور غلامان امریکہ اور سیکولر ازام کے تابع اداروں پر لرزہ طاری ہے۔رانا شفیق خان پسروری نے کہاکہ مینار پاکستان سرزمین پاکستان کا سب سے مقدس مقام ہے ، امریکہ ، اسرائیل ،یہودی ونصاریٰ اور ان کے گماشتوں کے مقابلے میں جس طرح آپ سینہ تان کر کھڑے ہیں ، مینار پاکستان بھی شہادت کی انگلی کی طرح کھڑا ہے اور زبان حال سے پیغام دے رہاہے کہ یہاں صرف اسلام کی حکومت چلے گی ، آج پاکستانی سیاست کے اندر ایک گندہ کھیل کھیلا جارہاہے اور جلسوں میں قوم کی بیٹیوں کو نچایا جارہاہے ، آج ایک شخص پاکستانی اداروں کے خلاف بھارت کی زبان بول رہاہے ۔اسلامی تحریک کے مرکزی رہنما علامہ عارف واحدی نے کہاکہ آج پاکستان میں سیکولر قوتیں پاکستان کے اسلامی تشخص کو مٹادینا چاہتی ہیں ۔ ملک میں سودی نظام ہے جس کی وجہ سے پاکستان آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کا مقروض ہے ہم پاکستان کو ان سیکولر اور مغرب کی آلہ کار قوتوں سے آزاد کرائیں گے ۔ پاکستان میں نظام مصطفےٰ اور نظام قرآن آئے گا تو نہ صرف پاکستان بلکہ امت کے مسائل حل ہوں گے ۔ کشمیر اور فلسطین آزاد ہوگا۔

Facebook Comments