108

شیشی کوہ ، آل پاکستان مسلم لیگ کے ورکروں کا اجلاس،

چترال ( آوازچترال رپورٹ ) آل پاکستان مسلم لیگ, چترال کی شیشی کوہ کے پارٹی ورکروں کے ساتھ ایک کامیاب اور پرجوش کارنر میٹنگ یو-سی ہیڈکوارٹر “تار” میں منعقد کی گئی. پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد کئی ایک مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا. نمائندوں اور معززین نے علاقے کی گوناگوں مشکلات و مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی. اے-پی-ایم-ایل چترال کے صدر سلطان وزیر نے تمام تر قدرتی وسائل کے باوجود شیشی کوہ یو-سی کی معاشی پسماندگی اور سہولیات کی عدم دستیابی پر افسوس کا اظہار کیاصدر اے-پی-ایم-ایل چترال نے اظہار خیال کیا کہ کتنی شرم کی بات ہے کہ چھبیس ہزار سے زائد کی آبادی اور مختلف سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینے کے باوجود علاقے میں لڑکیوں کے لیے صرف ایک مڈل سکول کام کررہا ہے, لڑکوں کے لیے ایک بھی ہائر سیکنڈری سکول موجود نہیں جبکہ پرائمری تعلیمی ادارے معقول فاصلے پر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بہت ساری بچیاں اور بچے تعلیمی زیور سے محروم ہیں. صحت کے شعبے میں ایک ہی بی-ایچ-یو ہے جہاں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں اور نہ ہی صحت کے آلات دستیاب ہیں ٹمبر مافیا کی من مانیوں کا ذکر کرتے ہوۓ سلطان وزیر نے جنگلات کی بےدریغ کٹائی, نتیجتأ قدرتی آفات کی وجہ سے لوکل کمیونٹی کو پہنچنے والے نقصانات اور عدم ازالے پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا. انہوں نے کمیونٹی کو ملنی والی طے شدہ اور قانونی فارمولے کے مطابق رائلٹی کی عدم فراہمی کو لوگوں کے حقوق پر ڈھاکہ ڈالنے سے تشبیہہ دی لاوی پاور پروجیکٹ پر بات کرتے ہوۓ پارٹی صدر نے گولین گول پروجیکٹ کے مقابلے میں مزدوروں کو ملنے والی کم اجرت پر بھی عدم اطمیناں کا اظہار کیا اور نو سو کی بجاۓ پانچ سو روپے روزانہ کی اجرت کی مذمت کی جو کہ کم سے کم قانون اجرت کی خلاف ورزی اور لوگوں کی محنت و مشقت کا استحصال ہے. انہوں نے کہا کہ لاوی پروجیکٹ کے نتیجے میں بعض علاقوں سے منسلک نہریں اور نالے مواد سے بھر رہے ہیں جس کے نتیجے میں ناگہانی بارشیں سیلاب اور لوگوں کے جان و مال کے نقصان کا سبب ہوسکتی ہیں اور جس کا بروقت تدارک نہایت ضروری ہے. ساتھ ہی سپلائی لائینیں ٹوٹنے کی وجہ سے صاف پانی کی فراہمی متاثر ہورہی ہے. اس کے علاوہ سڑکوں وغیرہ کی تعمیرات کے دوراں درخت اور لوگوں کی جائدادیں متاثر ہورہی ہیں جن کا بروقت اور مناسب معاوضہ نہیں مل رہامقررین نے پارٹی چیرمئین پرویز مشرف کی چترال کے لیے خدمات اور ان کے ساتھ عوام کی والہانہ محبت و خلوص پر بھی اپنے تاثرات پیش کیے. انہوں نے اس بات پر افسوس اور ندامت کا اظہار کیا کہ پرویز مشرف نے جس طرح چترالیوں سے وفا نبھائی اس کا مناسب جواب نہیں دیا جاسکا اور ان کے نام پر منتخب ہونے والے نمائندوں نے مشرف سے دغا کرگئے جو کہ چترالی ریت و روایات کے بالکل برعکس ہےاجتماع میں شریک لوگوں نے پرویز مشرف کے ساتھ لگاؤ کا اعادہ کرتے ہوۓ ان کے منظور نظر اے-پی-ایم-ایل چترال کی قیادت اور آنے والے انتخابات میں پارٹی امیدواروں کا بھرپور ساتھ دینے کا تہیہ کیا تاکہ چترالیوں کی محبت اور وفا کا سارے ملک و قوم کو دوبارہ سے یقین دلایا جاسکے. آخر میں مشرف زندہ باد کے نغروں سے وادی شیشی کوہ گونج اٹھی.

Facebook Comments