115

چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر سعد ملوک مدت ملازمت مکمل کرکے سبکدوش ہوگئے

چترال ( نمائندہ آوازچترال ) پرنسپل میڈ یکل آفیسر /ڈسٹرکٹ ٹی بی کنٹرول آفیسر ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال ڈاکٹر سعد ملوک مدت ملازمت مکمل کرکے پیر کے دن سبکدوش ہوگئے، ڈاکٹر سعدملوک نے اپنی 31سالہ مدت ملازمت میں چترال کے مختلف ہسپتالوں کے علاوہ صوبے کے دوسرے اضلاع میں بھی شاندار خدمات انجام دی ہے۔ ڈاکٹر سعد ملوک کا تعلق موڑکہو کے خوبصورت گاؤں موردیر کے علمی اور سیاسی گھرانے سے ہے ۔آپ سابق ایم پی اے ذین العابدین مرحوم کے بھتیجے ہیں ۔
ڈاکٹر سعد ملوک ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد سے 1985میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ۔ ہاوس جاب مکمل کرنے کے بعد 17اکتوبر1987کو بطور میڈیکل آفیسر ٹی ایچ کیو ہسپتال بونی سے میڈیکل پروفیشن میں عملی زندگی کا آغاز کیا ۔ جس کے بعد آرایچ سی مستوج ، ایبٹ آباد، ایچ ایم سی پشاور، ڈی ایچ کیو چترال ، ایون، وغیرہ کے علاوہ ڈپٹی ڈیچ او، ای ڈی او ہیلتھ اور ڈسٹرکٹ ٹی بی کنٹرول آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد باعزت طور پر ریٹائر ہوگئے ۔
ڈاکٹر سعد ملوک ایک محنتی اور ایماندارآفیسر ہونے کے ساتھ مریضوں کیلئے مسیحا سے کم نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ میرٹ پر کام کرنے کی وجہ سے محکمہ ہیلتھ کے اسٹاف اور عوام میں یکسان طور پر مقبول ہیں۔ آپ ایک خوش گفتار ، ملنسار اور مریضوں سے دوستانہ اورپیار سے ملنے والے ڈاکٹر ہیں ۔
آپ 2012میں ای ڈی او ہیلتھ بھی رہے ۔میرٹ کی پاسداری کرتے ہوئے اُس وقت کے وزیر صحت اور محکمہ ہیلتھ کے اعلیٰ حکام کی غلط سفارشوں کو قبول نہ کرنے پر انھیں ای ڈی او کی پوزیشن سے ہٹاکر ڈسٹرکٹ ٹی بی کنٹرول آفیسر چترال تعینات کردیا گیا ۔ اور یوں 2013سے اب تک ٹی بی جیسی موذی مر ض کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے مدت ملازمت پوری کی ۔ اس دوران انھیں چیف میڈیکل آفیسر کے عہدے پر ترقی بھی دید ی گئی ۔
ڈاکٹر سعد ملوک ایک بہترینENTسرجن بھی ہیں انھوں نے ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں ساڑے سات سال تک ای این ٹی ڈیپارٹمنٹ میں آر ایم او اور رجسٹرار ای این ٹی کے پوسٹ پر بھی فائز رہے ہیں ۔ انھوں نے چترال سے باہر رہ کر بھی چترال کے مریضوں کی حد الامکان خدمات انجام دی ہے ۔ چترال کے مختلف مکاتب فکر نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی چترال کے عوام کی خدمات انجام دیتے رہیں گے ۔

Facebook Comments