50

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی….صدا بصحرا…..بوس اور نائیک

انگریزی کے لفظ بوس (Boss) کا پشتو متبادل نائیک ہے ۔ تاہم نائیک امن پسند آقا کے لئے بولا جاتا ہے ۔ جرائم کی دنیا میں بوس (Boss) کا لفظ مستعمل ہے ۔ اگرچہ ٹیلیفون کی نگرانی کی جاتی ہے ۔ گفتگو کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود جرائم کی دنیا میں ٹیلیفون کی بڑی اہمیت ہے ۔ جرائم پیشہ گروہ بینکوں کی جگہ نقد کرنسی میں کاروبار کرتے ہیں جوقانونی زبان میں ’’ منی لانڈرنگ ‘‘ کہلاتا ہے ۔ مغربی ممالک میں خصوصی رعایت نہ ہو تو ( Money Laundering) پر سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔ الطاف حسین کو خصوصی رعایت دے کر سزا سے بچا لیا گیا ۔ ہمارے ہاں منی لانڈرنگ کوئی جرم نہیں ۔ سرحد پار سے آنے والا مال نقد تجارت میں آتا ہے ۔ سرکاری حلقوں میں اس مال کے عوض ملنے والی رقم کی گنتی لاکھ، کروڑ میں نہیں ہوتی ۔ بوریوں کے حساب سے ہوتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کتنی بوریاں آگئیں ؟ یہاں ’’ بوس‘‘ کی مرضی چلتی ہے ۔ بلوچستان ، کراچی اور فاٹا کے سیاسی و سماجی مسائل بھی ’’ بوس‘‘ کے گرد گھومتے ہیں۔ جرائم کی دنیا میں پختون کو بھی ’’ نائیک ‘‘ کہنے کی اجازت نہیں ۔ وہ ’ ’ بوس ‘‘ ہی کہتا ہے ۔ آئیے آپ کو چار سکہ بند مناظر پیش کرتے ہیں ۔ آپ کیتجربیمیں یہ مناظر میں اگر اب تک نہیں آئے تو آگے جا کے ضرور آئیں گے ۔ ڈبل کیبن گاڑی میں بوس جارہے ہیں۔ دو چیلے ساتھ ہیں ۔ ایک مہمان بھی گاڑ ی میں بیٹھا ہے ۔ گاڑی موٹر سائیکل سوار جوانوں کو ٹکر مارکر آگے نکل جاتی ہے۔ پے درپے پانچ موڑ مڑنے کے بعد ایک حویلی میں داخل ہوتی ہے ۔ Bossگاڑ ی سے اُتر کر موٹر سائیکل پر سوار ہوکر نکل جاتا ہے ۔ دونوں چیلے پولیس سٹیشن جاکر گاڑی کی چوری کا ایف آئی آر کٹواتے ہیں۔ مال جس بیگ میں تھا و ہ بوس لے گیا اور ٹھکانے پر پہنچا دیا ۔ یہ ہیروئن کی بڑی کھیپ تھی اور موٹر سائیکل سوار ایک اہم ادارے کے لئے کام کرنے والے نوجوان تھے۔ شام کو دونوں کے مرجانے کی خبر آتی ہے ۔ ایک ہفتہ بعد چوری کی ہوئی گاڑی ایک ویران سڑک سے برآمد کر کے Bossکے حوالے کی جاتی ہے۔ گویا آم کے آم گٹھلیوں کے دام ۔ دوسرامنظر ملاحظہ ہو۔ Boss کیٹیلیفون پر کال آتی ہے ۔ میں 99بول رہا ہوں ۔ ٹرپل ٹو(222) پکڑا گیا ہے ۔ تھانے میں بند ہے ۔ بوس کہتا ہے مال کدھر ہے ؟ 99کہتا ہے مال ہمارے پاس ہے۔ بوس حکم دیتاہے ڈیل کرو۔ 99 کہتا ہے ایس ایچ او نہیں مانتا ۔ بوس فون بند کرتے ہوئے کہتا ہے انتظار کرو ۔ اب بوس دوسرا فون ملاتا ہے اور پوچھتا ہے تم نے فلاں تھانے میں کس کو ایس ایچ او لگایا ۔ نا سمجھ ، گنوار اور جاہل آدمی ہے ۔ دفع کرو۔ دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آتا ۔ تھوڑی دیر بعد 99کا فون آتا ہے۔ بوس ! ویل ڈن ! نیا ایس ایچ او آگیا ہے ۔ اس نے ٹرپل ٹو کورہا کردیا ہے۔ ایک اور منظر ملاحظہ ہو۔ بوس کو فون آتا ہے۔ فون کرنے والا کہتا ہے مبارک ہو، جج نے ڈبل فائیو کے حق میں فیصلہ دیدیا۔ بوس کچھ نہیں کہتا ۔ فون بند کرکے اگلا نمبر ملاتاہے ۔ اور کہتا ہے سیشن جج کو اُٹھاؤ۔ ڈبل فائیو کی اپیل منظور ہوگئی ۔ اپیل کا خرچہ دوگناکر کے لے لواور زبان کاٹ کر چھوڑ دو۔ فون رکھنے کے بعد اپنے مہمان کو بتا تا ہے کہ ڈبل فائیو کو ایک واردات پربھیجا گیا ۔ تین بند ے اس نے کھڑ کا دیئے ۔ ایک پاگل جج نے تین بار سزائے موت اور 30لاکھ روپیہ جرمانہ کی سزا سنائی ۔ اپیل پر جتنا خرچہ ہوا اس کے برابر رقم اس کو آفر کی۔ پاگل کے دماغ میں قانون کا کیڑا تھا۔ اُس نے آفر کو ٹھکر ادیا ۔بالائی عدالت میں ڈبل فائیوکو چھڑانے کا انتظام ہوگیا ۔اب پاگل جج کو اس کے کئے کی سزا مل جائے گی۔ یہ چوتھا منظر ہے ایک ہوٹل کا آراستہ و پیراستہ کمرہ ہے۔ تھری پیس سوٹ میں ملبوس دو بندے ہیں ۔ ان میں سے ایک بوس کا چیلا ہے۔ دوسرا شخص کچہری کا ٹاوٹ ہے۔ ما ل کو چھڑوانے اور ملزم کو باعزت بری کرنے کا سودا ہورہاہے ۔ مال کس وقت پکڑا گیا ؟ جواب ملتا ہے رات کو۔ سوال کرنے والا پوچھتا ہے ۔ پولیس کے سوا کوئی اور گواہ ہے ؟ جواب ملتا ہے دو گواہ تھے۔ دونوں نے غلط گواہی دی ۔ پوچھنے والا کہتاہے کیابریف کیس پورا ہے ؟ جواب ملتا ہے ڈیمانڈ کے مطابق ہے۔ پوچھنے والا کہتا ہے ’’ بے غمہ شہ ‘‘ یعنی بے فکر ہوجاؤ کام ہوجائے گا۔ اگلے دن بوس کا چیلا جیل کے باہر آکر اپنا دھندہ شروع کرتاہے ۔ ’’ اپیل منظور ‘‘ کا مطلب ہے کہ سودا ہوگیا تھا۔ یہ کسی ایک شہر کی کہانی نہیں ۔ نوشہرہ سے نوشہرہ فیروز تک ، مردان سے مکران تک ،چترال سے چیلاس تک اور کلاچی سے کراچی تک ایک ہی کہانی ہے۔ کردار تھوڑے سے مختلف ہیں ۔ بوس اور نائیک کا سکّہ ہر جگہ چلتا ہے ۔ فارغ بخاری نے سو باتوں کی ایک بات کہی ؂
امیر شہر کا سکہ ہے کھوٹا
مگر شہر میں چلتا بہت ہے
پاکستان بحیثیت ملک حالت جنگ میں ہے ۔ پاکستانی قوم اس وقت حالتِ جنگ میں ہے۔ اگر اس ملک میں پولیس اور عدالت کا نظام ٹھیک ہوا ۔ ایک مہینے میں دو ہزار سمگلرز ، دو ہزار قاتل ، دو ہزار ڈاکو، دو ہزار اغوا کار اور دو ہزار رشوت خور عدالت کے ذریعے تختہ دار پر لٹک گئے۔ قتل ، اغوا، ڈکیتی اور سمگلنگ کے مقدمات پر دو ہفتوں میں فیصلے دیئے گئے تو ملک میں قانون نظر آئے گا۔ قانون کی حکمرانی نظر آئے گی ورنہ کسی کو باور نہیں ہوگا کہ قانون بھی کوئی چیز ہے۔
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ہو تو حشر اب اُٹھا کیوں نہیں دیتے

Facebook Comments