65

داد بیداد… ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ… فصلی بٹیروں کے لئے

ایک سکہ بند اور گھسا پٹا جملہ اخبارات میں بار بار آتا ہے ہر پارٹی کا قابل ذکر عہدیدار کہتا ہے کہ ’’ ہماری پارٹی میں فصلی بٹیروں کے لئے کوئی جگہ نہیں ‘‘ حالانکہ وہ خود بھی فصلی بٹیرا ہے اور جن سے خطاب کرتا ہے وہ بھی فصلی بٹیرے ہی ہوتے ہیں اس کے باوجود بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہماری پارٹی میں ’’ہمارے ‘‘لئے کوئی جگہ نہیں اخبار میں اس قسم کا بیان پڑھنے کے بعد حیرت ہوتی ہے کہ اگر فصلی بٹیرے نکل گئے تو پھر پارٹی میں کیا رہ جائے گا کچھ دوستوں نے اس کا یہ حل ڈھونڈلیا ہے کہ بیان میں ایک لفظ’’مزید‘‘ کا اضافہ کر کے اس کو زمینی حقائق کے قریب تر لایا جائے نیا بیان یوں ہو گا ’’ ہماری پارٹی میں ’’ مزید ‘‘ فصلی بٹیروں کے لئے کوئی جگہ نہیں ‘‘ ’’ مزید ‘‘ کا بامعنی لفظ اس بیان کو نہ صرف چار چاند لگائے گا بلکہ اس کو سدا بہار بیان بنادے گا یہ بیان کسی بھی وقت بلا خوف تردید جاری کیا جاسکتا ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت کا چھوٹا بڑا لیڈر یہ بیان دے سکتا ہے 1946ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ کو مسلم اکثریتی صوبوں میں اکثریت حاصل ہوئی تو پنجاب کی یونینسٹ پارٹی کا اہم لیڈر بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی خدمت میں حاضر ہوامدعا بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں موصوف دو سالوں کے اندر تین بارپارٹی بدل چکے تھے بابائے قوم نے تعجب اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اُن سے پوچھا ’’ کیا آپ کو بھی پارٹی بدلتے وقت سوچنے کی ضرورت پڑتی ہے ؟ ‘‘بابائے قوم کے سوال میں طنزکا نشتر تھاایسے ہی لوگوں کے بارے میں انہوں نے کہا تھا ’’ میری جیب میں چند کھوٹے سکے بھی ہیں ‘‘ یادش بخیر ! جنرل مشرف جب اقتدار میں تھے تو ان کے چاروں طرف سیاستدانوں کا جمگھٹا لگا رہتا تھا ۔ بعض سیاستدانوں نے انہیں 10بار وردی کے ساتھ صدر منتخب کرانے کی قسم کھائی تھی مگر جب وہ اقتدار سے الگ ہوئے تو سابق آرمی افیسر لفٹننٹ جنرل راشد قریشی کے سوا کوئی بھی اُن کی پارٹی میں نہیں رہا فوجی حکمت عملی کے لحاظ سے تاتاری جنگجو اور فاتح چنگیز خان کے نام کا چرچا ہوتا آیا ہے چنگیز خان کے بے شمار دیگر جنگی چالوں میں سے ایک جنگی چال یہ تھی کہ وہ مفتوحہ علاقوں کے اندر پھونک پھونک کر قدم رکھتا تھاجو لوگ اپنی قوم کو چھوڑ کر راتوں کو چھپ کے ان سے ملاقاتیں کرتے اور ان کو اپنی وفاداری کا یقین دلاتے تھے ان کو فوج کے ہراول دستے میں رکھتا تھا جب فوج اگلی جنگ میں کود پڑتی تو سب
سے پہلے یہی لوگ مارے جاتے تھے کسی نے چنگیز خان سے پوچھا تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ جو لوگ اپنی قوم اور ملک کو چھوڑ کر تمہارے ساتھ شامل ہوتے ہیں سب سے پہلے ان کو قربانی کا بکرا بنانا کہاں کا انصاف ہے ؟ چنگیز خان نے اس کا مختصر جواب دیا اور تاریخ میں یہ جواب محفوظ ہے چنگیز خان نے کہا ’’ ان لوگوں نے جس طرح اپنی قوم سے بے وفائی کی اس طرح ہم سے بھی بے وفائی کریں گے ان پر اگلے جہاں کے دروازے ہی کھول دینے چاہیءں ‘‘ ایوب ، بھٹو اور ضیاء الحق کے ساتھ بے وفائی کرنے والے بھی ایسے ہی لوگ تھے 1961ء میں جو لوگ کمیونسٹ تحریک کے سرخیل شمار کئے جاتے تھے 30سال بعد سویت یونین کو زوال آیا مشرقی یورپ کے دروازے ان پر بند ہوئے تو سارے کے سارے کمیونسٹ با جماعت امریکہ کی گود میں جابیٹھے ایک مشہور شخصیت کو خصوصی طور پر امریکہ کا دورہ کروایا گیا دورے سے واپس آئے تو ایک کا مریڈ نے ان سے سوال کیا عالی جاہ ! آپ کے نظریے کوکیاہوا ؟مساوات کا سبق کدھر گیا ؟ انہوں نے کہا ’’ مزے کی بات یہ ہے کہ امریکہ میں روشن خیالی اور ترقی پسندی نے جڑ پکڑ نا شروع کیا ہے جلد یا بدیر امریکہ سے کمیونزم اورسوشلزم کا سورج طلوع ہوگا دراصل امریکہ میں کچھ بھی نہیں ہوا تھا موصوف کی سرپرستی کرنے والی حکومت ماسکو میں دم توڑ چکی تھی اور موصوف نے کیپٹلزم کے سایے میں نیاآقا ڈھونڈ لیا تھا جب تک پاسپورٹ اور ویزا سلامت ہے موصوف کی ہمدردی امریکہ کے ساتھ رہے گی ہمارے دوست عبد الخالق تاج فرماتے ہیں ’’ اصول کی بات یہ ہے کہ اصول کی کوئی بات ہی نہیں ‘‘ اور یہ اس دور کی سب سے بڑی سچائی ہے ایک لیڈر دھواں دھار تقریر کر رہے تھے جب اُ س نے کہا ہماری پارٹی میں فصلی بٹیروں کے لئے کوئی جگہ نہیں تو مجمع سے ایک شخص اُٹھا اُس نے پوچھا ’’ عالی جاہ ! غیر فصلی بٹیرے کہاں سے آئیں گے ؟ ‘‘ حقیقت میں جمہوریت ایسا طرز حکومت ہے جس میں ’’ بٹیروں ‘‘ کو گنا کرتے ہیں تو لا نہیں کرتے ‘‘ اور جب تولنے کا امکان ہی نہیں تو فصلی اور غیر فصلی کی تمیز ختم ہوجاتی ہے ایساوقت کسی بھی سیاسی جماعت میں نہیںآئے گا جب ایک لیڈر اُٹھ کر دوسرے لیڈر کو طعنہ دے کہ ’’ تم فصلی بٹیرے ہو ‘‘ ایک فصلی بٹیر ا دوسر ے فصلی بٹیرے پر کس طرح انگلی اُٹھا سکتا ہے؟ سوباتوں کی ایک بات پروین شاکر نے کہی ہے ؂
میں کیسے کہہ دوں اُ س نے چھوڑ دیا ہے مجھے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
وہ جہاں بھی گیا، لَوٹا تو میرے ہی پاس آیا
یہی ایک بات ہے ا چھی میرے ہرجائی کی
بعض دوستوں نے’’ لَوٹا‘‘ کے زبر کو پیش میں تبدیل کر کے لوٹا بنا دیا ہے اور لوٹا جہاں بھی جائے فصلی بٹیروں کی طرح اپنی جگہ بنا لیتا ہے

Facebook Comments