55

صد ا بصحرا …ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ …ہمارے مگرمچھ

مگر مچھ بڑی مچھلی، نہنگ اور اژدہا کو کہتے ہیں جو چھوٹی مچھلیوں کو کھاتا ہے۔ کسی چھوٹی مچھلی کو سر اُٹھانے نہیں دیتا۔ گذشتہ 5سالوں میں ہمارے ہاں بڑے مگرمچھ سرگرم ہوگئے ہیں۔ مگر مچھوں نے 5سالوں میں کسی کو نئی فیکٹری لگانے نہیں دی، بی اور سی کلاس کے چھوٹے ٹھیکہ داروں کا روزگار اور دانہ پانی بند کردیا۔ درمیانہ اور چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے حج یا عمرہ اپریٹر کا جائز کاروبار بند کروادیا۔ تازہ ترین واردات سستی فیسوں کے ساتھ معیاری تعلیم فراہم کرنے والے سکولوں اور کالجوں کو بند کرنے کے متعلق ڈالی گئی ہے ۔ بڑے مگرمچھ کے پاس کھربوں کے حساب سے دولت ہے۔ وہ اپنی اجارہ داری میں کسی کو دخل دینے کی اجازت نہیں دیتے ۔ نئے آنے والوں کا راستہ روکنے کے لئے پانی کی طرح پیسہ بہاتے ہیں ۔ مرزا غالب کی مشہور زمانہ غزل کا شعر ہے ؂
دامِ ہر موج میں ہے حلقہ صد کام نہنگ
دیکھئیے کیا گذرتی ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
ہمارے استاد مرحوم عمر حیات نے اس کی تشریح کرتے ہوئے بورڈ پر ایک تصویر بنائی تھی۔ تصویر میں اژدہا دکھایا تھاجس کا منہ کھلا ہوا تھا۔ اس کے پیچھے ہزاروں اژدہوں کے کھلے ہوئے منہ تھے۔ قریب ہی سیپی کی تصویر تھی بارش کے قطرے آسمان سے برس رہے تھے جو اژدہوں کے منہ میں جارہے تھے۔ سیپی ویسے ہی منہ کھولے انتظار میں تھا ؂
گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی
کھرب پتی ٹھیکہ دار کراچی سے آکر چترال میں سڑک کا ٹھیکہ لیتا ہے۔ بہاولپور سے مزدور لاتا ہے۔ چترال کا ٹھیکہ دار اس لئے بے روزگار ہے کہ وہ مگر مچھ کا مقابلہ کرنے کی مالی سکت نہیں رکھتا۔ چترال کا مزدور اس لئے بے روزگار ہے کہ ایک ہزارکلومیٹر دور سے آنے والا ٹھیکہ دار مزدور بھی اپنے شہر سے لاتا ہے۔ کیونکہ پیسہ بڑا ہے۔ اس کلچر نے گذشتہ 5سالوں میں محکمہ تعمیرات کا بیڑہ غرق کر دیا ہے ۔ سارے کام رُکے ہوئے ہیں ۔ حج اپریٹرز میں بھی مگرمچھوں کا طاقتور گروہ ابھر کر سامنے آگیا ہے۔ یہ بھی کھرب پتی تاجروں کا طبقہ ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں سعودی عرب کی حکومت کے ساتھ مثالی تعلقات تھے۔ ان تعلقات کی بناء پر حج اپریٹر ز کو مراعات دی گئی تھیں ۔ نئے حج اپریٹر ز کے ذریعے پاکستانی حجاج کرام کو کم سے کم خرچ پر بہترین سہولیات دی جاتی تھیں۔ کیونکہ مقابلہ اور مسابقہ کی فضا میں ہر اپریٹر بہتر سے بہتر سروس دینے پر زور لگاتا تھا۔ مگر مچھوں کے کاروبار کا آدھا حصہ تقسیم ہوگیااور آدھے حصے میں نرخ کم کرنے والے اپریٹروں نے قبضہ کرنے کا پروگرام بنایا۔ کراچی، سکھر ، حیدر آباد ، ملتان اور لاہور کا کھرب پتی تاجر ایک حاجی سے 3لاکھ اور 4لاکھ روپے منافع کماتا تھا۔ 500حاجیوں کے کوٹے میں اس کو 20کروڑ روپے کا نقد منافع ملتا تھا۔ اس کی اجارہ داری تھی۔ نئے حج اپریٹر نے کوٹہ بھی تقسیم کیا۔ کھرب پتی تاجر کے حصے میں 200حاجیوں کا کوٹہ آیااور ہر حاجی کے اوپر50ہزار روپے کا منافع بچ گیا۔ گویا ایک حج سیزن میں اس کا منافع 20کروڑ سے کم ہوکر محض ایک کروڑ رہ گیا۔ چونکہ وہ حج کو مذہبی فریضہ ، عبادت وغیرہ نہیں سمجھتا۔ جس طرح چین کا صنعتکار حج کے موقع پر جائے نماز ، ٹوپیاں اور تسبیح فروخت کرکے منافع کماتا ہے۔ اس طرح بڑے شہر کا کھرب پتی حاجیوں کو لوٹ کر دولت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ لوگ طاقتور ہیں ۔ سرمایہ دار ہیں۔ ’’ پیسہ بڑا ہے‘‘ اس لئے نئے حج اپریٹرز کا راستہ روکنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہی حال نجی شعبے کے تعلیمی اداروں کا ہے۔ بڑے سرمایہ داروں نے مہنگے سکول اور کالج کھول رکھے ہیں ۔ سالانہ ڈھائی لاکھ روپے میٹر ک کے طلبہ و طالبات سے لیتے ہیں ۔ ایف ایس سی اور بی ایس کا نرخ 6لاکھ روپے سالانہ سے کم نہیں ۔ ان کے مقابلے میں چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات میں مخیر لوگوں نے معیاری تعلیم کے اداروں میں 24ہزار روپے سے لیکر 36ہزار روپے تک کی سالانہ فیس مقرر کی ہے۔ بعض ادارے ایسے ہیں ۔ جن کی فیسیں 20ہزار روپے سالانہ سے بھی کم ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ کھرب پتی سرمایہ دار چھوٹے اور درمیانہ درجے کے سرمایہ لگانے والے کو راستے سے ہٹانا چاہتا ہے۔ تاکہ اس کی اجارہ داری پر ضرب نہ لگے اور وہ اپنی من مانی کرسکے ۔ چونکہ ’’ پیسہ بڑا ہے ‘‘ بڑ ے سے بڑا وکیل کرتا ہے۔ عدالت سے حکمنامہ لینا اُس کے بائیں ہاتھ کی کچی انگلی کا کام ہے۔ مگر مچھوں کا کہنا یہ ہے کہ چترال ، سوات ، لکی مروت ، مانسہرہ اور بونیر میں معیاری تعلیم کی سستے فیسوں کی وجہ سے ان کی اجارہ داری ختم ہورہی ہے۔ اس لئے سستی فیسوں والے سکولوں اور کالجوں کو بند کرو۔ صرف بھاری فیسوں والے اداروں کو کام کرنے دو۔ اس کے دو فائدے ہوں گے۔ سرمایہ کھرب پتی تاجر کی جیب میں جائے گا۔ متوسط طبقہ معیاری تعلیم سے محروم ہوجائے گا۔ کھرب پتی سرمایہ دار اس ملک کے متوسط اور سفید پوش طبقے کا کوئی بھی حق تسلیم نہیں کرتا۔ بلکہ سفید پوش اور متوسط طبقے کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے سرمایہ داروں کی لائی ہوئی ہر حکومت میں متوسط طبقے کا استحصال کر تاہے۔ اب بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔ موجودہ حکومت ایک ماہ بعد گھر جائے گی تو اس کی کارکردگی پر ایک ریستوران کے مہمان کا وہ قصہ صادق آئے گا۔ مہمان ایک میز پر تھوڑی دیر کے لئے بیٹھا۔ اس دوران پانی کا گلاس اُس کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا۔ مہمان کرسی سے اُٹھا اور جانے لگا تو بیرے نے آواز لگائی ’’ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا دس روپے ‘‘ ہمارے حکمران اپنی پہلی اور آخری حکمرانی ختم کرکے رخصت ہوں گے۔ تو غیبی ہاتف یہی آواز لگائے گا۔ ہمارے مگرمچھ اس دور میں جتنے طاقتور ہوئے پہلے کبھی ایسے نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے شر سے متوسط طبقے کو ، ملک کو اور قوم کو محفوظ رکھے۔

Facebook Comments