59

نیب چترال کی طرف بھی توجہ کرے منتخب نمائندوں ، بیورکریٹ اور دیگر افراد کے اثاثوں کی چھان بین کرے وفاق اور صوبے سے ملنے والے فنڈز کی تحقیق ازحد ضروری ہے۔ مولانا عبدالاکبر چترالی

پشاور(نمائندہ آوازچترال)نیب چترال کی طرف بھی توجہ کرے منتخب نمائندوں ، بیورکریٹ اور دیگر افراد کے اثاثوں کی چھان بین کرے وفاق اور صوبے سے ملنے والے فنڈز کی تحقیق ازحد ضروری ہے کہ کتنے پیسے ملے کہاں کہاں خرچ ہوئے، تعمیراتی کام کا معیار کیا ہے ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے رہنما سابق ممبر قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے المرکز الاسلامی پشاور سے جاری کردہ ایک اخباری بیان میں کیا ہے انہوں نے ان لوگوں کا بھی محاسبہ ہونا چاہیے جو چترال کے جنگلات کو کبھی ونڈ فال کبھی سنو فال اور کبھی چترال انڈس پالیسی کی آڑ میں ستیا ناس کردیاہے یہ سلسلہ 2010سے 2017ء تک جاری رہا جنگلات کی اس بے دریغ کٹائی و تباہی میں عوامی نیشنل پارٹی اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتیں ملوث رہی ہیں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں صرف ارندو جنگل سے لاکھوں مکعب فٹ عمارتی لکڑی انڈ س پالیسی کے تحت کاٹی گئی انہوں نے کہا کہ چترال میں رہنے والے چترالیوں کو اپنے مکان تعمیر کرنے کے لیے 60، 70فٹ عمارتی لکڑی لانے کا بھی پرمٹ لینا ہوتا ہے وہ بھی دربدر ٹھوکریں کھانے اور سفارش کے بعد ملتاہے انہوں نے کہا کہ 2015کے سیلاب سے متاثرہ لوگ اب بھی عمارتی لکڑی کا پرمٹ نہ ملنے کی وجہ سے اپنے مکانات تعمیر نہ کر سکے انہوں نے نیب پاکستان سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام امور کی چھان بین کر کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔

Facebook Comments