63

پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن منیجمنٹ ایسوسی ایشن۔ضلعے کی سطح پر سکروٹنی کمیٹی میں آئی ایم یو کی ڈی ایم او کو سربراہ بنانے کی بجائے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر کو سربراہ بنایا جائے۔ وجیہ الدین

چترال ( نمائندہ آوازچترال) نجی سکولوں کی تنظیم پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن منیجمنٹ ایسوسی ایشن(پیما) نے پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی (پسرا) کے طریقہ کار کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کے بھر پو ر مخالفت کا اعلان کردیا اور احتجاج کے طور پر پیر سے دودنوں کے لئے سکولوں کو احتجاجاً بند کردیا۔ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیما کے صدر وجیہ الدین ، جنرل سیکرٹری محمد اسماعیل ، فنانس سیکرٹری رحمت اللہ رازی ، مسرور علی شاہ، سردار احمد ،عتیق الرحمن اور دوسروں نے کہاکہ حکومت نے محکمہ تعلیم کے این جی اوز کے حوالے کرنے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے تعلیم دشمن اقدامات کرنا شروع کردیا ہے اور پرائیویٹ سکولوں کی حوصلہ شکنی اور ان کی انتظامیہ کو بے جا تنگ کرنے کا وطیرہ اپنا یا ہوا ہے اور انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کو ان پر مسلط کرنے کا غیر دانشمندانہ فیصلہ کردیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ضلعے کی سطح پر سکروٹنی کمیٹی میں آئی ایم یو کی ڈی ایم او کو سربراہ بنانے کی بجائے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر کو سربراہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم یو کے ذریعے حکومت نے اپنے ادارے ٹھیک نہ کرسکے تو اب اس کا رخ پرائیویٹ اداروں کی طرف موڑ دیا ہے تعلیمی اداروں کی سکروٹنی اور ان کے ان کے انتظام وانصرام کے معاملے کو تعلیم سے متعلق لوگوں کی بجائے بیوروکریسی کے حوالے کرنا سراسر تعلیم دشمنی ہے جسے پرائیویٹ تعلیمی ادارے کبھی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہاکہ غیر ملکی این جی اوز کی پالیسیاں ہم پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے اور پرائیویٹ سکولوں کے انتظامیہ کو بے جا تنگ کرکے انہیں احتجاج پر اکساکر امن وامان کا مسئلہ پیدا نہ کرے۔ پریس کانفرنس میں ضلع بھر سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے سربراہاں کثیر تعداد میں موجود تھے۔

Facebook Comments