50

فوزیہ بے قصور ہے …محکم الدین ایونی

تحریک انصاف نے پانچ سال پہلے چترال کی ایک چھوٹی سی این جی او میں کام کرنے والی بی بی فوزیہ کو جب خواتین کی مخصوص نشست کیلئے نامزد کرکے صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر بیٹھایا ۔ تو ہر ایک چترالی نہ صرف تحریک انصاف کی اس فراخدلانہ عنایت پر حیرت زدہ تھا ۔ بلکہ اس کی تعریف کرنے پر مجبور تھا ۔ لیکن پانچ سال گزرنے کے بعد جس غیر شائستہ ، غیر سیاسی اور غیر اخلاقی طریقے سے اُسی خاتون کے سیاسی کرئیر کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ وہ نہ صرف قابل مذمت ہے ۔ بلکہ ناقابل قبول بھی ہے ۔ میڈیا پر تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے اعلان کے حوالے سے دیگر متاثر ممبران اسمبلی کے حلقوں کے لوگ جس رائے کا اظہار کریں ۔ وہ یقیناًاُن کی صوابدید پر ہے ،لیکن چترال کے اہل دانش کا کہنا ہے کہ بی بی فوزیہ جیسی ایک پاکدامن خاتون پر ووٹ بیچنے کا الزام لگا کر پورے چترال کی شرافت ، دیانتداری اور ایمانداری پر جو کالی ضرب لگائی گئی ہے ۔ وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ اور چترال کے لوگوں کیلئے یہ عمل سبکی اور شرمندگی کے ساتھ ساتھ ناقابل برداشت ہے ۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو پارٹی سربراہ کی حیثیت سے فیصلے کرنے کا اختیار ہے ۔ لیکن جس طریقے سے ممبران اسمبلی پر الزامات لگا کر بغیر صفائی کا موقع فراہم کرنے کے اُن کا میڈیا ٹرائل شروع کیا گیا ۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے ۔ کہ انتہائی مہارت کے ساتھ سازش تیار کی گئی اور تحقیقات کی آڑ میں اُن افراد کو پارٹی سے باہر نکالنے کی راہ ہموار کی گئی ۔ جو موجودہ وزیر اعلی کی راہ میں رکاوٹ تھے ، جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا ۔ کہ تحقیقات کے بعد اُن کو شو کاز نوٹس دیے جاتے اور تسلی بخش جواب نہ دینے کی صورت میں پارٹی اصولوں کے مطابق کاروائی کی جاتی ، اُس کے بعد اُن کے نام میڈیا کے سامنے پیش کئے جاتے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ کہ ہمارے ملک میں ہارس ٹریڈنگ کا لفظ نیا نہیں ہے ۔ سینٹ کے انتخابات جب بھی ہوئے ، پیسے کا بے دریغ استعمال ہوا ۔ اور ہر ممبر نے اس پر ہاتھ صاف کیا ۔ اب کے بار پاکستان تحریک انصاف کے ممبران جس طرح بکے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ کہ اس پارٹی میں بھی نظریہ کم اور پیسہ زیادہ چلتا ہے ۔ اس کے باوجود عمران خان کی طرف سے اپنے ممبران کا احتساب ایک اچھا قدم ہے ۔ لیکن جو طریقہ اپنایا گیا ۔ اُسے ہرگز صحیح نہیں کہا جا سکتا ۔ جس میں ملزموں کو سزا پہلے سنائی گئی اور شو کاز نوٹس بعد میں دی جارہی ہے ۔ اگر کوئی بندہ قصور وار نہیں ہے ۔ تو میڈیا میں اُن پر الزام لگانے کے بعد وہ اپنی بے گناہی کے بارے میں کس کس کو قائل کر سکتا ہے ۔ جبکہ اُس کی تذلیل پوری قوم کے سامنے پہلے کی گئی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف چترال کی ایم پی اے بی بی فوزیہ جو اس الزام کی زد میں آچکی ہیں ۔ کی طرف سے پشاور پریس کلب میں میڈیا کے سامنے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے کے بعد اُن کی بے گناہی ثابت ہوتی ہے ۔ اور اس بات کو تقویت ملتی ہے ۔ کہ اُنہیں ایک سازش کے تحت شامل کیا گیا ہے ، کیونکہ خان صاحب اُن کی بطور ممبر صوبائی اسمبلی نمایندگی سے مطمئن تھے ۔ اور چترال سمیت کئی مقامات پر عمران خان نے بی بی فوزیہ کے بطور ممبر صو بائی اسمبلی کردار کی بہت تعریف کی ۔ اور دوسری خواتین ممبران کو بھی اُس کی تقلید کی ہدایت کی ۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے ۔ جو صوبائی سطح پر پارٹی کے بعض ہائی اتھارٹیز کو پسند نہیں تھی ۔ اور اُن کو ووٹ بیچنے والوں میں شامل کرکے اُس کے مستقبل کا راستہ روکا گیا ۔ اورخان صاحب کی طرف سے فوزیہ بی بی کیلئے اعلان کردہ جنرل سیٹ کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی ۔ فوزیہ بی بی اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے عزم کا اظہار کر چکی ہے ۔ وہ عدالت جانے کیلئے تیار ہے ۔ الیکشن کمیشن میں بھی اس حوالے سے اپنی درخواست دے چکی ہے ۔ اور سب سے بڑی عدالت جس پر تمام مسلمانوں کا ایمان ہے ۔ قرآن پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے اپنی بے گناہی کا ثبوت دیا ہے ۔

Facebook Comments