55

آمدن سے زائد اثاثے،نیب نے پرویز مشرف کے خلاف انکوائری کی منظور ی دے دی

اسلام آباد(  آوازچترال آن لائن )قومی احتساب بیورو(نیب)نے آمدن سے زائد اثاثے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں سابق صدر پرویز مشرف کےخلاف انکوائری کی منظوری دے دی۔نیب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں مختلف شخصیات کےخلاف انکوائری کی منظوری دی گئی۔ نیب اعلامیہ کے مطابق پرویز مشرف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر انکوائری کی منظوری دی گئی ہے۔نیب اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹو بورڈ نے بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں وفاقی وزیر ہاوسنگ اکرم درانی کے خلاف بھی انکوائری کی منظوری دی ہے جبکہ ان کے ہمراہ پی ایچ اے فاونڈیشن کے ایم ڈی اور سی ای او کے خلاف بھی انکوائری کی منظوری دی گئی ہے۔نیب اعلامیہ کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں مسلم لیگ (ق) کے رہنما پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی کے خلاف بھی پاناما پیپرز میں آف شور کمپنی بنانے اور بدعنوانی کے الزام میں انکوائری کی منظوری دی گئی ہے۔اس کے علاوہ سابق چیئرمین سی ڈی اے امتیاز عنایت الہٰی کے خلاف کرپشن کا ریفرنس دائرکرنےکی منظوری دی گئی جبکہ کیوبا میں پاکستانی سفیر کامران شفیع کے خلاف بھی انکوائری کی منظوری دی گئی ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹو بورڈ نے سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو عبداللہ یوسف کے خلاف بھی انکوائری کی منظوری دی ہے، ملزم کے خلاف پاناما میں آف شور کمپنی بنانے اور بدعنوانی کا الزام ہے۔حصص کی قیمتوں میں ردوبدل پر بینک آف پنجاب کے صدر اور دیگر کیخلاف انکوائری کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چیف مکینکل انجینئر سی اینڈ ڈبلیو ریلوے عدنان شفیع اور دیگر کیخلاف بھی انکوائری کی منظوری دی گئی ہے۔ عدنان شفیع اور دیگر کیخلاف کوئلہ منتقلی کیلئے 1405 ہوپرویگنیں خریدنے کے الزام ہے۔ان شخصیات کے علاوہ جہانگیر صدیقی اور تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان کیخلاف بھی انکوائری کی منظوری دی گئی ہے۔ جہانگیر صدیقی کیخلاف سرمایہ کاری میں خورد برد کا الزام ہے جبکہ عبدالعلیم خان کیخلاف آف شور کمپنی بنانے اور بد عنوانی کے الزام کی انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔

Facebook Comments