90

تنخواہ 5لاکھ اور کام صفر ، کام نہیں کرنا تو استعفیٰ دیدو‘‘ خیبرپختونخواہ میں صحت کی سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایسا حکم جاری کر دیا کہ عمران خان کے بھی ہوش اڑ جائینگے

 پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں صحت کی سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت،تنخواہ 5لاکھ اور کام صفر، چیئرمین خیبرپختونخواہ ہیلتھ کیئر کمیشن کی کارکردگی پر چیف جسٹس کا اظہار برہمی، ہیلتھ کمیشن کام نہیں کر سکتا تو استعفیٰ دیدیں، صوبے سے تمام عطائیوں کے کلینکس بند کرنے کا حکم دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹسکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آج سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں صحت کی سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیئرمین ہیلتھ کیئر کمیشن عدالت میں پیش ہوئے۔ چیئرمین ہیلتھ کیئر کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ صوبے بھر میں 15ہزار عطائی موجود ہیں۔چیف جسٹس نے سوا ل کیا کہ عطائیوں کے خلاف آپ نے کتنی کارروائیاں کیں اور کتنے عطائیوں پر پابندی لگائی گئی۔ چیئرمین ہیلتھ کیئر کمیشن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 122عطائیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کی ڈیوٹی ہے کہ آپ عطائیوں کے خلاف ایکشن لیں، آپ کی کتنی تنخواہ ہے؟چیئرمین نے بتایا کہ وہ پانچ لاکھ تنخواہ لیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ تنخواہ آپ کی پانچ لاکھ روپے ہے اور کام صفر ہے ،ہیلتھ کمیشن کیا کام کر رہا ہے ،کام نہیں کر سکتا تو استعفیٰ دے۔ چیف جسٹس نے ایک ہفتے میں صوبے بھر سے عطائیوں کے کلینکس بند کرنے اور ان کے خلاف ایکشن لینے کا حکم جاری کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ طلب کر لی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ہفتے میں اتائیوں خلاف ایکشن چاہیے،اسٹے آردڑ جاری نہیں کریں گے۔جس نے اسٹے آرڈر لینا ہے وہ سپریم کورٹ آئے ۔ چیف جسٹس نے احکامات جاری کرنے کے بعد سماعت ملتوی کر دی۔صاف پانی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ پشاوررجسٹری میں صاف پانیفراہمی کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کےدوران استفسار کیا کہ آپ کے پاس نہ لیب ہے اور نہ ہی اعلی مشینری ہے ،پانی کیسے ٹیسٹ کرواتے ہیں ۔انہوں نے پشاور کے پانی کے نمونے لے کر پنجاب سے ٹیسٹ کروانے کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس نے پانی کے نمونے پشاور کے مختلف علاقوں سے حاصل کر کے انہیں ٹیسٹ کروانے کیلئے پنجاب بھیجنے کی ہدایت جاری کی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس نے پشاور رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کے دھواں دھار دورے بھی کیے۔چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت کو ادھورا چھوڑ کر الرازی ہسپتال پہنچ گئے جہاں انہوں نے ہسپتال،کالج میں انتظامات کا جائزہ لیا اور ساتھ مریضوں سے حال احوال بھی دریافت کیے۔اس دوران وہاں آئے مریضوں نے چیف جسٹس کے سامنے شکایات کے انبار لگا دئیے

Facebook Comments