68

ٹیلنٹ کی بات

رپورٹ(منور علی)بات جب ٹیلنٹ کی ھوتی ھے.تو جناب….یہ قدرت کی طرف سے انسان کے اندر سمویاہواایک انمول خزانہ اور صلاحیت ہوتا ہے جسکو اگر خلوص دل کے ساتھ ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لئے مستعمل کی جائےتو یہ ٹیلنٹ ملک و قوم کے لئے وجہ فخر سربلندی بن جاتا ہے..انسانیت کے جذبے سے سرشار اگر کوئی بن آدم اپنےاندر کسی صلاحیت کو بغیر کسی غرض و لالچ کے معاشرے پر طاری اوقات آفات میں انسانیت کے مصائب و تکالیف کے ازالے کےلئے مستعمل کرے تو اسکو ملک وقوم کےلئے ایک قیمتی اثاثہ کہنے پر ہی اکتفا کر لیں گے..بروز سے تعلق رکھنے والےاحتشام نامی درویش طبیعت و صفات کے مالک ایک ایسے جوان جسکو خالق کائنات نے بےپناہ ٹیلنٹ سے نواز رکھا ھے.موصوف حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ نعت خوانی میں بھی اپنا ایک مقام رکھتا ہے.لیکن سب سے بڑھ کر جو ایک غیر معمولی ٹیلنٹ اسکے اندر ہے وہ دریائے چترال کی دھاڑتی ہوئی موجوں اور بہتی ہوئی لہروں کو اپنے سینے اور بغلوں کے نیچے شکست دے کر ہرسال کئی دریا برد لاشوں کو ان کے ورثا کے حوالے کرکے اپنے آپکو ایک غیر معمولی تیراک منانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا ہے.موصوف بغیر کسی خوف و ڈر کے دریائے چترال کی جوانی کے ساتھ کھیلنے کا فن خوب جانتا ہے.کل ہی کی بات ھے کہ اس نے دریا کی بےلگام موجوں اور لہروں کو اپنے سینے کے نیچے مات دے کے بروز کے حدود میں تین لاشوں کو متعلقیں کے حوالے کر دیا.ستم ظریفی کی بات ھے کہ اس بہادر جوان کو کوئی حکومتی سرپرستی حاصل نہیں ھے حلانکہ حکومت کے اپنے تربیت یافتہ تیراک بھی اسکے Swimming Talent کے معترف ہیں.بصورت مطالبہ اور درخواست تمام ضلعی افسران اورعہدیداروں خصوصاً ڈپٹی کمشنرچترال کے نام کرتاہوں کہ اس بہادر جوان کو چترال لیویز میں بھرتی کی جائے یا اسکو اسکی کوائف کے مطابق کوئی دوسری ملازمت عطاکی جائے تاکہ یہ جوان مزید دلچسپی کے ساتھ حکومتی سرپرستی میں وقت آنے پر اپنی ٹیلینٹ سے حکومت اور عوام کو مستفید کر سکے.

Facebook Comments