125

دھڑکنوں کی زبان…. اہتمام خشک و تر …….محمد جاوید حیات

چترال کی تاریخ میں شاید یہ دورانیہ آجا ئے کہ چترال سے تین ایم پی اے اور ایک ایم این اے ایوانوں میں بیٹھے ہونگے۔۔ہم بہت امیدوں کے خواب سجاتے رہے ۔۔مجھ جیسے قلمکار نے ان کے اقتدار میں آتے ہی فوزیہ کو چترال کی بیٹی کہہ کر کالم لکھا ۔۔پیارے سلیم خان کے عنوان سے لکھا ۔۔شہزادہ افتخار پہ لکھا ۔سردار حسین صاحب کی تعریفیں کی ۔۔ہمارا کام یہ ہے کہ خواب سجائیں ۔۔ایک امید کے سہارے اپنے جذبات کا اظہار کریں ۔ کسی نے رسپانس نہیں کیا ۔۔ہمیں اس سے کام نہیں ۔۔لیکن لیڈر شپ کے پیچھے جو سوچ ہوتی ہے ۔۔جو دیکھنے والی آنکھیں ہوتی ہیں وہ اس کے زاد راہ ہوتی ہیں ۔۔اس کو سوچنا ہوتا ہے کہ معاشرے میں غریب میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں ۔۔محروم و مقہور کیا کہتے ہیں۔۔ قلمکا ر کیا لکھتے ہیں ۔۔منبرو محراب والے کیا کہتے ہیں ۔۔لیڈر کی چار آنکھیں ہوتی ہیں ۔۔دو آنکھیں اپنے ارد گرد منڈلاتے پتنگوں اور چٹختے چمچوں کو دیکھتی ہیں اور دو آنکھیں معاشرے میں موجود اس سمجھدار اور حساس طبقے کو دیکھتی ہیں کہ ان کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں ۔۔۔لیڈر کی آنکھوں پہ پردہ نہیں ہوتا ۔۔مگر ہمارے لیڈر وں میں اس چیز کا فقدان ہے ۔۔ان کی شاید پارٹی ترجیحا ت ہی ایسی ہیں کہ وہ کسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کسی کی اچھی کوشش کو قبول کرنے کی جرات نہیں رکھتے ۔۔اس لئے اس چار سال کے دورانیے میں ہماری آنکھیں اکثر تماشا دیکھتی رہیں ۔جابجا افتتاح کی بورڈ لگی ہوئی ہیں ۔۔درمیان میں دست مبارک لکھا ہوا ہے ۔۔کھینچا تانی ہے ۔۔اپنا منہ میان میٹھو ہے ۔۔نعرے الاپنا ہے ۔۔تواریخ دھرانی ہے ۔۔میں نے بڑی بڑی پارٹیوں کے بڑے بڑے لیڈروں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ ۔۔۔سٹریٹ پالیٹکس آپ کیسے کہتے ہیں ؟۔۔اکثر نے میری کم مائیگی دیکھ کر جواب دینے کی زحمت ہی نہیں کی ۔۔ایک ادھ نے کارکنوں کی فغالیت کہا ۔۔ایک لیڈر نے بڑے طمطراق سے کہا ۔۔کہ اس کو پالیٹکس کی زبان میں پروپگنڈا کہتے ہیں اُنھوں نے بسمارک ۔۔میکاویلی وغیرہ کے حوالے دے کر مجھ پر اپنی علمیت ظاہر کرنے کی کوشش کی ۔۔میں نے کہا کہ سر قربان جاؤں کہ مدینے کی گلیوں میں رات کی تاریکی میں آٹا کی بوری کندھوں پہ اُٹھائے پھیرنے والی سیاست سیاست کی کونسی قسم تھی وہ توآمیر المومنیں تھے اس کے پاس بھی تو لیڈر شپ تھی ۔ لیڈر کی زبان تو گونگ تھی لیکن میں نے یہ کہتے ہوئے اپنی راہ لی ۔۔کہ سٹریٹ پالیٹکس صرف بے لوث خدمت کو کہتے ہیں ایسی خدمت میں نقاب کشائی ۔۔ساین بورڈ ۔۔لمبی چوڑی تقریر ۔۔نعرے الاپنا ۔۔کارکردگی گننا نہیں ہوتا ۔۔خدمت خود بولتی ہے ۔۔بے شک بہت سارے کام ہوئے ۔۔سکول بنے کالجز بنے ۔۔یونیورسٹی کے لئے کوششیں ہوئیں ۔۔بجلی آئی ۔۔ٹنل بنا ۔۔سڑکیں بنیں ۔روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ۔۔اداروں میں تبدیلی نظر آنے لگی ۔۔لیکن ان کاموں کی تشہیر اتنی ہوئی کہ عام آدمی کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کس نے کیا کیا کیا ۔۔ہر ایک اپنی راگ الاپتا ہے ۔۔اگر ہمارے نمائندے کبھی سر جوڑ کر چترال کی ترقی پر سوچتے ۔۔ایسی مہذب سیاست کو فروغ دیتے ۔۔پبلک میں آکر چاروں کھڑے ہوکر ایک دوسرے کی کوششوں کو سراہتے ۔مر کز اور صوبے میں کاموں کو مل کے کرتے ۔۔صوبہ مرکز کی راہ میں روڑے نہ اٹکاتا اور مرکز صوبے کی سطح پر اس پسماند ہ ضلع کے لئے کوششوں کو سراہتاتو ہم سیاسی کھینچاتی کا شکار نہ ہوتے ۔۔اس بار ہمارے نمائندے بہت با صلاحیت تھے ۔۔تعلیم یافتہ اور باشعور تھے ۔۔وہ یہ سب کچھ کر سکتے تھے ۔۔انھوں نے اس روایت کو قائم کرنے میں شاید کامیاب نہیں ہوے ۔۔سیاست میں ’’سیادت ‘‘ کی جو جوہر ہوتی ہے وہ انفرادی سوچ ۔۔زاتی مفاد ۔۔ڈھیڑ انچ کی مسجد کی فکر ۔۔اپنی سیٹ کی لالچ ۔۔اپنے اقتدار کی آرزو سے بلاتر ہوتی ہے ۔۔۔جس نے کوئی اچھا کام کیا ہے اگر اس پر آنکھیں بند کر کے تنقید ہوتی ہے تو افسوس ہوتا ہے ۔۔تم سب اچھے ہو کیونکہ تم ہمارے ہو ۔۔تم سے شکوہ کرنا ہمارا حق ہے ۔۔چترال میں کم از کم ایسی سیاست پنپ لے کہ دوسری قومیں اس کی مثال دیں ۔۔ہر چترالی اپنی رائے میں آزاد ہے اس پر شکر ہے کہ کسی بڑے کا کوئی پریشر نہیں ۔۔اس لئے اس قوم کو لیڈر شپ ایسی مخلص چاہئے کہ وہ اس پسماندہ قوم کے حقوق کے لئے لڑتے رہے ۔۔اس کی سڑکیں ایسی پختہ ہوں کہ سینکڑوں کی عمر پائیں ۔۔اس کے ہسپتال صاف ستھرے ہوں ۔۔اس کے تعلیمی ادارے جا بجا ہوں ۔۔اس کی پولیس مضبوط ہو ۔۔اس اداروں میں کرپشن نہ ہو ۔۔ایسا نہیں کہ ایک تورکھو روڈ پہ سینکڑوں گھپلے ہوں ۔۔ایسا نہیں کہ ایک دن ہسپتال صاف ستھرا ہو دوسرا دن اسی طرح گندگی کا ڈھیر ہو ۔۔ایسا نہیں کہ ایک دن تعلیمی ادارے میں کام ہو اور دوسرے دن معماراں قوم نو دو گیارہ ہو جا ئیں ۔۔ایسا نہیں کہ پولیس بائیک والوں کو ہلمٹ پہنانے اور اُتارنے میں سالوں لگائے ۔۔ایسا نہیں کہ ٹمبر مافیا عروج پر ہو ۔۔ایسا نہیں کہ سی این ڈبلیو اور واپڈا کا پوچھنے والا کوئی نہ ہو ۔۔ایسا نہیں کہ ٹھیکہ داروں کے وارے نیارے ہوں اور یہ سب تماشا قومی نمائندہ دیکھتا رہے ۔۔لیڈر کا کام اہتمام خشک و تر ہے ۔۔اس کا فرض ہے کہ حالت سنبھالے اور سنوارے ۔۔اگر ایسی سیاست کو فروغ دیا جائے تو سیاست پنپتی بھی ہے اور تہذیب بھی فروع پاتی ہے ۔۔۔
اس راز کو ایک مرد فرنگی نے کیا فاش
ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے
’’جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں
مردوں کو گنا کرتے ہیں تولا میں کرتے ‘‘ اقبال ؒ
Facebook Comments