80

متحدہ مجلس عمل کے دور حکومت میں بونی تور کہو روڈ پر تعمیراتی کا م کا آغازہوا تھا گیارہ سال گزر جانے کے باوجود مذکورہ پرا جیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچانا دور کی بات ، اس پر پچاس فی صد کام بھی نہیں ہواہے۔ر مولانا عبد الاکبر چترالی

پشاور(نمائندہ آوازچترال)چترال این اے ۔1 سے جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل کے نامزد امید وار مولانا عبد الاکبر چترالی نے بونی تور کہوروڈ میں تعمیراتی کام کی بندش اور مالکان جائیداد کو ادائیگی نہ ہو نے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ۲۰۰۶ ؁ء میں متحدہ مجلس عمل کے دور حکومت میں بونی تور کہو روڈ پر تعمیراتی کا م کا آغازہوا تھا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ گیارہ سال گزر جانے کے باوجود مذکورہ پرا جیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچانا تو دور کی بات ، اس پرا جیکٹ پر ابھی تک محض پچاس فی صد کام بھی نہیں ہو امزید ستم ظریفی یہ کہ غریب لوگوں سے سیکشن فور لگا کر زمینیں تو حاصل کرلی گئی ہیں لیکن تاحال ان متأ ثرین کو ادائیگی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے ڈیڑھ لاکھ کی آبادی میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور ڈیڑھ لاکھ کی آبادی کو آمد و رفت میں شدید مشکلات ہیں یہی وجہ ہے کہ تحصیل تور کہو کے باشندوں نے پندرہ اپریل ۲۰۱۸ ؁ء سے پہیہ جام ھڑتال اور مین روڈ بلاک کرنے کی ڈیڈ لائن دی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ یہ صوبائی حکومت کے ماتھے پر ایک بد نما داغ ہو گا کہ حکومت کے آخری دنوں میں حکومت ہی کی ناکامیوں کے خلاف لوگ سڑکوں پر آئیں اور موجودہ حکومت مردہ باد کے نعرے لگائیں انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت بلا تاخیر بونی تور کہو روڈ پر دوبارہ فوری تعمیراتی کام شروع کرے اور زمین مالکان کو فوری ادائیگی یقینی بنائے بصورت دیگر اگر کوئی بھی نا خوشگوار واقعہ پیش آیا اور امن و امان کا مسئلہ پید اہو ا تو اس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت ، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو پر ہو گی ۔

Facebook Comments