93

چترال یونیورسٹی میں ایک سال کے اندر جو کامیابی حاصل کی ہے ۔ دوسری یونیورسٹیاں اپنے قیام کے دس سالوں کے اندر بھی وہ مراحل طے نہیں کر سکے ۔ ڈاکٹر بادشاہ منر بخاری

چترال ( نمایندہ آوازچترال ) پانچ روزہ انٹر نیشنل باٹنی کانفرنس کے آخری روز چترال یونیورسٹی کی یوم تاسسیس شاندار طریقے سے منایا گیا ۔ اور یہ تقریب محفل مشاعرہ ،آتش بازی اور ثقافتی شو کے ساتھ اختتام پذیر ہو ا ۔ تقریب میں ضلع ناظم چترال حاجی مغفرت شاہ ، پروفیسر ڈاکٹر میری اُوٹایونیورسٹی امریکا ، پروفیسر چائنا یونیورسٹی، امیر جماعت اسلامی مولانا جمشید احمد ، ڈاکٹر عبدالرشید ، ڈاکٹر محمد سراج ، پرنسپل صاحب الدین ، سابق پرنسل مقصوداحمد ، عبدالولی ایڈوکیٹ سمیت تقریبا ڈیڑھ ہزار افراد نے شرکت کی ۔ جس میں خواتین کی بہت بڑی تعداد شامل تھی ۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منر بخاری نے چترال یونیورسٹی کی ایک سالہ کارکردگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا ۔ کہ چترال یونیورسٹی میں ایک سال کے اندر جو کامیابی حاصل کی ہے ۔ دوسری یونیورسٹیاں اپنے قیام کے دس سالوں کے اندر بھی وہ مراحل طے نہیں کر سکے ۔ اور یہ کامیابی یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبرز ، سپورٹنگ اسٹاف ، طلبہ اور چترال کے تمام لوگوں کے بھر پور تعاون کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ علاقوں اور شہروں کی پہچان یونیورسٹیوں سے ہوتی ہے ۔ اور چترال یونیورسٹی چترال کی پہچان بنتی جا رہی ہے ۔ تاہم اس کو آگے کئی معرکے سر کرنے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے ۔ کہ یونیورسٹی ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے این او سی حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے ۔ اور ایک ہزار سٹوڈنٹس پڑھ رہے ہیں ۔ چترال یونیورسٹی صوبے کی 29یونیورسٹیوں میں انٹر نیشنل کانفرنس منعقد کرنے میں تیسرے نمبر پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں پائے جانے والے نباتات کی ڈیجیٹائزیشن اور ڈاکومنٹیشن کے بعد علاقے کو ادویات سازی کے حوالے سے خصوصی اہمیت حاصل ہوگی ۔ اور علاقے میں معاشی خوشحالی آئے گی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے طلباء و طالبات کو سکالر شپ پر بیرون ملک اعلی تعلیم کیلئے بھیجا جائے گا ۔ اور اُن کیلئے 30 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ، اس کے علاوہ دُنیا کی دیگر یونیورسٹیوں سے بھی تعاون حاصل کرنے میں ہمیں کامیابی ہوگی ۔ انہوں نے چترال یونیورسٹی کی نئی بلڈنگ کی تعمیر اور فیوچر پلان سے بھی حاضرین کو آگاہ کیا ۔ اور یونیورسٹی کو آگے لے جانے میں اُن سے رہنمائی اور مدد کے توقع کا اظہار کیا ۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر نے یونیورسٹی چترال کی تعمیرو ترقی میں بھر تعاون کرنے پر صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال یونیورسٹی میں کالاش کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات کو مفت تعلیم فراہم کی جائے گی ۔ جس کیلئے صوبائی حکومت نے فنڈ فراہم کیا ہے ۔ اس موقع پر مہمانان ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ ، پرنسپل صاحب الدین ، عبدالولی ایڈوکیٹ وغیرہ نے چترال یونیورسٹی میں شاندار یوم تا سیس اور انٹر نیشنل کانفرنس منعقد کرنے پر ڈاکٹر بادشاہ منیر بُخاری اور اُن کی ٹیم کی تعریف کی ۔ اور اسے ایک بہت بڑی کامیابی قرار دیا ۔ بعد آزاں مشاعرے کی نشست ہوئی ۔ جس کے مہمان خصوصی ممتاز ادیب وشاعر اور مصنف امین الرحمن چغتائی تھے ۔ محفل مشاعرہ میں چترال کے مایہ ناز شعراء کرام شاعرہ فریدہ سلطانہ فری ، حفیظ اللہ امین، ظفر اللہ پرواز ، غلام رسول بیقرار ، محمد شفیع شُفاء،ناجی خان ناجی ، خالد بن ولی ، سید نذیر حسین شاہ ، صلاح الدین طوفان ، حاجی اکبر حیات ، سعادت حسین مخفی ، ذاکر محمد زخمی ، عنایت اللہ اسیر ، فضل الرحمن شاہد ، محبو ب الحق حقی ، جناھ الدین پروانہ ، اکبر علی عاطف اور ظہورالحق دانش نے اپنے کلام پیش کئے ۔ اور حاضرین سے خوب داد وصول کی ۔ اس موقع پر شعراء اور یونورسٹی سپورٹنگ سٹاف میں یونیورسٹی کی طرف سے شیلڈ تقسیم کئے گئے ۔ بعد آزان یوم تاسیس کی خوشی میں آتشبازی کا مظاہرہ کیا گیا ۔ اور چترال سکاؤٹس بینڈ اور میوزیکل ٹیم کے تعاون سے کلچرل شو منعقد کیا گیا ۔
عبدالغفار چترال

Facebook Comments