80

این ایف سی میں آبادی کے بجائے غربت و پسماندگی کے بنیاد پر وسائل تقسیم ہو۔ مرکز 20 فی صد اور صوبوں کو 80 فی صد وسائل دیے جائیں ۔ فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ کیے بغیر اور صوبے میں اضمام کیے بغیر صوبہ خیبر پختونخوا کا معیشت مستحکم نہیں ہوسکتا۔ بے روزگاری صوبے کا اہم مسئلہ رہا ہے ۔ عنایت اللہ خان کاچیمبر آف کامرس سے خطاب

پشاور ( نمائندہ آوازچترال )سینئر وزیر بلدیات و دیہی ترقی خیبرپختونخوا وپارلیمانی لیڈ رجماعت اسلامی عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ جب تک فاٹا کے عوام کے قسمت کا فیصلہ نہیں کیا جاتا اور فاٹا کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم نہیں کیاجاتا ۔ صوبے کے معیشت مستحکم نہیں ہوسکتی ۔ بے روزگاری صوبہ خیبرپختونخوا کا اہم مسئلہ رہا ہے جس کے خاتمے کے لیے انقلابی اقدامات ناگزیر ہیں ۔وفاق چھوٹے صوبوں کا ان کا حق نہیں دے رہا ہے۔ جب تک وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی نہیں بنایا جاتا عوام کی محرومیوں میں اضافہ ہوتارہے گا اور پسماندہ علاقوں اور چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی بڑھتا رہے گا۔این ایف سی کو آبادی کے بجائے غربت اور پسماندگی کے بنیاد پر تقسیم کیا جائے اور وسائل میں مرکز کے لیے 20 فی صد جب کہ صوبوں کے لیے 80 فی صد حصہ رکھا جائے ۔بجلی کی خالص منافع، این ایف سی ، گیس اور پٹرولیم اورپاک چین اقتصادی راہداری کے لئے سیاست سے بالا تر ہوکر کام کی ضرورت ہے۔زراعت ، چھوٹے صنعتوں کے قیام اور معدنی وسائل پر جدید انداز میں کام کر صوبے سے بے روزگاری کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے ۔ وہ پشاور میں سرحد چیمبر آف کامرس کے زیر انتظام آل پارٹی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ آل پارٹی کانفرنس میں تما م سیاسی جماعتوں کے نمائندوں ، سرحد چیمبر آ ف کامرس کے عہدیداران اور تاجران نے شرکت کی ۔ سینئرو زیر عنایت اللہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بجلی کے خالص منافع کے مد میں خیبرپختونخوا کے اربوں روپے واجب الادا ہے۔ وفاقی حکومت اس کی آدائیگی میں مسلسل رکاوٹ ہے اگر جلد از جلد خیبرپختونخوا کو بجلی کے خالص منافع کے تمام واجبات ادا نہ کیے گئے توصوبہ خیبرپختونخوا کی ترقی مخدوش ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں قدر تی وسائل اور معدنیا ت کے بے پنا ہ ذخائر مو جود ہیں ۔انہیں بروئے کار لا کرصوبے کی معیشت کو بہتر بنا یا جائے ۔نو جو انوں کے لئے با عزت روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا ۔

Facebook Comments