57

سانحہ حویلیاں کی تحقیقاتی رپورٹ کے اجراء میں تاخیر کے خلاف ہائی کورٹ میں رٹ دائر

پشاور ( آوازچترال رپورٹ)حویلیاں فضائی حادثے کی رپورٹ جاری نہ کرنے اور شہداء کے لواحقین کو مروجہ قوانین کے تحت معاوضے کی ادائیگی کے لئے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ درخواست دائر کردی گئی۔ چترال سے رکن قومی اسمبلی شہزادہ افتخارالدین اور عدنان زین العابدین کی طرف سے بیرسٹر اسدالملک نے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی ہے جس میں سیکرٹری شہری ہوا بازی، پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنز، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 7دسمبر 2016کو چترال سے اسلام آباد جانے والے پی آئی اے کی پرواز پی کے 661کو حویلیاں کے قریب حادثہ پیش آیا تھا جس میں جنید جمشید، ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ وڑائچ سمیت 42مسافر اور عملے کے پانچ افراد شہید ہوئے تھے۔ ایک سال سے زیادہ عرصہ گذرنے کے باوجود اس اندوہناک فضائی حادثے کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آسکی۔ اور شہداء کے لواحقین حادثے کی وجوہات معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی پریشانی سے دوچار ہیں۔درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت بتائے کہ دستور پاکستان اور مروجہ بین الاقوامی قوانین کے تحت شہداء کے لواحقین کو معاوضے کے طور پر کتنی ادائیگیاں کی گئیں۔ یہ رٹ درخواست آئین پاکستان کے آرٹیکل 199کے تحت دائر کیا گیا ہے۔ جس میں عدالت عالیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ سانحہ حویلیاں کی تحقیقاتی رپورٹ جاری کرنے کے احکامات دیئے جائیں۔ اور رپورٹ کے اجراء میں تاخیر کی وجوہات بتائی جائیں۔متاثرین کے احساس محرومی کا ازالہ کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور آئندہ ایسے المناک سانحات روکنے کے لئے مناسب پیش بندی کی جائے۔

Facebook Comments