59

 اسلام آباد ( آوازچترال) سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیض آباد دھرنے پر آئی ایس آئی کی جانب سے جمع کرائی جانے والی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے 2 ہفتوں میں جامع رپورٹ طلب کرلی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ آئی ایس آئی کو تو معلوم ہی نہیں کہ کون کون ہے؟، انٹیلی جنس ادارے کی ایسی رپورٹ دیکھ کر مجھے خوف آرہا ہے اگر کسی صحافی سے پوچھتے تو زیادہ معلومات دے دیتا ۔
جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل سپریم کورٹ کے2 رکنی بینچ نے فیض آباد دھرنے کے سو موٹو کیس کی سماعت کی، دوران سماعت عدالت نے آئی ایس آئی کی فیض آباد دھرنے کے حوالے سے جمع کرائی جانے والی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا فیض آباد میں دھرنا دینے والے شخص کا کاروبار اور ذریعہ معاش کیا ہے، کیا خادم رضوی ٹیکس دیتا ہے، کیا اس کا بینک اکاﺅنٹ ہے، کیا وہ چندے سے نظام چلا رہے ہیں؟۔ یہ تمام چیزیں اس رپورٹ میں موجود نہیں ہیں ، ملک کی اعلیٰ ترین ایجنسی کی رپورٹ سے عدالت مطمئن نہیں، انٹیلی جنس ادارے کی ایسی رپورٹ دیکھ کر  ملکی تحفظ کے حوالے سے مجھے خوف آرہا ہے اگر کسی صحافی سے پوچھتے تو زیادہ معلومات دے دیتا ۔آئی ایس آئی کے نمائندے کرنل فلک ناز نے عدالت کو بتایا کہ خادم رضوی خطیب ہیں اور چندے سے گزر بسر کرتے ہیں جوتفصیلات مانگی تھیں وہ تحریری طور پر جمع کرادی ہیں۔

Facebook Comments