52

چترال میں جنگلا ت اور قدرتی نباتات کی اہمیت اور ان کی ماحول پر اثرات

پروفیسرحسام الدین گورنمنٹ ڈگری کالج چترال

پاکستان 796096 مربع کلو میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ایک اہم ملک ہے رقبے کے لحاظ سے یہ دُنیا کا 36 واں اور تقریباً21 کروڑ آبادی کے ساتھ دُنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے ہمارے ملک کا تقریباً 59فیصد حصہ پہاڑوں اور سطح مرتفع پر مشتمل ہے جبکہ صرف 38% زمین قابل کاشت ہے پاکستان میں صرف 4.5 تا 4.8% فیصد زمین جنگلات ہیں پاکستان میں جنگلات کا کل رقبہ 42240 مربع کلو میٹر ہے.
جنگلات کے رقبے کے لحاظ سے پاکستان دُنیا میں 79 نمبر پر ہے لیکن ہمارے جنگلات ایک اندا زے کے مطابق ہر سال 5% کم ہو تے ہیں یعنی ہرسال 39 ہزار ہکٹرپر جنگلات ختم ہو رہے ہیں ۔
چترال پاکستان کا سب سے شمالی ضلع ہے اور یہ خیبر پختونخواہ کا سب سے بڑا ضلع ہے جس کا رقبہ 14850 مربع کلو میٹر ہے لیکن یہاں کی آبادی کافی کم یعنی حالیہ مردم شماری کے مطابق تقریباً 447000 افراد پر مشتمل ہے آبادی کی گنجا نت 30 افراد فی مربع کلو میٹر ہے جبکہ پاکستان میں آبادی کی گنجا نیت 2017میں 2063 افراد فی مربع کلومیٹر تھی۔ کسی بھی علاقہ کے قدرتی نباتا ت اور جنگلات کے انحصار تین عوامل پر ہے ۱۔ درجہ حرارت ۲۔ بارش ۳۔ مٹی یا زمین کی کیفیت ۔ بہتر نشو نما کے لئے ان تینوں عوامل کا موزوں ہو نا ضروری ہے چترال میں گرمی کا موسم مختصر ہوتا ہے سال کا اوسط درجہ حرات 15.6 ڈگری سیٹی گریڈ ہے گرم ترین مہینہ جولائی ہے جسکا اوسط درجہ حرات 26.1 ہے جنو ری سردترین مہینہ ہے جس میں اوسط درجہ حرارت 4.1ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔سردیاں لمبے ہوتے ہیں اس لئے پودوں کے نشو نما کا سیزن مختصر ہوتا ہے چترال میں سالانہ اوسط بارش 418 ملی میٹر بنتا ہے مارچ اپر یل میں 140 تا 146 mm کے ساتھ سب سے زیادہ بارش والے مہینے ہیں جبکہ جولائی صرفmm 6 کے ساتھ سب سے خشک مہینہ ہے چترال 200 میل لمبے علاقے پر پھیلا ہوا ضلع ہے یہاں ارندو سطح سمندر سے 1094 میٹر اور تریچ میر 7726 میٹر بلند ہے یہاں پہاڑ اور گلیشےئر 76% سے زیادہ رقبے پر پھیلے ہو ئے ہیں چترال میں جنگلات کا کل رقبہ 72 ہزار سے 90 ہزار ہکٹر ہے جبکہ 36800 ہکٹر پر غیر مربوط جنگلات بھی ہے یہ سب چترال کے کل رقبے کا 4.8% حصہ بناتے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق ایک متابق این متوازن معیشت کے لئے 20 سے 25 فیصد حصے پر جنگلات ہونے چاہیے۔
چترال کے جنگلات زیادہ ترزرین چترال علاقوں تک محدو د ہے کیونکہ چترال بارش کی مقدار شمال کی طرف کم ہوتی جاتی ہے اور اونچھائی کی وجہ سے بھی بہت سے علاقے Tree Line سے اوپر واقع ہے پاکستان کے کل جنگلات کا 32% حصہ ہمارے صوبے میں ہے اور ہمارے ضلع کے جنگلات صوبے کے کل جنگلات کا 24.6% بنا تے ہیں چترال میںe Dry Temperat قسم کے جنگلات پائے جاتے ہیں اگرچہ مختلف اقسام کے درخت یہاں موجود ہیں لیکن دیودارOak (شاہ بلوط) کے درخت خصوصی اہمیت رکھتے ہیں اور ساتھ ساتھ کچھ پھل دار غیر پھلدار درخت بھی لوگوں کی ذاتی ملکیت میں ہیں ہمارے قدرتی نبا تات اور جنگلات Deforestation اور Overgrazing کی وجہ سے بہت تیزی سے ختم ہو رہے ہیں دیودار کی نرم قیمتی لکڑی عماراتی مقاصد کے لئے اور شاہ بلوط کی درخت جلانے کے لئے بہت بے دردی سے کاٹے جارہے ہیں Forest Deptt کے مطابق سالانہ 911203 ٹن جلانے کی لکڑی چترال میں استعمال ہوتی ہے اور 1964 سے 1990 کے دوران 8709905 معکب فٹ عمارتی لکڑی کاٹی گئی اس کے بعد اس شرح میں مز ید اضافہ ہوا ہے جنگلات کی اس طرح تباہی ہمارے لئے بہت سے گھمبیرمسائل پیدا کئے ہیں اور مزید مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔
جنگلات کی اہمیت :
ایک معاشی ماہر کا قول ہے کہ ایک ملک سوناور چاندی کے بغیر ترقی کرسکتا ہے مگر جنگلات کے بغیر نہیں جنگلات ہمارے لئے کئی طریقے سے اہمیت رکھتے ہیں ۔مثلاً 1۔جنگلات ہمارے ایند ھن کے ضرورت کو پورا کرتے ہیں یہ ہمارے ملک کے 53% گھر یلو ایند ھن کے ضروریات کو پورا کرتے ہیں اور ہمارے ہاں 80% سے زیادہ گھروں میں لکڑی جلا کر حرارت حاصل کی جاتی ہے ۔
2 ۔ جنگلات سے ہم عمارتی لکڑی فرنیچر سازی اور دوسرے مقاصد کے لئے لکڑی حاصل کر تے ہیں ۔
3 ۔ ہم جنگلات سے بہت سے اہم جڑی بوٹیاں حاصل کرتے ہیں جو طبی نقطہ نظر سے اہمیت رکھتے ہیں ۔
4 ۔ دُنیا میں دو ارب سے زیادہ لوگ جنگلات پر انحصار کر کے زندگی گذار تے ہیں ۔
5 ۔ جنگلات سے ہم مختلف قسم کے میوے بیج وغیر ہ حاصل کرتے ہیں ۔
6۔ جنگلات ہمارے صنعتوں کے لئے خام مال مہیا کر تے ہیں ۔مثلاً کاغذ سازی،ماچس سازی اور کھیلوں کے سامان وغیرہ
7 ۔ جنگلات چرا گاہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ۔
8 ۔ جنگلات طو فان کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور بارش برسانے کا سبب بھی بنتے ہیں ۔
9 ۔ جنگلات کے درختوں کے پتے اکسیجن گیس بنا تے ہیں جو ہم سانس لینے میں استعمال کر تے ہیں اور یہ الودگی کو روکتے ہیں یہ خطرناک Green House کا سبب بننے والے گیسوں کو جذب کرتے ہیں ۔
10 ۔ جنگلات کی اہمیت کٹاؤچترال اور دوسرے پہاڑی علاقوں میں یہ بھی ہے کہ مٹی کے کھٹاؤں Soil Erosion کو روکتے ہیں اور Land Sliding کو کافی حدک تک کنٹرول کرتے ہیں چترال میں زمین زیادہ ڈھلو انی ہونے کی وجہ سے تیز بارش کے دوران Flesh Flood کے ساتھ بہت سے کیچڑ اورچٹانی مواد بہہ کر آتے ہیں اوریہ چھٹانی مواد اور کیچڑا اسی علاقے کے گھروں ، فصلوں ، سڑکوں اور باغات کو تباہ وبرباد کرتے ہیں اور انسانی زندگی کے لئے بھی خطر ہ ہے اور یہ مواد آگے جاکر ہمارے ڈیموں کو بھرتے ہیں جس سے اُن میں پانی ذخیر ہ کر نے کی گنجا ئش کم ہو تی جا تی ہے ڈیموں کی عمر کم ہوتی ہے بجلی کی پیدا وار متاثر ہوتی ہے اور ابپاشی کے لئے بھ یپانی کم پڑ تا ہے چترال قدرتی آفات کے لئے ایک حساس علاقہ ہے یہاں زلزلے سیلاب Gluf, Avalanch اور Land Sliding اکثر تباہی مچاتے رہتے ہیں Global Warming کی وجہ سے ہمارے گلیشےئر 30 تا 40 میٹر سالانہ کے حساب سے ختم ہو جاتے ہیں ہم زیادہ سے زیادہ شجر کاری کر کے ان آفات کے اثرات کو کم سے کم کر سکتے ہیں جنگلات کے فو ائد کے بے شمار ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشر ے کا ہر فرد اپنے ذمہ دار ی کو پورا کر ے شجر کاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں درختوں کی کٹائی کی ہر صورت میں حوصلہ شکنی کر ے لوگوں کو ماحول دوست تو انائی کے ذرائع استعمال کر نا چاہیے چترال میں دس ہزار میگا واٹ سے زیادہ پن بجلی پیدا کر نے کی گنجائش ہے زیادہ سے زیادہ پن بجلی پیدا کرکے رعا یتی ریٹ پر لوگوں کو دیا جائے تاکہ ایند ھن کی ضروویات پوری ہو جائے اور درختوں کی کٹا ئی رُک جائے سولر انر جی سے بھی بھر پور استفا دہ کر نا چاہیے سولر Pannel وغیر ہ سستے ریٹ پر مہیا کئے جائے بایو گیس پلانٹس سے بھی استفا دہ کر نے کی کوشش ہونی چاہیے اور TAPI کے گیس کا منصو بہ چترال سے گذارا جائے اور یہاں گیس مہیا کیا جائے اس طرح جنگلات پر دباؤ کم ہوگا اور ہمارا علاقہ قدرتی آفات کی تباہ کاریوں سے کم سے کم متاثر ہو گا خد ا کر ے یہ احساس ہم سب میں پیدا ہو جائے اور ہم سے اس قیمتی اثا ثہ کے بچا ؤ کے لئے اپنا کردار ادا کر سکیں اور شجر کاری بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

Facebook Comments