64

چترال میں خواتین کو ووٹ ڈالنے ، تعلیم حاصل کرنے اور دوسرے سماجی کاموں میں حصہ لینے میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں . سیاست میں بھی بھرپور کردار ادا کررہی ہیں

چترال ( نمائندہ  آوازچترال )بین الاقوامی یوم خواتین کے سلسلے میں جمعرات کے روز سوشل ویلفئیر ، اسپیشل ایجوکیشن اینڈ ویمن ایمپاورمنٹ اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام نے مشترکہ طور پر ایک تقریب کا اہتمام کیاجوکہ گورنمنٹ گرلز کالج کے اڈیٹوریم میں منعقدہوئی جس میں ضلع ناظم مغفرت شاہ مہمان خصوصی تھے جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر منہاس الدین نے صدارت کی ۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین نمائندوں ، معززین شہر اور طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ڈسٹرکٹ افیسرسوشل ویلفئر اینڈ اسپیشل ایجوکیشن نصرت جبین کی طرف سے مہمانوں کی خیرمقدمی کلمات کے بعد اے کے آر ایس پی کے منیجر جینڈر ڈیویلپمنٹ نگہت یاسمین نے کہاکہ اس دن کو یوم خواتین کے طور پر منانے کا پس منظر پیش کرتے ہوئے اس کی اہمیت بیان کی اور خواتین کو بااختیار بنانے کی کاوشوں اور ان کے نتائج پر مختصراً روشنی ڈالی ۔ نصرت جبین نے چترال میں خواتین کو حاصل حقوق کی سطح کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہاکہ چترال میں خواتین کو ووٹ ڈالنے ، تعلیم حاصل کرنے اور دوسرے سماجی کاموں میں حصہ لینے میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہے اور وہ سیاست میں بھی بھرپور کردار ادا کررہی ہیں اور معاشرے میں خواتین کی خاطر خواہ حوصلہ افزائی ہورہی ہے جبکہ خواتین کو درپیش مسائل کے حوالے سے انہوں نے کم عمر خواتین میں خود کشی کے رجحان میں اضافے، اعلیٰ انتظامی عہدوں میں خواتین کی تعیناتی نہ ہو نے، کام کرنے والی خواتین کے لئے ڈے کئیر سنٹر اور ہوسٹل اور خواتین کے لئے یوتھ ریسورس سنٹر کی کمی کا ذکر کیااور ڈی ایچ کیو ہسپتال اور تحصیل ہسپتالوں میں سائیکالوجسٹ کی تعیناتی اور خواتین کی کونسلنگ کرکے خواتین کی خود کشی کے واقعات میں کمی لانے کی ضرورت بیان کی۔انہوں نے حکومت کی طرف سے خواتین کی بہبود کے لئے مختلف initiativesکا بھی ذکر کیا جن میں خصوصی ویب سائٹ کی لانچنگ، فیمل سینئر سٹیزن کی رجسٹریشن، بونی میں دارالامان کا قیام، فارسٹ رائلٹی میں حصہ دینا، ڈی پی ا و آفس میں خواتین اور بچوں کے لئے ہیلپ سنٹرکا قیام، ضلعی حکومت کی طرف سے وظائف کی فراہمی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے کمیشن کا قیام شامل ہیں۔ کم عمر خواتین میں خود کشی کی بڑھتی ہوئی رجحان کے بارے میں اے کے آر ایس پی کے زیر اہتمام کی گئی ایک اسٹڈی کا خلاصہ چترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین نے پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ خواتین کی خودکشی ایک سماجی مسئلے کی صورت اختیار کرگئی ہے جس کے بارے میں بنیادی حقائق کو اے کے آرایس پی کے اسٹیڈی میں سامنے لایا گیا ہے جبکہ اس میں سفارشات بھی پیش کئے گئے ہیں تاکہ اس خوفناک رجحان پر قابو پایا جاسکے۔ اے کے آر ایس پی کے ٹیم لیڈر رضیہ سلطانہ نے خواتین کے اسٹیٹس پر پینل ڈسکشن کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ چترال میں اب بھی خواتین کسی حد تک discriminationکا شکار ہیں اور انہیں سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں وہ کام نہیں دئیے جاتے جن میں چیلنج کے حامل فرائض نہیں دئیے جاتے ، خواتین کو مرد کے مقابلے میں پرائیویٹ سیکٹرمیں کم تنخواہ دئیے جاتے ہیں جبکہ کام کرنے والی خواتین کے تنخواہ ان کے شوہر ، باپ یا بھائی خرچ کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کو فیصلہ سازی سے باہر رکھے جاتے ہیں اور کام کرنے والی خواتین کی کردار کشی بھی ہوتی ہے اور نہ ہی ان کی مناسب حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔ اس موقع پر موجود خواتین کی طرف سے تجاویز اور شکایات بھی سامنے آئے۔ ڈسٹرکٹ ناظم مغفرت شاہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ اس ملک میں اصل مسئلہ مرد یا خواتین کا نہیں بلکہ مسئلہ مسلط نظام کا ہے جس کی وجہ سے ہم زندگی کے ہر شعبے میں متاثر ہیں اور اس نظام کی موجودگی تک ہم متاثر رہیں گے۔ خواتین کی خود کشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو انہوں نے قابل تشویش قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس پر قابو پانے کے لئے ہمیں ہنگامی بنیاد وں پر اقدامات کرنے ہوں گے جبکہ اسلامی تعلیما ت پر عمل پیرا ہوکر ہم اس سے چھٹکارا پاسکتے ہیں جبکہ زمینی حقائق سے چشم پوشی بھی اس مسئلے کو بڑھکادیتی ہے۔ انہوں نے خواتین پر زور دیتے ہوئے کہاکہ نئی نسل کی پرورش وہ ایسے خطوط پرکریں کہ وہ آنے والی چیلنجوں سے عہدہ براہوسکیں کیونکہ لواری ٹنل کی تکمیل ، سی پیک کا متبادل روٹ یہاں سے گزرنے ، اس کا سنٹرل ایشیاء کے ساتھ براہ راست رابطے کے بعد یہاں حالات یکسر تبدیل ہوں گے اور ان حالات میں نئی نسل کو اپنی بقاء کا مسئلہ درپیش ہوگا۔ ضلع ناظم نے خواتین کو ضلعی حکومت کی طرف سے خوشخبری سناتے ہوئے کہاکہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں چترال گروتھ اسٹریٹیجی کے نام سے پانچ ارب روپے کی مالیت کا ایک ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کیا جارہاہے اور خواتین کی ترقی کے لئے اس میں خاطر خواہ حصہ مختص کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چترال منہاس الدین نے اپنے صدارتی خطاب میں خواتین کو اپنے مسائل کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی بجائے بہادری و شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسائل ومشکلات سے نمٹنے پر زور دیا ۔ انہوں نے کہاکہ مشکلات کے سامنے ہتھیارڈالنے اور ہمت ہار بیٹھنے سے مسائل میں مزید اٖضافہ ہوسکتے ہیں اور یہ وقت ہے کہ وہ اپنے آپ کو بدلنے کے لئے ہمت و جرات سے کام لیں اوریہ خواتین کے لئے مخصوص اس دن کا پیغام بھی ہے۔ انہوں نے تقریب کے انعقاد پر سوشل ویلفیر ڈیپارٹمنٹ اور اے کے آر ایس پی کی کوششوں کو سراہا۔ اس موقع پر زندگی کے مختلف شعبوں میں کارہائے نمایان سرانجام دینے والی خواتین میں سوشل ویلفیر ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایوارڈ بھی دئیے گئے جن میں گورنمنٹ گرلز کالج کے پرنسپل مسرت جبین، ڈی او سوشل ویلفیر نصرت جبین، شاہین ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے سابق پرنسپل اسیہ اجمل، وکالت کے پیشے سے منسلک روحیلہ، ہوم بیسڈ بزنس کے لئے دلشاد بی بی، گورنمنٹ گرلز کالج کی ٹیچنگ فیکلٹی کے ممبران ، اے کے آرایس پی کے رضیہ سلطانہ اور نگہت یاسمین، ڈاکٹر سلطانہ ، ڈاکٹر شہنازا ور ایجوکیشن میں نوشابہ شامل تھے۔ شاہین ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے اکاونٹس افیسر روبینہ نے تقریب کی نظامت کی ذمہ داری سرانجام دی۔

Facebook Comments