66

چترال کے سیاسی سماجی اور عوامی حلقوں نے نئی حلقہ بندیوں کے خلاف عدالتی اور احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا

پشاور(نادرخواجہ سے) چترال کے سیاسی سماجی اور عوامی حلقوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں میں چترال کی صوبائی اسمبلی کی ایک نشست ختم کرنے کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف عدالتی جنگ لڑنے اور احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے جبکہ فیصلہ واپس نہ ہونے کی صورت میں الیکشن 2018کے بائکاٹ کی دھمکی دیدی ہے ۔ اس بات کا اعلان گزشتہ روزسی سی ڈی این اور چترال چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام ایم پی ہاسٹل میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں کیا گیا کانفرنس میں پی پی پی کے اراکین اسمبلی سلیم خان ، سردارحسین شاہ ، پی ٹی آئی کی ایم پی اے فوزیہ بی بی ، پی ٹی آئی اپر چترال کے صدر رحمت غازی ، پاکستان مسلم لیگ کے شہزادہ پرویز ، سی سی ڈی این کے کوچئیر مین سرتاج احمد خان ، مسلم لیگ ن کے محمد وزیر جے یو آئی کے مولانا فتح لباری ، محمد جمیل ، محمد سمیع ، جماعت اسلامی کے عبدالحق ، چترال جرنلسٹ فورم کے صدر ذالفقار علی شاہ جنرل سیکرٹری نادرخواجہ ، غفران ایڈوکیٹ ، قاسم ،چترالی بازار کے صدر عبدالرازاق سمیت دیگر معززین علاقہ شریک تھے۔ کانفرنس میں مقررین نے الیکشن کمیشن اور محکمہ مردم شماری کے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو چترال جیسے پشماندہ علاقے کے ساتھ نا انصافی قرار دیا اور کہا کہ چترال رقبے کے لحاظ سے صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہے جہاں دو ایم پی اے کی بجائے مزید سیٹ کی ضرورت تھی لیکن غلط مردم شماری میں آبادی کو کم ظاہر کرکے اس پسماندہ ضلع کے عوام کو عوامی نمائندگی کے بنیادی حق سے محروم کردیا گیا جس کو چترال کے عوام کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے کانفرنس میں غفران ایڈوکیٹ کی سربراہی میں وکلاء پر مشتمل پینل تشکیل دی گئی جو اس اقدام کے خلاف الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کرے گی اور اعلی عدالت میں بھی اس فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا۔ کانفرنس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سیٹ کی عدم بحالی کی صورت میں آنے والے عام انتخابات کے مکمل بائکاٹ کا اعلان ہوگا۔کانفرنس میں کہا گیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین چترال کے کونے کونے میں جاکر اپنے حق کے حصول کے لئے ضلع کے عوام کو متحرک کریں گے۔ چترالی عوام اپنے جائز حقوق کے حصول کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے جبکہ اس حوالے سے ملکی سطح پر مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بھی متحرک کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ فوری طور پر وکلاء کا پینل مردم شماری و الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کی جائے گی چترالی عوام تمام چترال میں سیاہ پٹیان باندھ کر اپنے احتجاج ریکارڈ کرے گی۔ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں پارٹی سربراہان ، ایم پی اے ، ایم این اے بشمول ضلع ناظم مختلف پارٹیوں کے مرکزی قائدین سے رابطہ کرکے اس مسئلے کو عوامی سطح پر اجاگر کیا جائے گا۔صوبائی اسبملی کی طرح ڈسٹرکٹ اسمبلی اور تحصیل اسمبلی میں بھی اس فیصلے کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کی جائے گی کانفرنس سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے ضلع ناظم نے ہر قسم کی جدوجہد کی یقین دہانی کرائی اور کانفرنس کے شرکاء کو اس جدوجہد پر خراج تحسین پیش کیا۔

Facebook Comments